رموز بے خودی

برق ما کو در سحابت آرمید

برق ما کو در سحابت آرمید

بر جبل رخشید و در صحرا تپید

ترجمہ

ہماری وہ بجلی جو تیرے بادل میں آ کر ٹھہری، پھر پہاڑ پر چمکی اور صحرا میں جا کر تپش پھیلانے لگی۔

تشریح

یہ شعر اقبال کی نہایت بلند اور تصویری تعبیرات میں سے ہے۔ یہاں عورت کو “سحاب” یعنی بادل کہا گیا ہے، اور قوم کی توانائی، مردانہ قوت، یا اجتماعی قابلیت کو “برق” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بجلی اگر بادل میں نہ ٹھہرے تو اس کی نمود بے ربط ہو سکتی ہے، مگر جب وہ سحاب کے اندر نظم پاتی ہے تو اپنی پوری تاثیر کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک عورت کی آغوش، اس کی تربیت، اور اس کی باطنی رفاقت ہی وہ سحاب ہے جس میں قوم کی طاقت نشو و نما پاتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں یہی برق جب “جبل” پر چمکتی اور “صحرا” میں تپتی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ عورت کی تربیت سے جو قوت پیدا ہوتی ہے، وہ پھر میدانِ عمل میں جلوہ دکھاتی ہے۔ پہاڑ استقامت، عظمت، اور دشوار راستوں کی علامت ہے، جبکہ صحرا وسعت، سفر، مجاہدہ، اور تمدنی پھیلاؤ کی علامت بن جاتا ہے۔ گویا جو قوت بظاہر مرد کے کارناموں میں دکھائی دیتی ہے، اس کا پہلا استقرار عورت کی پرورش میں ہوتا ہے۔ اقبال اس طرح عورت کے پوشیدہ مگر بنیادی کارنامے کو نمایاں کرتے ہیں۔

سحاب کا استعارہ:

بادل اپنے اندر پانی، سایہ، اور بجلی تینوں رکھتا ہے۔ وہ نرم بھی ہوتا ہے اور قوت کا حامل بھی۔ عورت کے لیے یہ استعارہ اسی جامع وصف کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کی آغوش میں نرمی بھی ہے، پناہ بھی، اور وہ تربیتی قوت بھی جس سے آگے چل کر بڑے کردار پیدا ہوتے ہیں۔

برق کی نسبت:

برق تیزی، توانائی، اور اثر کا نشان ہے۔ اقبال کے نزدیک قوم کی جو حرارت میدانوں میں دکھائی دیتی ہے، وہ پہلے گھروں میں پیدا ہوتی ہے۔

اس لیے عورت محض پس منظر نہیں بلکہ اس قوت کی پہلی پرورش گاہ ہے جو بعد میں تاریخ بناتی ہے۔

جبل اور صحرا:

جبل پر چمکنا بلندیوں میں اثر دکھانے کی علامت ہے، اور صحرا میں تپنا جدوجہد اور وسعت میں کارفرما ہونے کی۔ یہ دونوں تصویریں بتاتی ہیں کہ گھریلو تربیت کا اثر صرف گھر تک محدود نہیں رہتا۔

عورت اگر اپنی امانت درست ادا کرے تو اس کے اثرات علم، قیادت، شجاعت، اور تمدن تک پھیل جاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج اجتماعی کامیابیوں کا سہرا اکثر صرف ان لوگوں کے سر باندھا جاتا ہے جو منظر عام پر نظر آتے ہیں، مگر اقبال ہمیں اس خاموش سرچشمے کی طرف لے جاتے ہیں جو ان کامیابیوں کے پیچھے ہوتا ہے۔

یہ شعر سکھاتا ہے کہ عورت کی تربیتی اور اخلاقی قوت کو نظر انداز کر کے کسی قوم کی حقیقی طاقت کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ میدان کی برق گھر کے سحاب میں ہی ترتیب پاتی ہے۔

مثال

جیسے بیج پہلے نرم مٹی میں پرورش پا کر بعد میں تناور درخت بنتا ہے، ویسے ہی قوم کی نمایاں قوت پہلے عورت کی آغوش میں پرورش پاتی ہے پھر دنیا میں اپنا اثر دکھاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں عورت کو وہ سحاب قرار دیتے ہیں جس میں قوم کی برق ترتیب پا کر بعد میں بلندیوں اور میدانوں میں اپنا اثر دکھاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button