رموز بے خودی

ملت بیضا تن و جان لالہ

ملت بیضا تن و جان لالہ

ساز ما را پردہ گردان لالہ

ترجمہ

ملتِ بیضا کے تن و جان میں لالہ کی حرارت اور رمز پوشیدہ ہے، اور یہی لالہ ہمارے ساز کے لیے نغمہ اور پردہ پیدا کرنے والا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں “لالہ” کو ایک بلند علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فارسی اور اقبالی روایت میں لالہ صرف ایک پھول نہیں بلکہ سوز، داغ، حریت، باطنی حرارت اور زندہ احساس کی نشانی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ملت کی اصل زندگی اسی سوزمند کیفیت سے وابستہ ہے، اور اسی سے اس کے نغمے، اس کی آواز اور اس کی تہذیبی لے قائم ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

لالہ کی علامتی حیثیت:

لالہ ایک ایسا پھول ہے جو اپنے اندر داغ بھی رکھتا ہے اور رنگ بھی۔ اقبال کے نزدیک یہ داغ محض زخم نہیں بلکہ باطنی سوز کی علامت ہے۔ ایسی حرارت جو انسان کو بےحسی سے نکال کر بیداری، عشق اور حرکت کی طرف لاتی ہے۔ جب وہ ملت کے تن و جان کو لالہ کہہ رہے ہیں تو مراد یہ ہے کہ امت کی اصل حیات کسی سرد اور جامد کیفیت میں نہیں، بلکہ ایک زندہ، جلتی ہوئی، بامقصد روح میں ہے۔

گویا ملت اگر زندہ ہے تو اس کی وجہ اس کے اندر کا وہ سوز ہے جو اسے حق کے لیے حساس، متحرک اور بیدار رکھتا ہے۔

ملتِ بیضا کا مفہوم:

“ملتِ بیضا” سے مراد وہ روشن اور پاکیزہ امت ہے جس کی بنیاد توحید پر ہو۔ “بیضا” میں سفیدی، روشنی اور نمایانی کا معنی پایا جاتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم سمجھیں یہ ملت محض سیاسی یا نسلی اجتماع نہیں، بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے جس کا جسم بھی معنی رکھتا ہے اور جان بھی۔ جب اس کے تن و جان میں لالہ کی کیفیت آتی ہے تو اس کی اجتماعی زندگی محض ڈھانچہ نہیں رہتی بلکہ اس میں احساس، مقصد اور جمال پیدا ہوتا ہے۔

اس طرح شاعر ملت کے وجود کو جمالیاتی، روحانی اور عملی تینوں سطحوں پر ایک ساتھ سمجھاتے ہیں۔

ساز اور پردہ کی تعبیر:

“ساز ما را پردہ گردان” ایک گہری تہذیبی تعبیر ہے۔ ساز تبھی بجتا ہے جب اس کے پردے صحیح ہوں۔ اسی طرح ایک ملت بھی تبھی اپنے نغمے کو صحیح طور پر ادا کر سکتی ہے جب اس کے اندر کی حرارت، اس کا اخلاقی شعور اور اس کی روحانی لے درست ہو۔ لالہ اس ساز کا پردہ اس معنی میں ہے کہ وہ ملت کے اظہار، اس کی تہذیب، اس کی شاعری، اس کی جرات اور اس کے اجتماعی وجدان کو آہنگ عطا کرتا ہے۔

یعنی امت کی آواز محض الفاظ سے نہیں بنتی، بلکہ اس اندرونی سوز سے بنتی ہے جو اس کے ہر اظہار کو معنی دیتا ہے۔

سوز اور تخلیق کا تعلق:

اقبال کے نزدیک جہاں حقیقی سوز ہوتا ہے وہاں تخلیق پیدا ہوتی ہے۔ بےسوز دل نہ بڑا فن پیدا کرتا ہے، نہ بڑی تہذیب، نہ بڑی قربانی۔ لالہ اس سوز کا استعارہ ہے جس سے فکر بھی روشن ہوتی ہے، فن بھی پیدا ہوتا ہے، اور کردار بھی سنورتا ہے۔ اسی لیے شاعر ملت کے ساز کو اسی لالہ کے پردوں سے وابستہ کر رہے ہیں۔

یہ سبق فرد پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کی موسیقی اسی وقت صحیح نکلتی ہے جب اس کے اندر دردِ حق اور سچائی کی حرارت موجود ہو۔

اجتماعی زندگی کا پیغام:

یہ شعر امت کو خبردار بھی کرتا ہے اور امید بھی دیتا ہے۔ خبردار اس لیے کہ اگر اس کے دل سے سوز چلا جائے تو اس کی آواز بےاثر ہو جائے گی، اور امید اس لیے کہ اگر اس کے باطن میں لالہ کی حرارت باقی ہو تو وہ دوبارہ اپنا آہنگ پا سکتی ہے۔ کسی قوم کی اصل قوت اس کے وسائل سے پہلے اس کے باطن کے نغمے میں ہوتی ہے۔

پس ملت کا تن و جان اسی وقت زندہ رہتا ہے جب اس کے اندر عشق، غیرت، احساس اور حق کی تپش موجود ہو۔

مثال

ایک ساز خود اپنی لکڑی یا تاروں کی وجہ سے قیمتی نہیں ہوتا، بلکہ اس فنکار کے لمس اور اس سچے سر کی وجہ سے معنی پاتا ہے جو اس میں جان ڈال دے۔ اسی طرح قوم کا اجتماعی وجود صرف آبادی یا اداروں سے نہیں، بلکہ اس باطنی سوز سے زندہ ہوتا ہے جو اس کے اظہار کو سچا اور مؤثر بناتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ملت کی اصل جان لالہ جیسے سوزمند اور بیدار باطن میں ہے۔ یہی حرارت اس کے تن و جان کو زندگی دیتی ہے اور اسی سے اس کی تہذیب، اس کا نغمہ اور اس کا اجتماعی آہنگ درست رہتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button