رموز بے خودی

جستجو را محکم از تدبیر کن

جستجو را محکم از تدبیر کن

انفس و آفاق را تسخیر کن

ترجمہ

اپنی جستجو کو تدبیر سے مضبوط بنا، اور نفس و آفاق دونوں کو مسخر کر لے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال دو نہایت بنیادی اصول ایک ساتھ دیتے ہیں: پہلی بات یہ کہ جستجو صرف جذبے سے نہیں، تدبیر سے مضبوط ہوتی ہے؛ دوسری یہ کہ انسان کی تسخیر کا میدان صرف باہر کی دنیا نہیں، اس کا اپنا نفس بھی ہے۔ “جستجو” زندگی، علم، طاقت، تعمیر، اور کمال کی طلب ہے۔ مگر اگر یہ طلب بے نظم ہو، بے سمت ہو، یا صرف خواہش کی سطح پر ہو تو جلد بکھر جاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں: اسے تدبیر سے مضبوط کرو۔ یعنی منصوبہ، نظم، علم، ترتیب، صبر، اور عملی حکمت کے ساتھ۔

پھر وہ دائرہ بڑھا دیتے ہیں: “انفس و آفاق را تسخیر کن”۔ انفس یعنی اپنا باطن، نفس، ارادہ، عادت، خوف، خواہش، اور اندرونی دنیا؛ آفاق یعنی بیرونی جہان، کائنات، معاشرہ، تاریخ، اور فطرت کے میدان۔ اقبال کے نزدیک ان دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑ کر مکمل حیات پیدا نہیں ہوتی۔ جو اندر سے کمزور ہو وہ باہر کی قوتوں کو سنبھال نہیں سکتا، اور جو باہر کی دنیا سے بے تعلق ہو وہ اپنی باطنی صلاحیت کو عملی میدان نہیں دے سکتا۔ اس لیے انسان کو دو طرفہ جہاد کرنا ہے: اندر بھی فتح، باہر بھی فتح۔

جستجو اور تدبیر:

جستجو کے بغیر زندگی مردہ ہو جاتی ہے، مگر تدبیر کے بغیر جستجو بکھر جاتی ہے۔ اقبال اس شعر میں ان دونوں کو جوڑتے ہیں۔ وہ صرف جوش کے شاعر نہیں، نظم کے بھی شاعر ہیں۔ اگر علم چاہیے تو منصوبہ بھی چاہیے، اگر قوت چاہیے تو ترتیب بھی چاہیے، اگر انقلاب چاہیے تو مرحلہ بندی بھی چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ “محکم” کا لفظ لاتے ہیں۔ مضبوط جستجو وہی ہے جس کے پیچھے سوچا ہوا راستہ ہو۔ ورنہ خواہش تو بہت لوگوں کے پاس ہوتی ہے، مگر منزل تک وہی پہنچتے ہیں جو تدبیر کے ساتھ چلتے ہیں۔

انفس کی تسخیر:

اپنے نفس کی فتح اقبال کے نزدیک محض صوفیانہ خلوت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے خوف، حرص، سستی، بے صبری، خود فریبی، اور خواہشات کی بے لگامی پر قابو حاصل کرے۔ جب تک اندر کا نظم قائم نہ ہو، باہر کا اختیار بھی پائیدار نہیں رہتا۔

یہ فتح خودی کی تعمیر ہے۔ انسان اگر اپنے اوپر حکومت نہیں کر سکتا تو دنیا پر حکومت کا دعویٰ محض نعرہ رہ جائے گا۔ اقبال اسی لیے اندر کی سلطنت کو باہر کی تسخیر کے برابر اہم سمجھتے ہیں۔

آفاق کی تسخیر:

آفاق کی فتح فطرت، معاشرہ، علم اور تاریخ کے میدانوں میں مؤثر دخل ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو اس پورے حصے میں چل رہا ہے: قدرت کی قوتوں کو سمجھنا، وسائل کو برتنا، کائنات کے راز کھولنا، اور دنیا کے نظم کے ساتھ فعال رشتہ قائم کرنا۔

اقبال کے نزدیک یہ بیرونی جہاد اسلام کی روح کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا ایک تقاضا ہے۔ بشرطیکہ وہ نفس کی فتح اور حق کی امانت کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔ یہی انفس و آفاق کی جمع شدہ تسخیر ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم بعض اوقات صرف باطن کی اصلاح کی بات کرتے ہیں اور دنیا کے بڑے میدان چھوڑ دیتے ہیں، یا صرف دنیا پر قبضے کی بات کرتے ہیں مگر اخلاقی اور نفسیاتی تربیت کو بھول جاتے ہیں۔ اقبال دونوں نقصانات سے بچاتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندہ انسان وہ ہے جس کی جستجو بھی منظم ہو، باطن بھی مہذب ہو، اور بیرونی دنیا کے ساتھ اس کا رشتہ بھی تخلیقی ہو۔

یہ شعر امت کے لیے ایک متوازن منشور ہے۔ تدبیر کے ساتھ تلاش، نفس کے ساتھ مجاہدہ، اور آفاق کے ساتھ تسخیر۔ یہی ترکیب فرد کو کامل اور قوم کو موثر بناتی ہے۔ اقبال کے نزدیک قوت کا یہی صحیح توازن ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر ملاح کو سمندر پر سفر کرنے کے لیے کشتی بھی سنبھالنی ہوتی ہے اور اپنے اعصاب بھی، ویسے ہی انسان کو بیرونی دنیا کی فتح کے ساتھ اپنے باطن پر بھی اختیار چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ سچی جستجو تدبیر سے مضبوط ہوتی ہے اور کامل انسان وہ ہے جو اپنے باطن اور بیرونی دنیا دونوں کو نظم، علم اور مجاہدے سے اپنے تابع کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button