آنکه بالید اندر آغوش رسل
آنکه بالید اندر آغوش رسل
جزو او داننده ی اسرار کل
ترجمہ
وہ قوم جو رسولوں کی آغوش میں پروان چڑھی تھی، اس کا ہر جز گویا کل کے بھیدوں سے کچھ نہ کچھ آشنا تھا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پچھلے عبرت آموز اشعار کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے اس قوم کی اصل رفعت یاد دلاتے ہیں جس کا بعد میں زوال ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ جماعت انبیاء کی آغوش میں پلی بڑھی تھی۔ یعنی اس کی ابتدائی تربیت عام تاریخی حالات کے تحت نہیں ہوئی، بلکہ وحی، نبوت، شریعت، دعا، مجاہدہ اور خدائی رہنمائی کے زیر سایہ ہوئی۔ “آغوش رسل” ایک نہایت محبت آمیز اور باوقار تعبیر ہے۔ اس میں تربیت بھی ہے، شفقت بھی، نگرانی بھی، اور سمت بھی۔ اقبال پہلے اس عظمت کو نمایاں کرتے ہیں تاکہ بعد میں اس کے زوال کی سنگینی زیادہ واضح ہو۔
دوسرے مصرعے میں “جزو او داننده ی اسرار کل” کہہ کر اقبال اس قوم کے فکری اور روحانی منصب کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ہر فرد بالفعل کامل عارف تھا، بلکہ یہ کہ ایسی امت جس کے اندر نبوت کا نور، کتاب کی تعلیم، الٰہی تاریخ کا شعور، اور توحید کی امانت موجود ہو، اس کے اندر کل کے اسرار سے آشنائی کی ایک غیر معمولی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا اس کی اجتماعی ساخت میں ایک ایسی روشنی شامل ہوتی ہے جو اسے محض دنیاوی ہجوم نہیں رہنے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال اس ماضی کو یاد کر کے امتِ مسلمہ کو خبردار کرتے ہیں: بلند ورثہ بھی اگر اپنی اصل جمعیت اور مرکز سے کٹ جائے تو اس کی عظمت محفوظ نہیں رہتی۔
آغوشِ رسل کا مفہوم:
رسولوں کی آغوش سے مراد ایسا تاریخی اور روحانی ماحول ہے جس میں قوم کی شخصیت وحی کے تحت بنتی ہے۔ یہ محض کسی نیک بزرگ کی صحبت نہیں، بلکہ مسلسل الٰہی تربیت کا دائرہ ہے۔ اس میں قانون بھی ہے، تزکیہ بھی، تذکیر بھی، اور اجتماعی نظم بھی۔ اقبال بتاتے ہیں کہ جس قوم کو ایسی آغوش ملی ہو، اس کے پاس اپنے دور کے لیے غیر معمولی اخلاقی اور فکری سرمایہ ہوتا ہے۔
اسی تعبیر میں ایک لطیف تنبیہ بھی چھپی ہے۔ اگر انبیاء کی آغوش میں پرورش پانے والی قوم بھی غفلت اور افتراق کی شکار ہو سکتی ہے تو پھر کسی بعد کی امت کو اپنے ماضی کے شرف پر بے فکر نہیں ہو جانا چاہیے۔ فضیلت ذمہ داری بڑھاتی ہے، ضمانت نہیں بنتی۔
اسرارِ کل سے آشنائی:
“اسرارِ کل” سے مراد وجود کی وہ بڑی حقیقتیں ہیں جو محض حواس، منطق یا تجربے سے پوری طرح نہیں کھلتیں۔ انبیاء انسان کو زندگی کے مقصد، خیر و شر کے پیمانے، بندگی کے آداب، تاریخ کے معنی، اور آخرت کے شعور سے آشنا کرتے ہیں۔ جو امت ان سرچشموں سے سیراب ہو، اس کے افراد کے اندر بھی وسیع تر بصیرت پیدا ہونے کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔
اقبال یہاں یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ایسی قوم صرف مادی اعتبار سے ممتاز نہیں ہوتی، اس کے باطن میں بھی ایک خاص روشنی موجود ہوتی ہے۔ مگر جب یہ روشنی عمل، جمعیت اور مرکزیت سے جدا ہونے لگے تو دانائی محض روایت بن جاتی ہے، اور روایت اگر حیات سے کٹ جائے تو رفتہ رفتہ بے اثر ہونے لگتی ہے۔
رفعت سے زوال تک:
اس شعر کی اصل تاثیر اسی وقت پوری کھلتی ہے جب اسے اگلے اشعار کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ اقبال پہلے قوم کی رفعت بیان کرتے ہیں، پھر اس پر زمانے کے تھپڑ، جڑوں کی خشکی، زبان کے گم ہو جانے، اور نوحہ خواں پروانے کی تصویر لاتے ہیں۔ اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ زوال ہمیشہ کسی حقیر شے پر نہیں آتا؛ کبھی کبھی بڑی امانتوں کے حامل بھی اپنے مرکز سے کٹ کر محرومی میں گر جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ شعر محض مدح نہیں بلکہ مقدمۂ عبرت ہے۔ شاعر پہلے بتاتا ہے کہ خزانہ کیا تھا، پھر دکھاتا ہے کہ وہ کیسے ہاتھ سے نکلا۔ یہ اسلوب دل کو زیادہ گہرے انداز میں متنبہ کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
امتِ مسلمہ بھی ایک بلند ورثے کی امین ہے۔ قرآن، سنت، سیرتِ نبوی، شعائرِ اسلام، اور ایک وسیع روحانی و علمی تاریخ اس کے پاس موجود ہے۔ اگر ہم اس ورثے کو صرف فخر کے الفاظ میں محفوظ سمجھ لیں اور اس کی روح، اس کے مرکز، اور اس کی عملی جمعیت کو کم زور پڑنے دیں تو ہم بھی اسی قانونِ تاریخ کی زد میں آ سکتے ہیں جس کی طرف اقبال اشارہ کر رہے ہیں۔
یہ شعر ہمیں ماضی کی عظمت پر خوش ہونے سے زیادہ اس عظمت کی امانت سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ جس قوم کے پاس نبوی ورثہ ہو، اس کے لیے غفلت اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم اپنی نسبت کو عزت کا تاج ہی نہیں، ذمہ داری کی امانت بھی سمجھیں۔
مثال
جیسے ایک بچہ اگر بڑے حکیم کے گھر میں پرورش پائے تو اس کے پاس صرف نام نہیں بلکہ علاج کا سرمایہ بھی ہوتا ہے، ویسے ہی انبیاء کی آغوش میں پلنے والی امت ایک خاص روحانی دانش کی وارث بنتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ ایک ایسی قوم بھی زوال کا شکار ہوئی جو رسولوں کی تربیت میں پلی بڑھی تھی۔ بلند ورثہ بے شک عظیم نعمت ہے، مگر اس کی بقا جمعیت، مرکزیت اور عملی وفاداری کے بغیر محفوظ نہیں رہتی۔