رموز بے خودی

با تو آموزم زبان کائنات

با تو آموزم زبان کائنات

حرف و الفاظ است اعمال حیات

ترجمہ

میں تجھے کائنات کی زبان سکھاتا ہوں: زندگی کے اعمال ہی اس کے حرف اور الفاظ ہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اپنی گفتگو کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہیں۔ پچھلی بخش میں انہوں نے بتایا تھا کہ ملت کو زندہ رہنے کے لیے محسوس مرکز چاہیے اور امتِ محمدیہ کا مرکز بیت الحرام ہے۔ اب وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اس مرکز سے وابستہ زندگی کس زبان میں بولتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: آؤ میں تمہیں کائنات کی زبان سکھاؤں۔ یہ زبان محض الفاظ کی زبان نہیں، عمل کی زبان ہے۔ انسان اور قومیں صرف دعووں سے نہیں پہچانی جاتیں؛ ان کے اعمال ہی ان کی اصل بولی، ان کا لہجہ، اور ان کی سچائی یا جھوٹ کا معیار ہوتے ہیں۔

“حرف و الفاظ است اعمال حیات” ایک نہایت گہرا جملہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خود ایک کتاب کی مانند ہے، مگر اس کتاب کے الفاظ ہمارے افعال ہیں۔ جو کچھ ایک فرد کرتا ہے، اور جو کچھ ایک ملت اجتماعی سطح پر اختیار کرتی ہے، وہی اس کے اندرونی عقیدے، اس کے مرکز، اس کے مقصد، اور اس کی اخلاقی کیفیت کا اظہار بنتا ہے۔ اقبال اس طرح مسلمان کو الفاظی دینداری، رسمی وابستگی، اور خیالی عزت سے نکال کر عملی سچائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر اعمال میں بکھراؤ ہو تو دعویٰ کم زور ہے، اور اگر اعمال میں مقصد، سمت اور نظم ہو تو زندگی خود بولنے لگتی ہے۔

کائنات کی زبان:

کائنات کی زبان سے مراد وہ قانون ہے جس کے تحت ہر شے اپنے باطن کو اپنے عمل سے ظاہر کرتی ہے۔ بیج بولتا نہیں، مگر اگ کر اپنی حقیقت بتا دیتا ہے۔ دریا اعلان نہیں کرتا، مگر اپنے بہاؤ سے پہچانا جاتا ہے۔ سورج تقریر نہیں کرتا، مگر اپنی روشنی سے اپنا کام ظاہر کرتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان بھی یہی سمجھے کہ زندگی کی اصل گواہی زبان سے پہلے عمل میں دی جاتی ہے۔

یہ زبان عالم گیر بھی ہے اور خاموش بھی۔ اس میں دھوکا کم چلتا ہے، کیونکہ جو شخص جو کچھ کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ اس کے باطن کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اسی لیے اقبال ابتدا ہی میں اعمال کو زبان قرار دیتے ہیں تاکہ پوری بحث کو اخلاقی اور عملی بنیاد مل جائے۔

عمل بطور حرف:

حرف اور الفاظ کسی معنی کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر اعمال کو زندگی کے الفاظ کہا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر عمل بے معنی نہیں ہوتا؛ وہ کسی نہ کسی باطنی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے۔ عبادت، سیاست، علم، تجارت، تعلقات، قربانی، خدمت، نظم، وفاداری، سب زندگی کی زبان کے الفاظ ہیں۔ انھی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فرد یا ملت کا اصل پیغام کیا ہے۔

اس سے ایک بڑا اصول نکلتا ہے: اگر ہم اپنی اجتماعی زبان بدلنا چاہتے ہیں تو صرف تقریروں سے کچھ نہیں ہوگا، اعمال بدلنے ہوں گے۔ ملت کی بولی وہی ہے جو اس کے اداروں، اس کے کردار، اس کے تعلقات، اور اس کے طرزِ حیات میں سنائی دے۔ اقبال اسی اصلاحی سمت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

دعویٰ اور شہادت:

اقبال پہلے بھی امت کو “دعویٰ” اور “دلیل” کے تعلق میں دیکھ چکے ہیں۔ یہاں وہ اسی حقیقت کو ایک نئی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ اگر اعمال زندگی کے الفاظ ہیں تو دعوے اس وقت معتبر ہوتے ہیں جب ان کے مطابق عمل بھی موجود ہو۔ توحید کی بات کرنا آسان ہے، مگر توحید کی زبان میں جینا مشکل۔ وحدت کی بات کرنا آسان ہے، مگر اختلافات کو مقصد کے تابع کر کے جمعیت پیدا کرنا مشکل۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال مسلمان کو محض شعوری یا جذباتی وابستگی پر مطمئن نہیں ہونے دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کی زندگی خود دلیل بنے۔ عمل ہی شہادت ہے، اور شہادت ہی اصل زبان ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہماری سب سے بڑی کم زوریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم الفاظ کی کثرت میں اعمال کی کم زوری چھپا لیتے ہیں۔ نعرے بہت، مگر نظم کم؛ دعوے بہت، مگر امانت کم؛ محبت بہت، مگر قربانی کم؛ وابستگی بہت، مگر مقصد کے مطابق اجتماعی عمل کم۔ اقبال اس شعر میں پہلے ہی قدم پر ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ اپنی زندگی کی بولی دیکھو۔ تمہاری زبان وہ نہیں جو تم منہ سے کہتے ہو، بلکہ وہ ہے جو تم اپنے عمل سے لکھ رہے ہو۔

یہ شعر فرد اور جماعت دونوں کو محاسبے کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہمارے اعمال بکھرے ہوئے ہیں تو ہماری زبان ٹوٹی ہوئی ہے۔ اور اگر اعمال مقصد کے تابع ہو جائیں تو ملت دوبارہ ایک واضح، بامعنی اور مؤثر زبان پا سکتی ہے۔ اقبال اسی زندہ زبان کی تعلیم دے رہے ہیں۔

مثال

جیسے کسی درخت کی حقیقت اس کے پتے، پھول اور پھل بتاتے ہیں، محض نام نہیں، ویسے ہی انسان اور قوم کی اصل زبان اس کے اعمال ہوتے ہیں، صرف دعوے نہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی کی اصل زبان عمل ہے۔ فرد اور ملت کے افعال ہی ان کے باطن، مقصد اور صداقت کے حقیقی الفاظ بنتے ہیں، اس لیے اصلاح کا آغاز عمل کی درستی سے ہونا چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button