تا نه این وحدت ز دست ما رود
تا نه این وحدت ز دست ما رود
هستی ما با ابد همدم شود
ترجمہ
اگر یہ وحدت ہمارے ہاتھ سے نہ نکلے تو ہماری ہستی ابد کے ساتھ ہم دم ہو جائے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امت کی وحدت کو صرف وقتی فائدے یا سیاسی ضرورت کے طور پر نہیں، بلکہ بقا، دوام اور ابدی معنی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک وحدت کو سنبھال لینا صرف دنیاوی طاقت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایسی ہستی کا راز ہے جو وقت کے طوفانوں سے گزر کر بھی معنی خیز رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:
ز دست ما رود کیوں کہا:
یہ تعبیر بتاتی ہے کہ وحدت کوئی خودکار شے نہیں جو ہمیشہ بلا محنت قائم رہے۔ اسے سنبھالنا پڑتا ہے، تھامنا پڑتا ہے، اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ اگر ہاتھ ڈھیلا پڑ جائے، اگر مفادات، تعصبات، قومیتیں یا انا غالب ہو جائیں تو یہ نعمت ہاتھ سے پھسل سکتی ہے۔
اقبال کے لہجے میں اسی لیے تنبیہ بھی ہے اور ذمہ داری کا احساس بھی۔
ابد سے ہم دمی:
ابد کے ساتھ ہم دم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ امت کی ہستی صرف وقتی اور موسمی نہیں رہتی بلکہ ایک دیرپا تاریخی و روحانی معنی اختیار کرتی ہے۔ وہ ایسے اصول سے بندھ جاتی ہے جو زمانے کے بدلنے سے پرانا نہیں ہوتا۔ نبوی وحدت چونکہ فطری اور توحیدی بنیاد رکھتی ہے، اس لیے اس کا ثمر بھی پائیدار ہوتا ہے۔
گویا وحدت امت کو عارضی مجمع سے اٹھا کر ایک ابدی پیغام کی حامل جماعت بناتی ہے۔
بقا کا راز:
تاریخ میں بہت سی قومیں اٹھیں، پھیلیں، طاقتور ہوئیں اور پھر بکھر گئیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسا مرکز نہ تھا جو انہیں دیرپا معنی دے سکے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر امت اپنی رسالتی وحدت محفوظ رکھے تو اس کی ہستی محض طاقت سے نہیں بلکہ معنی، مقصد اور خدا سے نسبت کے سبب باقی رہ سکتی ہے۔
بقا صرف جسمانی وجود نہیں، سچی بقا وہ ہے جس میں پیغام زندہ رہے اور روح برقرار رہے۔
وحدت بطور امانت:
یہ شعر ہمیں احساس دلاتا ہے کہ وحدت محض ایک خوش کن نعرہ نہیں بلکہ عظیم امانت ہے۔ اسے زبان سے زیادہ کردار، قربانی، انصاف، تحمل اور مشترک مرکز سے وفاداری کے ذریعے تھاما جاتا ہے۔ جو امت اس امانت کی حفاظت کرتی ہے وہ اپنی تاریخ کو ابد سے جوڑ دیتی ہے۔
اس لیے وحدت کی حفاظت اخلاقی اور روحانی فریضہ بھی ہے۔
آج کے لیے پیغام:
آج امت کے سامنے وقتی مفادات کے نام پر وحدت کو قربان کرنے کے بے شمار مواقع آتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ جو چیز ہاتھ سے جا رہی ہے وہ محض سیاسی اتحاد نہیں، بلکہ وہ سرمایہ ہے جو ہمیں ابدی معنی سے جوڑتا ہے۔ اگر اسے سنبھال لیا جائے تو زخم کھا کر بھی ہستی باقی رہتی ہے۔
امت کی دیرپا بحالی اسی شعور سے شروع ہو سکتی ہے کہ وحدت محض نفع کا وسیلہ نہیں، بقا کا راز ہے۔
مثال
کسی خاندان میں اگر باہمی رشتہ، اعتماد اور اصول بچ جائیں تو مشکلات کے باوجود نسلیں قائم رہتی ہیں۔ اگر یہی ربط ٹوٹ جائے تو دولت ہوتے ہوئے بھی بکھراؤ آ جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک امت کی نبوی وحدت ایسی امانت ہے جو محفوظ رہے تو ہستی کو ابدی معنی سے جوڑ دیتی ہے۔ اس کی حفاظت محض سیاسی نہیں، روحانی اور تہذیبی فریضہ بھی ہے۔