رموز بے خودی

بود انسان در جهان انسان پرست

بود انسان در جهان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

ترجمہ

اس دنیا میں انسان انسان ہی کا پجاری بن گیا تھا، اور کمزور، پامال، تباہ حال اور دوسروں کے زیرِ دست پڑا ہوا تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں بعثتِ محمدی سے پہلے انسانیت کی اخلاقی اور روحانی حالت کا ایک نہایت گہرا نقشہ کھینچتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل بیماری یہ تھی کہ انسان نے خدا کو چھوڑ کر انسان کو مرکز بنا لیا تھا۔ جب انسان انسان پرستی میں مبتلا ہو جائے تو آزادی، مساوات اور اخوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے، کیونکہ پھر طاقت ور انسان معبود بن بیٹھتا ہے اور کمزور انسان بندہ۔ شعر کے مطابق:

انسان پرستی کا اصل مرض:

“انسان پرست” سے مراد صرف کسی عظیم شخصیت کی محبت نہیں، بلکہ وہ حالت ہے جس میں انسان خدا کی جگہ دوسرے انسانوں کی مطلق اطاعت، خوف اور غلامی میں مبتلا ہو جائے۔ جب معیارِ حق آسمان سے کٹ جائے تو زمین کے طاقت ور لوگ خود مرکز بن جاتے ہیں۔ پھر حق و باطل کا پیمانہ وحی نہیں رہتا بلکہ کسی بادشاہ، کاہن، سردار یا طبقے کی مرضی بن جاتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی شرکِ اجتماعی انسان کے وقار کو توڑ دیتا ہے۔

ناکس اور زیرِ دست انسان:

اس بیماری کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام انسان “زیر دست” ہو گیا۔ وہ اپنی اصل انسانی قدر کھو بیٹھا، اس کی خودی دب گئی، اور وہ دوسروں کے فیصلوں کا محض بوجھ اٹھانے والا وجود بن گیا۔ “ناکس” اور “نابود مند” کے الفاظ بتاتے ہیں کہ ظلم صرف سیاسی نہ تھا، بلکہ انسانی روح کی تذلیل بھی ہو رہی تھی۔

گویا انسان جسمانی طور پر زندہ تھا مگر اخلاقی و روحانی طور پر پست ہو چکا تھا۔

حریت کے خلاف پہلی رکاوٹ:

اقبال جس آزادی کی بات کرتے ہیں، وہ صرف بیرونی زنجیروں سے نجات نہیں بلکہ دل کی آزادی بھی ہے۔ جب تک انسان دوسرے انسان کو آخری حاکم مانتا رہے گا، وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔ اس لیے آزادی کی جڑ توحید میں ہے: خدا کے سوا کسی کو مطلق مرکز نہ ماننا۔

یہی وجہ ہے کہ بخش ۱۰ کا آغاز غلامی کے صرف سیاسی بیان سے نہیں بلکہ انسان پرستی کے روحانی مرض سے ہوتا ہے۔

رسالتِ محمدیہ کا پس منظر:

یہ شعر آگے آنے والے پورے استدلال کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر دنیا میں انسان انسان کا پجاری تھا، تو محمدی رسالت کا پہلا کام یہ تھا کہ انسان کو خدا کے سامنے لا کر انسان کی بندگی سے آزاد کرے۔ یہی آزادی بعد میں مساوات اور اخوت کی بنیاد بنتی ہے، کیونکہ جب سب خدا کے بندے ہوں تو کوئی انسان دوسرے کا معبود نہیں رہتا۔

اقبال کے نزدیک بعثتِ نبوی سے پہلے کی تاریکی کا اصل نام یہی تھا: انسانیت کا انسان کے آگے جھک جانا۔

آج کے لیے رہنمائی:

یہ بیماری صرف قدیم دنیا تک محدود نہیں۔ آج بھی انسان کبھی ریاست، کبھی لیڈر، کبھی سرمایہ، کبھی شہرت، کبھی اکثریت، اور کبھی نظریاتی طاقتوں کو ایسا مقام دے دیتا ہے کہ حق کا معیار انہی سے لینے لگتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ جہاں غیر اللہ کی یہ مرکزیت آئے گی، وہاں کمزور پھر زیر دست ہو جائے گا۔

اصل آزادی تب شروع ہوتی ہے جب انسان انسان پرستی سے نکل کر خدا پرستی اختیار کرے۔

مثال

اگر کسی ادارے میں ایک طاقت ور شخص کو ایسا مطلق اختیار دے دیا جائے کہ حق و باطل کا معیار اسی کی مرضی بن جائے، تو باقی سب لوگ آہستہ آہستہ خوف زدہ، چاپلوس اور دبے ہوئے ہو جاتے ہیں۔ یہی انسان پرستی کی ایک چھوٹی مثال ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق بعثتِ نبوی سے پہلے انسانیت کا اصل زوال یہ تھا کہ انسان خدا کے بجائے انسان کا پجاری بن گیا تھا۔ اسی سے ظلم، غلامی اور کمزور انسان کی تذلیل پیدا ہوئی۔ محمدی آزادی کی ابتدا اسی جھوٹے مرکز کو توڑنے سے ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button