آب دلہا در میان سینہ ہا
آب دلہا در میان سینہ ہا
سوز او بگداخت این آئینہ ہا
ترجمہ
دلوں کا پانی سینوں کے اندر موج زن ہے، اور اسی کے سوز نے ان آئینوں کو پگھلا اور چمکا دیا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں باطن کی نرمی، احساس کی روانی، اور عشق و توحید کے سوز کی تطہیری تاثیر کو نہایت خوب صورتی سے بیان کرتے ہیں۔ یہاں “آب دلہا” دلوں کی لطافت، زندگی اور صفائی کی علامت ہے، جبکہ “آئینہ ہا” سینوں اور باطنوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو سوز کی حرارت سے صیقل پاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
دل کا پانی کیا ہے:
پانی زندگی، حرکت، لطافت اور طہارت کی علامت ہے۔ اقبال جب دلوں کے پانی کی بات کرتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ زندہ دل سخت، خشک اور مردہ نہیں ہوتے۔ ان کے اندر نرمی بھی ہوتی ہے، احساس بھی، اور قبولِ حق کی صلاحیت بھی۔ ایسا دل دوسروں کے درد سے بھی آشنا ہوتا ہے اور اپنے رب کی یاد سے بھی تر رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دل کی زندگی کو پانی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جہاں پانی ہو وہاں نمو، تازگی اور انعکاس ممکن ہوتا ہے، اور جہاں دل میں یہ کیفیت ہو وہاں اخلاقی اور روحانی ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔
سینہ بطور آئینہ:
سینہ محض جسمانی عضو نہیں بلکہ باطن، شعور اور احساس کا مرکز بھی ہے۔ اقبال نے اسے آئینہ کہا، کیونکہ آئینہ حقیقت کو دکھاتا بھی ہے اور خود صفائی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ مگر گرد آلود آئینہ کچھ نہیں دکھاتا۔ اسی طرح غفلت، خودغرضی اور بےحسی سے بھرا ہوا باطن حقیقت کے انعکاس سے محروم رہتا ہے۔
جب شاعر “این آئینہ ہا” کہتا ہے تو گویا وہ دلوں کو ایسی سطحیں قرار دیتا ہے جو اگر درست طور پر صیقل پا جائیں تو حق کی روشنی کو منعکس کر سکتی ہیں۔
سوز کی تطہیری قوت:
“سوز او بگداخت” میں پگھلانے اور نرم کرنے کا معنی موجود ہے۔ اقبال کے نزدیک سچا سوز دل کو توڑتا نہیں بلکہ اس کی سختی توڑتا ہے۔ وہ انا کی تہہ، غفلت کی زنگ اور بےحسی کی جماؤ کو پگھلا دیتا ہے۔ یہی سوز دل کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سچ کو قبول کرے، درد کو محسوس کرے اور خیر کے لیے متحرک ہو۔
یہ پگھلاؤ دراصل صفائی اور بیداری کا عمل ہے۔ دل کے آئینے جب تک گرم نہ ہوں، ان پر جمی ہوئی میل نہیں اترتی۔
فرد کی اندرونی تربیت:
یہ شعر فرد کو یہ سبق دیتا ہے کہ صرف معلومات یا ظاہری عبادت کافی نہیں، دل کی کیفیت بھی درست ہونی چاہیے۔ اگر دل نرم نہ ہو، سینہ آئینہ نہ بنے، اور اندر سوز نہ ہو تو انسان کا ظاہر تو دیندار ہو سکتا ہے مگر باطن بیدار نہیں ہوتا۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان کے اندر ایسی روحانی حرارت پیدا ہو جو اس کے دل کو زندہ اور اس کے شعور کو صاف کر دے۔
اسی سے اس کی نظر میں صفائی اور عمل میں اخلاص آتا ہے۔
ملت کے لیے پیغام:
ایک امت کی اجتماعی روح بھی اسی وقت زندہ رہتی ہے جب اس کے افراد کے دل نرم، حساس اور بیدار ہوں۔ اگر سینے آئینے بن جائیں تو وہ ایک دوسرے کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بنتے ہیں، اور حق کی اجتماعی روشنی بھی منعکس کرتے ہیں۔ مگر اگر دل سخت ہو جائیں تو قوم کا باطن دھندلا جاتا ہے۔
پس امت کی اصل صفائی اور تازگی اسی سوز میں ہے جو اس کے دلوں کو نرم کرے اور اس کے سینوں کو آئینہ بنا دے۔
مثال
ایک پرانا دھندلا آئینہ جب اچھی طرح صاف کیا جائے تو وہ نہ صرف خود چمکنے لگتا ہے بلکہ سامنے والی چیز کو بھی واضح دکھاتا ہے۔ اسی طرح دل جب سچے سوز اور ذکر سے صاف ہوتا ہے تو انسان کی نگاہ بھی بدل جاتی ہے اور اس کا کردار بھی۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق دل کی زندگی پانی کی طرح لطیف اور رواں ہے، اور سچا سوز سینوں کے آئینوں کو صیقل دے کر انہیں حق کی روشنی کے قابل بناتا ہے۔ یہی کیفیت فرد اور ملت دونوں کے باطن کو زندہ اور روشن کرتی ہے۔
