رموز بے خودی

خویش دار و خویش باز و خویش ساز

خویش دار و خویش باز و خویش ساز

نازہا می پرورد اندر نیاز

ترجمہ

خودی خود دار ہے، خود کو ظاہر کرنے والی ہے اور اپنی تعمیر خود کرنے والی ہے۔ وہ نیاز مندی کے اندر بھی ناز اور بلندی پروان چڑھاتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خودی کی خود داری، خود انحصاری اور اس کے باطنی وقار کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی نہ کسی کی محتاج ہے اور نہ عاجزی میں اپنا وقار کھوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

خودی کی خود داری:

خودی کسی دوسرے کی محتاج نہیں، وہ خود دار ہے اور اپنی ذات پر قائم رہتی ہے۔ وہ اپنی قوت اور اپنے وسائل کے بل پر کھڑی رہتی ہے۔

یہی خود داری اسے پستی اور محتاجی سے بچاتی ہے اور اسے ایک باوقار حیثیت عطا کرتی ہے۔

خود کو ظاہر اور تعمیر کرنا:

خودی اپنے وجود کو خود آشکار کرتی ہے اور اپنی شخصیت کی تعمیر بھی خود ہی کرتی ہے۔ وہ کسی سہارے کی منتظر نہیں رہتی بلکہ اپنے اندر سے اپنا راستہ بناتی ہے۔

یہ خود سازی خودی کی سب سے بڑی خوبی ہے، جس سے وہ مسلسل نکھرتی اور بلند ہوتی رہتی ہے۔

نیاز میں ناز کی پرورش:

خودی عاجزی اور نیاز مندی کے اندر بھی اپنے وقار اور بلندی کو پروان چڑھاتی ہے، یعنی جھک کر بھی اپنی عظمت اور عزتِ نفس کو قائم رکھتی ہے۔

وقار اور عاجزی کا امتزاج:

اقبال کے نزدیک حقیقی خودی وہ ہے جو عاجزی میں بھی اپنی عزت نہ کھوئے اور ناز و نیاز کے درمیان توازن قائم رکھے۔

مثال

جیسے ایک باوقار انسان دوسروں کے سامنے ادب اور انکسار سے جھک کر بھی اپنی عزتِ نفس اور خود داری قائم رکھتا ہے، ویسے ہی خودی نیاز مندی میں بھی اپنے ناز اور وقار کو سنبھالے رکھتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خودی خود دار، خود ساز اور خود آشکار ہے، اور نیاز مندی میں بھی اپنے ناز اور وقار کو پروان چڑھاتی ہے، یہی اس کی اصل عظمت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button