رموز بے خودی

ای که یک جا در چمن انداختی

ای که یک جا در چمن انداختی

مثل بلبل با گلی در ساختی

ترجمہ

اے وہ شخص جس نے باغ میں ایک ہی جگہ پڑاؤ ڈال لیا ہے، اور بلبل کی طرح ایک ہی پھول پر راضی ہو کر بیٹھ گیا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اس ذہنی اور روحانی محدودیت پر تنقید کرتے ہیں جو انسان کو ایک ہی دائرے، ایک ہی تعلق، ایک ہی مقام یا ایک ہی پسند میں قید کر دیتی ہے۔ پچھلے اشعار میں وہ وسعت، حرکت، بیقرانی اور چمن کی فراخی میں پھیلنے کا سبق دے چکے تھے۔ اب وہ ایک اور کمزوری کو نشان زد کرتے ہیں: آدمی کبھی کسی ایک گوشے میں ایسا ٹھہر جاتا ہے کہ پوری دنیا، پوری ملت، پوری حقیقت اور پورا امکان اس کی نگاہ سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

یک جا در چمن انداختی:

باغ اپنی اصل میں وسعت، تنوع، حرکت اور کئی رنگوں کی علامت ہے۔ مگر اگر کوئی شخص اسی باغ میں آ کر ایک ہی جگہ پڑ جائے تو باغ کی فراخی بھی اس کے لیے سکڑ جاتی ہے۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ محدودیت ہمیشہ تنگ ماحول سے نہیں پیدا ہوتی؛ کبھی وسیع ماحول میں رہ کر بھی انسان خود کو محدود بنا لیتا ہے۔ مسئلہ باہر کے باغ کا نہیں، اندر کے مزاج کا ہے۔

جگہ وسیع ہو اور دل تنگ رہے تو وسعت بھی قید بن جاتی ہے۔

مثل بلبل:

بلبل حسن اور شوق کی پرانی علامت ہے، مگر اقبال یہاں اسی استعارے کو تنقیدی رخ دیتے ہیں۔ اگر بلبل صرف ایک پھول پر فریفتہ ہو کر رہ جائے تو اس کی پرواز، اس کی وسعت اور اس کی چمن شناسی محدود ہو جاتی ہے۔ یعنی محبت اگر ظرف نہ بڑھائے تو وہ بھی قید بن سکتی ہے۔ اقبال ایسی محبت نہیں چاہتے جو انسان کو ایک جز میں گم کر دے اور کل سے غافل کر دے۔

شوق جب وسعت سے کٹ جائے تو اس کی گرمی بھی تنگ دامنی میں بدل سکتی ہے۔

با گلی در ساختی:

ایک ہی گل سے سازگار ہو جانا یہاں محض کسی ایک شخص یا چیز سے محبت کا ذکر نہیں، بلکہ اس محدود اطمینان کی علامت ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو ایک چھوٹی راحت کے ساتھ سمجھوتہ کرا دیتا ہے۔ وہ بڑے امکان، بڑے مقصد اور بڑی دعوت سے دست بردار ہو کر ایک چھوٹے حسن یا ایک محدود مفاد پر راضی ہو جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ رضا دراصل خودی کی کمی ہے۔

جو ایک چھوٹی راحت پر ٹھہر جائے، وہ بڑے افق کی دعوت سن ہی نہیں پاتا۔

خودی اور آفاقیت:

اقبال کی خودی جزوی اسارت قبول نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک زندہ انسان کسی ایک لذت، ایک تعلق، ایک خطے، ایک منصب یا ایک حلقے میں گم ہو کر نہیں جیتا۔ وہ تعلقات رکھتا ہے مگر ان میں قید نہیں ہوتا، محبت کرتا ہے مگر اس کی محبت اسے وسیع تر حقائق سے غافل نہیں کرتی، اور کسی خوبصورتی کو دیکھ کر پوری کائناتی وسعت فراموش نہیں کرتا۔

اصل پختگی یہ ہے کہ آدمی جز سے وابستہ ہو مگر کل سے منقطع نہ ہو۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ اپنے چھوٹے حلقے، محدود شناخت، خاص گروہ، ذاتی سکون، ایک تعلق یا ایک معمولی کامیابی میں رک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہی کافی ہے۔ اقبال کا شعر انہیں جھنجھوڑتا ہے: چمن میں ایک جا نہ پڑو، ایک گل پر قانع نہ ہو جاؤ، اپنی خودی کو وسیع کرو، اور اپنی صلاحیت کو بڑی ذمہ داریوں، وسیع خیر اور آفاقی مقصد کی طرف لے جاؤ۔

اسلامی خودی ایک خوبصورت گوشے میں قید رہنے کے لیے نہیں، پورے چمن کی طرف بیدار ہونے کے لیے ہے۔

مثال

ایک شخص اگر صرف اپنے قریبی حلقے کی تعریف، اپنی چھوٹی سہولت یا ایک محدود دینی یا سماجی گروہ میں مطمئن ہو جائے تو اس کا اثر اسی دائرے تک رہ جاتا ہے، مگر جو اپنی خیر اور خدمت کو وسیع کرتا ہے وہ باغ کے ایک گوشے کے بجائے پورے ماحول کے لیے مفید بن سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ایک ہی جگہ یا ایک ہی دل آویز شے پر رک جانا خودی کی وسعت کے خلاف ہے۔ زندہ انسان کو جزوی قناعت سے نکل کر پورے چمن، بڑے مقصد اور وسیع تر خیر کی طرف بڑھنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button