کوکبی در چشم او گردید و ریخت
کوکبی در چشم او گردید و ریخت
بر سر مژگان دمی تابید و ریخت
ترجمہ
ان کی آنکھ میں ایک ستارہ سا ابھرا، پل بھر پلکوں پر چمکا، اور پھر بہہ گیا۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال اپنے والد کی آنکھ میں آنے والے آنسو کو ایک نہایت لطیف اور اثر انگیز تصویر میں ڈھالتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک “کوکب” یعنی ستارہ ان کی آنکھ میں نمودار ہوا، پلکوں پر کچھ دیر چمکا، اور پھر گر پڑا۔ یہاں آنسو کو ستارے سے تشبیہ دینا صرف شعری حسن نہیں، بلکہ یہ بتانے کا ایک گہرا طریقہ ہے کہ باپ کے دل کا یہ درد محض کمزوری نہیں تھا۔ یہ نور بھی تھا، حرارت بھی، اور اخلاقی بیداری کا پیغام بھی۔ آنسو جب ایک تربیت یافتہ دل سے نکلتا ہے تو وہ صرف غم کی نشانی نہیں رہتا، وہ ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں سامنے والے کو اپنی حقیقت دکھائی دینے لگتی ہے۔
اس منظر میں شور نہیں، ملامت نہیں، چیخ نہیں، صرف آنکھ میں ٹھہرا ہوا ایک ستارہ ہے۔ اقبال نے والد کی اس کیفیت کو اس قدر لطافت سے بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ اصل تربیت کبھی کبھی ایک قطرۂ اشک سے زیادہ گہری ہو سکتی ہے۔ والد نے شاید کچھ کہا بھی نہ ہو، مگر ان کی آنکھ میں آیا ہوا یہ کوکب بیٹے کے لیے ایک خاموش پیغام تھا کہ تمہاری یہ سختی کسی بے نام واقعے کی نہیں، ایک دل آزار لغزش کی علامت ہے۔
اشک بطور نور:
اشک کو کوکب کہنا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ آنسو تاریکی کی پیداوار نہیں، روشنی کی پیداوار ہے۔ جس دل میں شفقت، تربیت، ایمان اور اخلاقی حساسیت ہو، وہی اس طرح روتا ہے۔ ایسے آنسو کے پیچھے صرف محبت نہیں، بصیرت بھی ہوتی ہے۔ باپ یہ دیکھ رہا ہے کہ بیٹے کے ایک عمل میں اس کے مستقبل کے مزاج کی جھلک ہے، اس لیے اس کی آنکھ میں آیا ہوا آنسو دراصل ایک روشن تنبیہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال اسے بے وزن قطرہ نہیں کہتے بلکہ ستارہ کہتے ہیں۔ ستارہ راستہ بھی دکھاتا ہے۔ گویا باپ کا یہ اشک بیٹے کے لیے ہدایت کی ایک چمک بھی بن سکتا تھا، اگر وہ اسے سمجھ لے۔
پلکوں پر ٹھہری ہوئی ندامت:
“بر سر مژگان دمی تابید” میں ایک نہایت حسین توقف ہے۔ آنسو فوراً نہیں گرا، کچھ دیر پلکوں پر ٹھہرا۔ یہ توقف اس تربیتی لمحے کی علامت ہے جس میں درد ابھی کلام بننے سے پہلے چہرے پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ ایسے لمحے میں سامنے والے کو اپنے عمل کا اثر پورے وقار کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ اگر ڈانٹ فوراً آ جائے تو شاید انسان دفاع میں چلا جائے، لیکن جب صرف ایک اشک پلکوں پر ٹھہرا ہو تو ضمیر کا دروازہ زیادہ نرم ہو کر کھلتا ہے۔
پھر “ریخت” کا لفظ آتا ہے۔ یعنی یہ نور ٹوٹ کر گر گیا۔ اس میں دکھ بھی ہے اور عظمت بھی۔ تربیت یافتہ دل بہت بار بلند وعظ نہیں کرتا، بلکہ خاموشی سے ٹوٹ جاتا ہے، اور وہ ٹوٹنا سامنے والے کی روح پر دیرپا اثر چھوڑ دیتا ہے۔
آدابِ محمدیہ کا مزاج:
اس پوری بخش کا مقصد یہی ہے کہ ملی حسنِ سیرت، آدابِ محمدیہ سے پیدا ہوتا ہے۔ نبوی ادب میں ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ اخلاقی معاملہ دل کی گہرائی سے لیا جائے۔ کمزور، یتیم، سائل، غلام، غلطی کرنے والا نوجوان، یہ سب ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ نبی کریم کا سلوک رحمت، حلم اور دل داری سے بھرا ہوا تھا۔ اقبال کے والد کا آنسو اسی رحمت آمیز مزاج کا عکس معلوم ہوتا ہے۔ وہ محض برہمی نہیں دکھاتے، بلکہ دل کے اندر سے اٹھا ہوا دکھ دکھاتے ہیں۔
گویا یہ اشک شخصی کمزوری نہیں، نبوی تہذیب کی ایک جھلک ہے۔ اسی طرح کے دل اگر گھروں، مدرسوں، حلقوں اور امت کی قیادت میں باقی رہیں تو کردار سازی کا کام محض حکم سے نہیں، محبت آمیز نور سے بھی ہوتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری دنیا میں آنسو کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر تربیت کے میدان میں۔ مگر اقبال بتاتے ہیں کہ ہر آنسو کمزوری نہیں ہوتا۔ بعض آنسو اس قدر بامعنی ہوتے ہیں کہ وہ ایک پوری کتاب سے بڑھ کر انسان کو اپنی غلطی کا شعور دے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے دل ابھی اتنے زندہ ہیں کہ کسی بے رحمی، کسی بدتمیزی، یا کسی کمزور پر سختی پر ہماری آنکھ بھیگ سکے؟
یہ شعر ہمیں دو سبق دیتا ہے: ایک یہ کہ ایسے اشک کی قدر پہچانی جائے، اور دوسرا یہ کہ ہم خود اپنے اندر وہ دل پیدا کریں جس میں اخلاقی حساسیت اتنی زندہ ہو کہ ظلم یا بداخلاقی پر صرف بحث نہ ہو، دل بھی کانپ اٹھے۔
مثال
جیسے اندھیری رات میں ایک ستارہ مسافر کو خاموشی سے سمت دکھا دیتا ہے، ویسے ہی مخلص دل کا ایک آنسو گمراہ مزاج کو راستہ دکھا سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں والد کے آنسو کو ستارے سے تشبیہ دے کر بتاتے ہیں کہ سچی تربیت کا درد نور بھی رکھتا ہے۔ ایسا اشک ملامت سے بڑھ کر انسان کو اپنی اخلاقی لغزش کا شعور دے سکتا ہے۔