جبر قطع اختیارش می کند
جبر، قطع اختیارش می کند
از محبت مایہ دارش می کند
ترجمہ
جبر (اجتماعی پابندی) اس کے انفرادی اختیار کو محدود کر دیتا ہے، اور محبت اسے مایہ دار (مالا مال اور طاقتور) بنا دیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اجتماعی جبر اور محبت کے کردار کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اجتماع فرد کے اختیار کو محدود ضرور کرتا ہے، مگر محبت اسے اس سے کہیں زیادہ قوت عطا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:
جبر کا اختیار محدود کرنا:
جب فرد ملت میں شامل ہوتا ہے تو اجتماعی نظم اور جبر اس کے انفرادی اور خود غرضانہ اختیار کو محدود کر دیتا ہے۔ وہ ہر کام اپنی مرضی سے نہیں کر سکتا۔
یہ پابندی بظاہر ایک بندش معلوم ہوتی ہے، مگر دراصل یہ فرد کو انتشار اور خود سری سے بچاتی ہے۔
محبت کا مایہ دار بنانا:
اسی رشتے میں پیدا ہونے والی محبت فرد کو حوصلہ، قوت اور سرمایہ عطا کرتی ہے۔ محبت سے باہمی میل جول، راہ و رسم اور تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔
یہی محبت فرد کو اتنی طاقت دیتی ہے کہ وہ اجتماع کے سہارے بڑے سے بڑا کام سرانجام دے سکے، جو تنہا اس کے بس میں نہ تھا۔
پابندی اور محبت کا توازن:
یہی جبر اور محبت کا امتزاج فرد کو اجتماع کا مفید اور طاقتور رکن بنا دیتا ہے۔ پابندی اسے نظم دیتی ہے اور محبت اسے قوت۔
اجتماعیت کا ثمر:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ اجتماع میں تھوڑی سی آزادی قربان کر کے فرد جو محبت اور قوت پاتا ہے، وہ اس قربانی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
مثال
جیسے فوج کا نظم سپاہی کی انفرادی مرضی کو محدود کرتا ہے مگر باہمی محبت، یگانگت اور اتحاد اسے ناقابلِ شکست بنا دیتے ہیں، ویسے ہی ملت کا جبر اور محبت فرد کو مضبوط اور طاقتور کرتے ہیں۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ اجتماعی جبر فرد کے انفرادی اختیار کو محدود کرتا ہے، مگر محبت اسے مایہ دار اور طاقتور بنا دیتی ہے، اور یہی اجتماعیت کا اصل فائدہ ہے۔

