رموز بے خودی

تا نخیزد بانگ حق از عالمی

تا نخیزد بانگ حق از عالمی

گر مسلمانی نیاسائی دمی

ترجمہ

جب تک دنیا میں حق کی صدا بلند نہ ہو، اگر تو مسلمان ہے تو ایک دم بھی آرام نہ کر۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مسلمان کی ذمہ داری کو ایک نہایت پرجوش اور بیدار کن حکم میں بدل دیتے ہیں۔ پچھلے شعر میں وہ بتا چکے ہیں کہ مسلمان کی ہستی کا راز تکبیر میں ہے اور اس کا مقصد “لا الٰہ” کی حفاظت و اشاعت ہے۔ اب وہ اسی مقصد کا لازمی نتیجہ بیان کرتے ہیں: جب تک “بانگ حق” دنیا میں بلند نہ ہو، مسلمان کو آسودہ نہیں بیٹھنا چاہیے۔ “بانگ حق” سے مراد محض نعرہ نہیں، بلکہ حق کی سچی شہادت، توحید کی بامعنی آواز، عدل کا قیام، اخلاق کی روشنی، اور انسانیت کو جھوٹے معبودوں سے آزاد کرنے والی دعوت ہے۔

“نیاسائی دمی” میں بڑی شدت ہے، مگر اس شدت کا رخ صحیح طور پر سمجھنا چاہیے۔ اقبال بے صبری، ہنگامہ آرائی یا اندھی جلد بازی کی دعوت نہیں دے رہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی روح مقصد سے بے خبر، مطمئن، خود غرض یا بے حس نہ ہو۔ اس کے اندر ہمیشہ ایک بیدار ذمہ داری باقی رہے کہ دنیا میں حق کی صدا کم زور نہ ہو۔ اگر کہیں ظلم، باطل مرکز، اخلاقی تاریکی، یا توحید سے دوری غالب ہے تو مسلمان کے لیے یہ حالت سکون کی نہیں، خدمت، دعوت، اصلاح، اور ثابت قدم محنت کی حالت ہے۔

بانگِ حق کیا ہے:

بانگِ حق صرف زبانی دعوت نہیں۔ یہ ہر وہ صدا ہے جو انسان کو اس کے سچے رب، اس کے سچے مقصد، اور اس کی حقیقی آزادی کی طرف بلائے۔ کبھی یہ قرآن کی تلاوت میں جلوہ گر ہوتی ہے، کبھی اذان میں، کبھی عدل پر قائم ایک فیصلے میں، کبھی ظلم کے خلاف شہادت میں، کبھی خدمتِ خلق میں، اور کبھی سچے اخلاق میں۔ اقبال کے نزدیک حق کی آواز جتنی زبان سے بلند ہوتی ہے، اتنی ہی کردار سے بھی بلند ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بانگِ حق کا اٹھنا دراصل ایک پوری تہذیبی بیداری کا نام ہے۔ اگر مسلمانی صرف رسوم میں محدود ہو اور دنیا حق کی عملی روشنی سے خالی رہے تو اقبال کے معیار کے مطابق ابھی مقصد پورا نہیں ہوا۔

دم بھر بھی نہ آسودہ ہونا:

یہاں “دمی” کا لفظ ایک لمحے کی طرف اشارہ کرتا ہے، مگر اس کا مقصود مسلسل اضطراب پیدا کرنا نہیں، مسلسل ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہے۔ مسلمان آرام کر سکتا ہے، سانس لے سکتا ہے، زندگی گزار سکتا ہے، مگر اپنے مقصد سے غافل ہو کر مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اس کے باطن میں ایک ایسا چراغ جلتا رہنا چاہیے جو اسے یاد دلاتا رہے کہ ابھی حق کی شہادت کا کام باقی ہے۔

یہی بیداری فرد کو خود غرض سکون سے بچاتی ہے۔ وہ صرف اپنی نجات، اپنی سہولت یا اپنی چھوٹی دنیا میں بند نہیں رہتا۔ اس کا دل امت اور انسانیت کے بڑے منظر سے جڑا رہتا ہے۔

مسلمانی بطور امانت:

اقبال کے ہاں مسلمانی کوئی شناختی لیبل نہیں، ایک زندہ امانت ہے۔ اگر تو مسلمان ہے تو اس کے تقاضے بھی ہیں۔ ان میں سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ تو حق کے غائب ہونے، کم زور پڑنے، یا دنیا سے اٹھنے پر بے حس نہ ہو۔ تیرے اندر وہ بے چینی باقی رہنی چاہیے جو دعوت، اصلاح اور بندگی کے کام کو زندہ رکھے۔

یہ بے چینی ناامیدی کی نہیں، بیداری کی ہے۔ اقبال کی نظر میں سچا مسلمان وہ ہے جو حق کی خدمت میں مصروف رہ کر امید، سوز، عمل اور استقامت کا پیکر بنے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا میں بہت سے مسلمان اپنی ذمہ داری کو صرف ذاتی دینداری تک محدود کر لیتے ہیں، اور کچھ لوگ اسے صرف شور و ردِ عمل میں بدل دیتے ہیں۔ اقبال ان دونوں انتہاؤں کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بانگِ حق کے اٹھنے تک آسودہ نہ ہو، یعنی اپنے آپ کو بیدار، مفید، نافع، اور مقصدی رکھ۔ حق کی صدا کو علم، اخلاق، عدل، عبادت، اور خدمت کے ذریعے بلند کر۔

یہ شعر امت کے لیے ایک بیدار کن منشور ہے۔ اگر وہ اس کو صحیح توازن کے ساتھ سمجھے تو اس کی زندگی میں نئی سنجیدگی آ سکتی ہے۔ نہ سستی باقی رہے گی، نہ ہنگامہ؛ بلکہ ایک پختہ، مسلسل، اور خدا آشنا محنت جنم لے گی۔ اقبال یہی محنت چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک ذمہ دار طبیب بیماری ختم ہونے تک دل سے بے فکر نہیں ہوتا، ویسے ہی سچا مسلمان حق کی روشنی کم زور پڑنے تک اپنے مقصد سے غافل نہیں ہو سکتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مسلمان کی بیدار ذمہ داری بیان کرتے ہیں۔ جب تک دنیا میں حق کی صدا پوری طرح بلند نہ ہو، اسے اپنے مقصد سے غافل یا خود غرض سکون میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ دعوت، عدل اور شہادت کے کام میں سرگرم رہنا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button