رموز بے خودی

حلقه را مرکز چو جان در پیکر است

حلقه را مرکز چو جان در پیکر است

خط او در نقطه ی او مضمر است

ترجمہ

جس طرح جسم میں جان ہوتی ہے، اسی طرح حلقے کے لیے مرکز ہوتا ہے، اور اس کی پوری لکیر اپنے نقطے کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مرکز کے فلسفے کو نہایت دل نشین مثال سے واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حلقہ اپنے مرکز کے لیے ایسا ہے جیسے پیکر اپنے اندر جان رکھتا ہے، اور اس کی پوری خط اپنے نقطے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مرکز کوئی زائد شے نہیں، بلکہ وجود کی روح ہے۔ جسم کے لیے جان محض ایک جز نہیں بلکہ پوری حیات کا منبع ہے۔ اسی طرح حلقے کے لیے مرکز محض درمیان کی جگہ نہیں بلکہ اس کی ترتیب، اس کی توازن اور اس کی حقیقت کا سرچشمہ ہے۔ اقبال ملت کی مرکزیت کو اسی وجودی اہمیت کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں۔

دوسرا مصرعہ اس بات کو اور زیادہ باریک بنا دیتا ہے۔ “خط او در نقطه ی او مضمر است” یعنی پورا دائرہ اپنے نقطے میں پوشیدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکز میں صرف نظم نہیں، امکان بھی جمع ہوتا ہے۔ جیسے نقطہ بڑھ کر خط بن سکتا ہے، اور خط اپنی ترتیب سے دائرہ بنا سکتا ہے، ویسے ہی ایک صحیح مرکز پوری جماعت کی صورت، ربط، سمت اور وسعت کو اپنے اندر بالقوہ رکھتا ہے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ ملت کا مرکز اس کے لیے صرف علامت نہیں، بلکہ وہ نقطۂ حیات ہے جس سے پوری جمعیت کو معنی، ربط اور دوام حاصل ہوتا ہے۔

جان اور پیکر کی مثال:

پیکر جان کے بغیر جسم تو رہ سکتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔ اسی طرح ایک ملت مرکز کے بغیر آبادی تو رہ سکتی ہے مگر حقیقی وحدت کھو دیتی ہے۔ اقبال نے جان اور پیکر کی مثال اس لیے دی کہ وہ مرکز کی حیثیت کو محض سیاسی یا انتظامی معاملہ نہ رہنے دیں۔ یہ رشتہ وجودی ہے۔ جیسے جان پورے جسم میں اثر رکھتی ہے، ویسے ہی مرکز پوری جماعت کے شعور، حرکت اور نظم میں اثر انداز ہوتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی مضمر ہے کہ جان نظر نہیں آتی مگر اس کے آثار ہر عضو میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرکز کبھی صرف ظاہری نظم سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ اس کے آثار پوری جمعیت کے مزاج، ربط، عبادت، وفاداری اور سمت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اقبال کا زور اسی زندہ مرکز پر ہے، نہ کہ محض نام کے مرکز پر۔

نقطہ اور خط:

نقطہ ظاہراً چھوٹا ہے مگر ریاضی اور ہندسہ میں اس کی اہمیت بنیادی ہے۔ خط اسی سے نکلتا ہے، شکلیں اسی سے بنتی ہیں، اور دائرہ بھی اسی کی نسبت سے سمجھا جاتا ہے۔ اقبال نے اس مثال کے ذریعے یہ بتا دیا کہ مرکز کا چھوٹا نظر آنا اس کے کم اہم ہونے کی دلیل نہیں۔ بہت بار حقیقت کا پورا پھیلاؤ ایک مختصر مگر فیصلہ کن نقطے میں مخفی ہوتا ہے۔

ملت کی زندگی میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر مختصر یا علامتی معلوم ہوتی ہیں، مگر وہی اس کے تمام پھیلاؤ کو معنی دیتی ہیں۔ اگر نقطہ ضائع ہو جائے تو خط کی ترتیب بکھر جاتی ہے۔ اسی طرح اگر مرکز کا شعور کمزور ہو جائے تو جماعت کا دائرہ باہر سے موجود رہ کر بھی اندر سے بے نظم ہونے لگتا ہے۔

مرکز اور محیط کا ربط:

حلقہ اپنے مرکز سے جڑا رہتا ہے، اگرچہ اس کی محیط دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی ملی حیات کی صورت ہے۔ مسلمان مختلف علاقوں، زبانوں، عادات اور معاشرتی حالات میں بکھرے ہو سکتے ہیں، مگر اگر ان کا مرکز ایک ہو تو ان کی محیط بھی ایک معنی رکھتی ہے۔ مرکز ان کے ظاہری تنوع کو بے معنی نہیں کرتا، بلکہ اس تنوع کو دائرے کی منظم وسعت میں بدل دیتا ہے۔

یہی نکتہ بہت اہم ہے، کیونکہ مرکزیت کا مطلب یکسانیت نہیں۔ دائرے کی ہر نقطہ اپنی جگہ پر رہتی ہے، مگر سب کا ربط ایک مرکز کے ساتھ ہوتا ہے۔ ملت بھی اسی طرح اپنے اندر تنوع رکھ سکتی ہے، مگر مرکز اسے تفرقہ نہیں بننے دیتا۔ اقبال کی وحدت تنوع کو مٹانے والی وحدت نہیں، اسے نظم دینے والی وحدت ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر مرکز کو صرف ادارتی یا انتظامی سطح پر سمجھتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اصل مرکز وہ ہے جو جان کی طرح پیکر میں جان ڈالے اور نقطے کی طرح پوری شکل کی تہہ میں کام کرے۔ اگر ہمارا تعلق مرکز سے سطحی ہو تو ہماری اجتماعی زندگی بھی سطحی رہتی ہے۔ اگر یہ تعلق واقعی جان والا ہو، تو منتشر وجود بھی ایک دائرے کی طرح معنی خیز ہو سکتا ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی ملت کے دوام کے لیے ایسی علامتیں اور ایسے مراکز ضروری ہیں جو اس کے افراد کے لیے محض یادگار نہ ہوں بلکہ جان کی حیثیت رکھیں۔ جب ایسا ہو جائے تو جغرافیہ وسیع ہو سکتا ہے، مگر باطن ایک رہتا ہے۔ اقبال اسی وحدتِ جان کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مثال

جیسے چراغ کی شعلہ چھوٹی دکھائی دیتی ہے مگر اسی سے پورا کمرہ روشن ہوتا ہے، ویسے ہی مرکز بظاہر مختصر ہو کر بھی پوری جماعت کو معنی اور روشنی دے سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مرکز کی حیثیت کو جان اور نقطے کی مثال سے واضح کرتے ہیں۔ ملت کا مرکز اس کے لیے محض ایک مقام نہیں، بلکہ پوری جمعیت کی روح اور نظم کا سرچشمہ ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button