تا نهال «تب علینا» غنچه بست
تا نهال «تب علینا» غنچه بست
صورت کار بهار ما نشست
ترجمہ
جب “ہم پر توجہ فرما” کی پود نے غنچہ باندھا، تو ہماری بہار کے کام کی صورت بن گئی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں دعا، توبہ، رجوع اور امت کی آئندہ بہار کے درمیان ایک گہرا ربط قائم کرتے ہیں۔ “تب علینا” میں بندے کی طرف سے خدا کی طرف رجوع اور خدا کی رحمت کی امید دونوں شامل ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب یہ رجوع ایک زندہ پودے کی طرح پھوٹا اور اس میں غنچہ آیا، تب ہماری اجتماعی بہار کے آثار بننے لگے۔ شعر کے مطابق:
“تب علینا” کی روح:
یہ الفاظ صرف زبانی دعا نہیں بلکہ پورے باطن کا پلٹنا ہیں۔ بندہ یہ اقرار کرتا ہے کہ اصل زندگی خدا کی طرف رجوع میں ہے، اور اپنی خطا، کمزوری یا دوری کے باوجود اسی کے در پر لوٹنا نجات کا راستہ ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کی تعمیر صرف قانون، سیاست یا اجتماع سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اندر رجوع اور توبہ کی زندہ روح بھی ضروری ہے۔
جب یہ روح پیدا ہو تو تاریخ میں نئی زندگی کی شروعات ممکن ہو جاتی ہیں۔
نہال اور غنچہ کیوں:
شاعر دعا کو نہال اور غنچہ کہتا ہے، یعنی یہ چیز وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، پھلتی ہے اور بہار لاتی ہے۔ ابتدا میں پودا نازک ہوتا ہے، مگر اگر اسے سچا پانی ملے تو وہ پورا باغ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک سچا رجوع پہلے دل میں ایک کیفیت بن کر آتا ہے، پھر فرد کی اصلاح، گھر کی اصلاح، اور ملت کی اصلاح تک پھیل سکتا ہے۔
اقبال اس نباتاتی تصویر سے یہ جتاتے ہیں کہ روحانی تبدیلی بھی حیات آفریں اور تدریجی ہوتی ہے۔
بہارِ امت کی تیاری:
“صورت کارِ بہار ما نشست” میں یہ اشارہ ہے کہ امت کی بہار محض خارجی انقلاب سے نہیں آتی۔ اس کی اصل صورت پہلے دلوں میں بنتی ہے، دعا میں بنتی ہے، رجوع میں بنتی ہے۔ جب بندگی، ندامت اور امید مل کر خدا کی طرف پلٹتی ہیں تو ایک ایسی داخلی بہار کا آغاز ہوتا ہے جو بعد میں تاریخ کے موسم بدل سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال بہار کی جڑ کو توبہ کے نہال سے جوڑتے ہیں۔
روحانی زراعت کا اصول:
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ رسالت انسان کے اندر ایسی زمین تیار کرتی ہے جہاں دعا اور رجوع اگتے ہیں۔ اگر دل بنجر ہو، تکبر سے بھرا ہو، یا غیر اللہ کی طرف جھکا ہو، تو نہال نہیں پھوٹتا۔ مگر جہاں دل خدا کی طرف جھکے، وہاں غنچہ بندھتا ہے، اور وہی غنچہ آگے چل کر اجتماعی بہار کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
پس ملت کی تاریخ میں رحمت کا آغاز اکثر خاموش دعا اور ٹوٹے ہوئے دل سے ہوتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
ہم اکثر امت کی بہار کو صرف بڑے نعروں، بڑی تحریکوں یا بڑے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل بہار دل کے رجوع سے شروع ہوتی ہے۔ اگر “تب علینا” کی روح نہ ہو تو ظاہری حرکت بہت دور نہیں لے جاتی۔ لیکن اگر یہ رجوع سچا ہو تو چھوٹی شروعات بھی بڑی تاریخ بنا سکتی ہیں۔
یہ شعر امید دیتا ہے کہ بہار کی صورت آج بھی بن سکتی ہے، بشرطیکہ دل کا نہال پھر خدا کی طرف جھک جائے۔
مثال
کسی بگڑے ہوئے گھر یا ادارے کی اصل اصلاح اکثر اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی ایک شخص سچے دل سے غلطی مان کر تبدیلی کی طرف پلٹے۔ یہی چھوٹا سا رجوع بعد میں بڑی بہتری کا آغاز بن جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امت کی بہار کا آغاز سچے رجوع اور “تب علینا” کی روح سے ہوتا ہے۔ جب دل خدا کی طرف پلٹتا ہے تو وہی نازک غنچہ مستقبل کی اجتماعی بہار کی بنیاد بن جاتا ہے۔