رموز بے خودی

تا نصیب از حکمت اشیا برد

تا نصیب از حکمت اشیا برد

ناتوان باج از توانایان خورد

ترجمہ

جو شخص اشیا کی حکمت میں سے اپنا حصہ نہ لے، وہ کمزور بن کر طاقتوروں کو باج دیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اپنے پچھلے تمام استدلال کو ایک نہایت تیز سیاسی، تہذیبی اور عملی نتیجے میں جمع کر دیتے ہیں۔ اشیا کی حکمت سے مراد دنیا کے قوانین، وسائل، ساخت، امکانات، اور ان کے ساتھ درست برتاؤ کا علم ہے۔ جو قوم یا فرد اس حکمت سے اپنا “نصیب” نہیں لیتا، یعنی دنیا کے نظام کو سمجھنے، اس سے فائدہ اٹھانے، اور اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتا، وہ لازماً کمزور رہ جاتا ہے۔ اقبال یہاں کم زوری کو محض اخلاقی عیب نہیں، علمی اور تمدنی نقصان بھی قرار دیتے ہیں۔

اسی لیے دوسرا مصرع بہت سخت ہے: “ناتوان باج از توانایان خورد”۔ یعنی جو خود دنیا کے راز نہ کھولے، وہ آخرکار ان لوگوں کو باج دینے پر مجبور ہوتا ہے جنہوں نے یہ راز سمجھ لیے۔ یہ باج صرف ٹیکس یا خراج کی صورت میں نہیں، فکری تابع داری، معاشی انحصار، تہذیبی نقالی، سیاسی محتاجی، اور تکنیکی پسماندگی کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک دنیا میں عزت صرف جذبے سے نہیں ملتی؛ اشیا کی حکمت سے حصہ لینے سے ملتی ہے۔ جو اس حکمت سے محروم رہے گا، اسے طاقتوروں کے سامنے جھکنا پڑے گا۔

حکمتِ اشیا:

اشیا کی حکمت سے مراد یہ جاننا ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، ان کے اندر کیا قانون ہے، ان سے کس طرح خیر، قوت اور تعمیر پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ حکمت مادی بھی ہو سکتی ہے، معاشرتی بھی، نفسیاتی بھی، اور تمدنی بھی۔ اقبال کا نقطہ یہ ہے کہ دنیا کو سمجھے بغیر اس میں عزت سے جینا ممکن نہیں۔

یہاں “حکمت” صرف معلومات سے زیادہ وسیع لفظ ہے۔ معلومات جمع ہو سکتی ہیں، مگر حکمت وہ صلاحیت ہے جو ان معلومات کو درست جگہ، درست وقت اور درست مقصد کے ساتھ برت سکے۔ اقبال یہی زندہ فہم چاہتے ہیں۔

نصیب لینے کا مفہوم:

نصیب لینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکمتِ اشیا کھلی پڑی ہے، مگر سب اس سے برابر حصہ نہیں لیتے۔ جو قوم محنت کرتی ہے، سوال اٹھاتی ہے، تحقیق کرتی ہے، ادارے بناتی ہے، اور تجربہ کرتی ہے، وہ اپنا حصہ لے لیتی ہے۔ جو سستی کرتی ہے، عذر بناتی ہے، یا صرف ماضی کے سرمایہ پر جیتی ہے، وہ خالی ہاتھ رہ جاتی ہے۔

اس لیے اقبال کی دعوت صرف تعجب کی دعوت نہیں، حصہ لینے کی دعوت ہے۔ کائنات کے خزانے کو دیکھ کر واہ واہ کافی نہیں، اس میں اپنا حقِ محنت اور حقِ تدبیر بھی ڈالنا ہوگا۔

باج کی ذلت:

باج دینا سیاسی محکومی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اقبال اسے استعارے کے طور پر لاتے ہیں تاکہ دکھا سکیں کہ جو قوم خود کمزور رہے گی اسے دوسروں کی بالادستی قبول کرنی پڑے گی۔ یہ بالادستی تلوار سے بھی ہو سکتی ہے، قرض سے بھی، علم سے بھی، یا تہذیب کی چمک سے بھی۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال حکمتِ اشیا کو محض علمی مشغلہ نہیں سمجھتے۔ یہ آزادی، عزت اور خودی کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ جو قوم اس میدان سے غافل رہے گی، اس کی غیرت بھی رفتہ رفتہ باج میں بدل سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے سامنے یہی سوال پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ کھڑا ہے۔ اگر ہم علم، صنعت، ٹیکنالوجی، وسائل، نظم، اور دنیا کے بدلتے ہوئے قوانین کی حکمت سے اپنا حصہ نہیں لیں گے تو لازماً دوسروں کے نظام، دوسروں کے اوزار، دوسروں کے اصول، اور دوسروں کی ترجیحات پر گزارا کرنا پڑے گا۔ یہی جدید باج ہے۔

یہ شعر امت کو بیدار کرتا ہے کہ عزت کا راستہ محض جذباتی خود ستائی نہیں بلکہ اشیا کی حکمت سے فعال حصہ لینے میں ہے۔ جو قوم دنیا کو سمجھتی ہے وہ سر اٹھا کر جیتی ہے، اور جو اسے نہ سمجھے وہ دوسروں کی طاقت کا خراج ادا کرتی ہے۔ اقبال یہی تلخ مگر نجات بخش حقیقت بیان کرتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک کسان اگر زمین، پانی اور موسم کی حکمت نہ سمجھے تو بہتر فصل والے کے سامنے محتاج ہو جاتا ہے، ویسے ہی قومیں بھی اشیا کے قوانین نہ سمجھیں تو طاقتوروں کی تابع ہو جاتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں صاف بتاتے ہیں کہ جو قوم اشیا کی حکمت سے حصہ نہیں لیتی وہ کمزور رہتی ہے اور آخرکار طاقتوروں کو باج دیتی ہے۔ علم اور حکمت آزادی کی بنیادی شرط ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button