تیغ لا چون از میان بیرون کشید
تیغ لا چون از میان بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید
ترجمہ
جب اس نے “لا” کی تلوار نیام سے باہر نکالی تو اس نے اربابِ باطل کی رگوں سے خون کھینچ لیا۔
تشریح
اقبال یہاں “لا الٰہ” کے پہلے حرف، یعنی نفیِ باطل، کو تلوار کی صورت میں دکھاتے ہیں۔ یہ نہایت گہرا اور انقلابی استعارہ ہے۔ کربلا میں امام حسین نے صرف اپنی جان نہ دی، بلکہ “لا” کو عملی قوت میں بدل دیا۔ اس “لا” نے باطل حاکموں کی معنوی شہ رگ کاٹ دی، ان کے دینی جواز کو ختم کیا، اور ان کی استبدادی قوت کو رسوا کر دیا۔ شعر کے مطابق:
تیغِ لا:
“لا” توحید کا انکاری پہلو ہے: خدا کے سوا ہر جھوٹے معبود، ہر استبدادی دعوے، ہر باطل اطاعت کی نفی۔ اقبال اس “لا” کو تلوار کہتے ہیں، کیونکہ یہ نفی صرف ذہنی نہیں، فیصلہ کن اور قاطع ہے۔ امام حسین نے یزیدی نظام کے باطل ہونے کے سامنے خاموشی اختیار نہ کی؛ انہوں نے “لا” کو زبان، موقف، سفر، قربانی اور خون میں ڈھال دیا۔
یوں کلمہ تلوارِ معنی بن جاتا ہے۔
از میان بیرون کشید:
نیام سے تلوار نکلنے کا مطلب ہے کہ اب نفیِ باطل محض دل کی کیفیت یا نجی اعتقاد نہ رہی؛ وہ میدان میں آ گئی۔ اقبال کے نزدیک یہ مرحلہ بہت اہم ہے۔ بہت سے لوگ “لا” کہتے ہیں، مگر جب اسے عملاً کھینچنے کا وقت آتا ہے تو خاموش رہ جاتے ہیں۔ حسینیت کی عظمت یہ ہے کہ اس نے “لا” کو تاریخ میں کام کرتے ہوئے دکھایا۔
یہی وجہ ہے کہ کربلا نظری کلمے کو زندہ اقدام میں بدل دیتی ہے۔
اربابِ باطل کی رگ:
باطل طاقتیں صرف ہتھیار سے نہیں جیتتیں؛ وہ جواز، خوف، رسمیت اور دینی پردوں سے بھی اپنے وجود کو قائم رکھتی ہیں۔ جب حسین نے “لا” کی تیغ کھینچی تو ان کی یہی رگ کٹ گئی۔ وہ اب حق کے نمائندے دکھائی نہیں دے سکے۔ اقبال کا مقصود یہی ہے کہ کربلا نے باطل کے جسم سے زیادہ اس کے جواز کو زخمی کیا۔
یہ معنوی قتل باطل کے لیے سب سے بڑا زخم ہے۔
توحید کی سیاسی قوت:
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ “لا الٰہ” صرف عبادتی ذکر نہیں، استبداد شکنی کی قوت بھی ہے۔ جب مسلمان واقعی “لا” کو سمجھ لے تو وہ باطل اقتدار کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ حسینیت نے اسی “لا” کو امت کی سیاسی و روحانی زندگی میں دوبارہ زندہ کیا۔
اس لیے کربلا کلمۂ توحید کی بیدار شمشیر ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی باطل کئی صورتوں میں آ سکتا ہے: طاقت، جھوٹ، استحصال، مقدس ناموں کے پیچھے چھپا جبر، یا خود پرستی۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ان سب کے مقابلے میں “لا” کی تیغ چاہیے، یعنی ایسا انکار جو دل میں بھی ہو اور زندگی میں بھی۔
اسلامی حریت اسی وقت سچی ہوگی جب “لا” صرف زبان پر نہ رہے بلکہ باطل کے جواز کو بھی کاٹ سکے۔
مثال
جب کوئی شخص یا جماعت کسی ظالمانہ مگر رائج نظام کے خلاف کھل کر یہ اعلان کرے کہ یہ حق نہیں، اور پھر اس اعلان کی قیمت بھی ادا کرے، تو وہ اپنے دور کی “تیغِ لا” کھینچ رہی ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امام حسین نے “لا” کی تیغ کھینچ کر باطل کے جواز اور استبدادی رگ کو زخمی کر دیا۔ کربلا اس طرح توحید کے انکاری پہلو کی زندہ سیاسی و روحانی تفسیر بن جاتی ہے۔