رموز بے خودی

تا دلش از گرمی قرآن تپید

تا دلش از گرمی قرآن تپید

موج بیتابش چو گوهر آرمید

ترجمہ

جب اس کے دل نے قرآن کی حرارت محسوس کی تو اس کی بے تاب موج گویا گوہر کی مانند ٹھہر گئی۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کا جواب ہے۔ وہاں خام صحرائی انسان تھا جو حضر میں آ کر ہرزگی کا شکار ہو سکتا تھا، اور یہاں وہی انسان قرآن کی گرمی سے بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ “گرمی قرآن” محض جذباتی جوش نہیں بلکہ وہ روحانی حرارت، وہ ایمانی مرکزیت، وہ زندہ وجدان ہے جو دل کو بیدار، ارادے کو منظم اور طبیعت کی پراگندگی کو سمیٹ لیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ “موج بیتاب” یعنی بے قرار اور منتشر حرکت، “گوهر” کی طرح قرار پا لیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

گرمیِ قرآن:

قرآن کی گرمی سے مراد وہ اندرونی حرارت ہے جو ایمان، یقین، خوفِ خدا، طلبِ حق، اور مقصدی زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ گرمی سرد معلومات نہیں، بلکہ زندہ اثر ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن صرف ذہن کو نہیں چھوتا، وہ دل کو گرماتا ہے۔ جب دل گرم ہو جائے تو زندگی کی سمت بدلنے لگتی ہے۔

یہی گرمی انسان کو غفلت سے جگاتی ہے، مرعوبیت سے آزاد کرتی ہے، اور اس کی توانائیوں کو ایک نئی مرکزیت عطا کرتی ہے۔

دل کا تپنا:

“تپید” کا لفظ نہایت اہم ہے۔ اس میں صرف دھڑکنا نہیں بلکہ متاثر ہونا، جل اٹھنا، اور نئی حرارت سے بھر جانا بھی شامل ہے۔ گویا قرآن کا اثر صرف خارجی تعلیم نہ تھا بلکہ دل کے اندر ایک انقلاب تھا۔ عرب کے اس صحرائی انسان کے اندر جو قوت پہلے خام اور منتشر تھی، اب اسی قوت کو ایک قلبی مرکز مل گیا۔

دل کے اس تپنے سے انسان کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ اب وہ محض بقا، قبیلہ، رسم یا خود خواہی سے نہیں چلتا بلکہ ایک بلند تر حق کے تحت جینا شروع کرتا ہے۔

موجِ بیتاب:

موج بے قراری، حرکت، اضطراب اور مسلسل تلاطم کی علامت ہے۔ بدوی طبیعت کی وہی تیزی، بے چینی اور حرارت جو پہلے ہرزگی کا سبب بن سکتی تھی، اقبال اسے “موج بیتاب” کہتے ہیں۔ یہ موج بُری نہیں، مگر بے مرکز ہے۔

قرآن کا کمال یہ ہے کہ وہ موج کو مارتا نہیں، اسے معنی دیتا ہے۔ وہ بے تابی کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے صحیح صورت میں ڈھال دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد وہی خام قوت تہذیبی اور روحانی قوت بن جاتی ہے۔

گوہر کی طرح آرام:

گوہر سمندر کے اندر سے پیدا ہوتا ہے، مگر اس کی شان اضطراب نہیں بلکہ قدر، صفا اور استقرار ہے۔ موج جب گوہر میں بدلتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حرکت کی خام حالت ایک قیمتی اور مرتکز صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ قرآن نے عرب کی موجِ بیتاب کو گوہرِ تہذیب، گوہرِ ایمان اور گوہرِ قیادت بنا دیا۔

یہ قرار موت کا قرار نہیں بلکہ پختگی کا قرار ہے۔ اب انسان کی قوت بکھرنے کے بجائے جمع ہونے لگتی ہے، اور اس کی حرکت فضول کے بجائے مقصود کے تابع ہو جاتی ہے۔

تحول کا راز:

اس شعر میں اقبال کے نزدیک اصلاح کا اصل اصول پوشیدہ ہے۔ انسان کو محض قانون سے نہیں بدلا جا سکتا، نہ محض نعرے سے۔ جب تک دل نہ بدلے، قوتیں محض صورت بدلتی ہیں، حقیقت نہیں۔ قرآن کا امتیاز یہی ہے کہ وہ دل تک پہنچتا ہے، اور جب دل بدلتا ہے تو طبیعت، اخلاق، عقل اور اجتماع سب بدلنے لگتے ہیں۔

اسی لیے امت کی حقیقی تجدید بھی دل کی گرمی سے شروع ہوگی، نہ کہ صرف ادارتی شکلوں کی نقل سے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان کے اندر بھی بے تابی ہے: سیاسی اضطراب، تہذیبی بے چینی، فکری تلاش، نوجوانی کا جوش۔ اقبال کا شعر سکھاتا ہے کہ اگر یہ بے تابی قرآن کی گرمی سے نہ جڑے تو بکھر سکتی ہے، لیکن اگر دل واقعی قرآن سے تپ جائے تو یہی بے تابی قیمتی گوہر میں بدل سکتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف حافظے تک نہ رکھیں بلکہ دل کی حرارت، کردار کی تبدیلی اور اجتماعی استقرار کا سرچشمہ بنائیں۔

مثال

جیسے بھاپ اگر بے قابو ہو تو صرف شور کرتی ہے، لیکن اگر اسے مناسب نظام میں لایا جائے تو بڑی مشین چلا سکتی ہے، ویسے ہی انسانی بے تابی بھی صحیح مرکز پانے پر زبردست تعمیری قوت بن سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ قرآن کی گرمی دل کو اس طرح بدل دیتی ہے کہ انسان کی بے قرار اور منتشر قوت قیمتی گوہر کی طرح جمع، پختہ اور بااثر ہو جاتی ہے۔ یہی قرآنی تربیت کی اصل تاثیر ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button