دشمنان بی دست و پا از هیبتش
دشمنان بی دست و پا از هیبتش
لرزه بر تن از شکوه فطرتش
ترجمہ
اس کی ہیبت سے دشمن بے بس ہو جاتے تھے، اور اس کی فطرت کے جلال سے ان کے جسموں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس باطنی عظمت کو بیان کرتے ہیں جو محض ظاہری طاقت کا نتیجہ نہ تھی بلکہ فطرتِ سلیم، صداقت، یقین، وقار اور نبوی جلال سے پیدا ہوئی تھی۔ یہ ہیبت کسی ظالمانہ دبدبے کی ہیبت نہیں، بلکہ اُس سچائی کی ہیبت ہے جو باطل کو اس کے اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جس ہستی کی فطرت ہی اتنی جلال آفرین ہو کہ دشمن کانپ اٹھیں، اس کی ہجرت کو خوف سے جوڑنا سطحی اور غلط تعبیر ہے۔ شعر کے مطابق:
ہیبت کا مفہوم:
ہیبت کا تعلق محض جسمانی قوت سے نہیں ہوتا۔ کئی لوگ تلوار رکھتے ہیں مگر دلوں پر اثر نہیں رکھتے، اور کئی ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جن کے پاس سچائی، وقار اور یقین کا ایسا نور ہوتا ہے کہ وہ دلوں میں رعب پیدا کر دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک رسول اکرم کی ہیبت اسی دوسری قسم کی تھی: باطن کی طاقت سے پیدا ہونے والی ہیبت۔
یہ ہیبت جبر سے نہیں، حق کی حضوری سے جنم لیتی ہے۔
بی دست و پا ہونا:
دشمنان کا “بی دست و پا” ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ باطل کے پاس بعض اوقات ظاہری ساز و سامان بہت ہوتا ہے، مگر حق کے سامنے اس کے اعصاب ٹوٹ جاتے ہیں۔ جب دل کے اندر سچائی نہ ہو تو بڑا لشکر بھی باطنی کمزوری نہیں چھپا سکتا۔ حضور کے مقابلے میں یہی حال ہوا: ان کی شخصیت کی معنوی قوت نے مخالفین کو اندر سے کمزور کیا۔
بہت سی شکستیں میدان میں نہیں، ضمیر میں شروع ہوتی ہیں۔
شکوه فطرت:
“فطرت” یہاں نبوی سرشت، سچائی، پاکیزگی، توازن اور الٰہی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ حضور کی فطرت میں کوئی تصنع، کوئی مصنوعی خودنمائی اور کوئی نفسانی پیچیدگی نہ تھی۔ یہی سادگی، یہی صفا اور یہی مکمل حق آشنائی ان کے وجود کو ایسا جلال دیتی تھی کہ دشمن بھی اسے محسوس کیے بغیر نہ رہتے۔
فطرت جب حق کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہو جائے تو اس کی خاموشی بھی دلیل بن جاتی ہے۔
ہجرت کے معنی پر اثر:
اقبال اس شعر کو ہجرت کے سیاق میں لا کر ایک مضبوط استدلال قائم کرتے ہیں۔ اگر رسول اکرم کی ہیبت دشمن کو بے دست و پا کر دیتی تھی، تو پھر یہ سمجھنا کہ وہ صرف دشمن کے خوف سے نکلے، واقعے کو الٹا پڑھنا ہے۔ ہجرت ضعف کا نہیں، حکمت کا عمل تھی۔ یہ ہٹنا نہیں، ایک بڑی تعمیر کے لیے اپنی قوت کو نئے مرحلے میں داخل کرنا تھا۔
کبھی کبھی ظاہری انتقال دراصل باطنی غلبے کی نئی صورت ہوتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر طاقت کو صرف مادی پیمانوں میں ناپتے ہیں: وسائل، تعداد، میڈیا، دولت یا ریاستی پشت پناہی۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت باطنی صداقت، شخصیت کے وقار، اور فطرت کی سچائی سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر فرد یا جماعت اپنے مقصد میں سچی ہو تو اس کا اثر مخالف کی گہری نفسیات تک پہنچتا ہے۔
اسلامی خودی کو اپنے جلال کے لیے پہلے اپنے باطن کی صفائی درکار ہوتی ہے۔
مثال
کبھی ایک سچا، باوقار اور اصولی انسان کسی بڑے عہدے یا لشکر کے بغیر بھی ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ طاقت ور لوگ اندر سے ہل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ الفاظ سے زیادہ شخصیت کی صداقت ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسول اکرم کی نبوی ہیبت اور فطرت کا جلال دشمنوں کو اندر سے کمزور کر دیتا تھا۔ اس لیے ہجرت کو خوف کی علامت نہیں بلکہ بلند حکمت کی صورت میں سمجھنا چاہیے۔
