Home / علامہ اقبال شاعری / نگاہ وہ نہيں جو سرخ و زرد پہچانے
Nigah Wo Nahi Jo Surakh o Zard Pechany

نگاہ وہ نہيں جو سرخ و زرد پہچانے

نگاہ وہ نہيں جو سرخ و زرد پہچانے
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہيں
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا! يہ مقام انتہائے راہ نہيں
کھلے ہيں سب کے ليے غربيوں کے ميخانے
علوم تازہ کي سرمستياں گناہ نہيں
اسي سرور ميں پوشيدہ موت بھي ہے تري
ترے بدن ميں اگر سوز ‘لاالہ’ نہيں

سنيں گے ميري صداخانزاد گان کبير؟
گليم پوش ہوں ميں صاحب کلاہ نہيں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے