بادہ ہا خوردند و صہبا باقی است
بادہ ہا خوردند و صہبا باقی است
دوشہا خون گشت و فردا باقی است
ترجمہ
بہت سی مے پی لی گئی، مگر صہبا اب بھی باقی ہے۔ بہت سے گزرے ہوئے دن خون ہو گئے، مگر فردا اب بھی موجود ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فنا اور بقا کے درمیان ایک نہایت پراثر نسبت قائم کرتے ہیں۔ بہت سے جام پیے جا چکے، بہت سا شراب نوشی کا عمل گزر چکا، مگر خود صہبا باقی ہے۔ اسی طرح بہت سے گزرے ہوئے کل خون میں ڈھل گئے، یعنی تاریخ میں مصیبت، الم، شکست، قربانی اور خونریزی کے مراحل آ چکے، مگر فردا باقی ہے۔ یہ شعر ملتِ محمدیہ کو ایک عظیم نفسیاتی اور روحانی سبق دیتا ہے: گزشتہ مصائب، ماضی کے مصرف اور گزرے ہوئے ادوار اصل سرچشمے کو ختم نہیں کرتے، اور کل کے خون آلود ہونے کے باوجود آنے والا دن بند نہیں ہو جاتا۔ شعر کے مطابق:
بادہ اور صہبا کا فرق:
بادہ ہا خوردند میں عمل اور مصرف کی طرف اشارہ ہے، جبکہ صہبا باقی است میں اصل حقیقت کی طرف۔ جام ختم ہو سکتے ہیں، مے نوشی کے مواقع گزر سکتے ہیں، مگر اس سرمست کر دینے والی اصل شراب کا وجود باقی رہتا ہے۔ اقبال اس سے ملت کے انفرادی اور وقتی مظاہر کے مقابل اس کی اصل روح کو نمایاں کرتے ہیں۔
گویا افراد اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں، نسلیں اپنے اپنے دور میں فیض پا کر گزر جاتی ہیں، لیکن ملت کی اصل روحانی مے، یعنی اس کا سرچشمۂ حیات، باقی رہتا ہے۔ اسی لیے اس میں بار بار نئی زندگی پیدا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔
دوشہا خون گشت:
یہ مصرعہ تاریخ کے درد کو نظر انداز نہیں کرتا۔ بہت سے گزرے ہوئے کل خون ہو گئے، یعنی ان میں صرف خوشی یا جشن نہ تھا بلکہ آزمائش، ظلم، شہادت اور اجتماعی رنج بھی تھا۔ اقبال ملت کی تاریخ کو رومانوی پردے میں نہیں چھپاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ دوام کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
لیکن اس خون آلود ماضی کو وہ ناامیدی کی دلیل نہیں بناتے۔ بلکہ اس کے بعد فوراً کہتے ہیں: فردا باقی است۔ یعنی قربانی اور ابتلا تاریخ کا اختتام نہیں، بلکہ آنے والے دن کی تمہید بھی ہو سکتی ہے۔
فردا کی بشارت:
فردا اقبال کے یہاں محض کیلنڈر کا اگلا دن نہیں بلکہ امکان، امید، تجدید اور مستقبل کی علامت ہے۔ جو قوم اپنا فردا کھو دے وہ ماضی کے ملبے میں دفن ہو جاتی ہے۔ اقبال ملت کو فردا کا شعور دیتے ہیں کہ اگر کل خون میں ڈوبا تھا تب بھی آنے والا زمانہ بند نہیں ہوا۔
یہ فردا اسی کے لیے باقی ہے جو اصل صہبا کو پہچانتا ہو۔ اگر ملت کا رشتہ اپنے سرچشمۂ ایمان، اپنے مقصد اور اپنی روحانی حیات سے جڑا رہے تو آنے والا دن اس کے لیے نئے امکانات لے کر آسکتا ہے۔
تاریخ کا صحیح مطالعہ:
اس شعر سے اقبال یہ بھی سکھاتے ہیں کہ تاریخ کو کیسے پڑھنا چاہیے۔ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کتنے جام خالی ہوئے یا کتنے کل خون آلود تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا اصل مے باقی ہے اور کیا فردا باقی ہے۔ یعنی سرچشمہ باقی ہے یا نہیں، اور مستقبل کا دروازہ کھلا ہے یا نہیں۔
ملتِ محمدیہ کے بارے میں اقبال کا جواب واضح ہے: اس کی اصل صہبا باقی ہے۔ اسی لیے اس کے لیے فردا بھی باقی ہے۔ اگر یہ یقین ختم ہو جائے تو امت اپنے ماضی کی قید میں رہ جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری دنیا میں بہت سے ایسے مناظر ہیں جو “دوشہا خون گشت” کی یاد دلاتے ہیں۔ لیکن اقبال چاہتے ہیں کہ امت خود کو صرف زخموں کی قوم نہ سمجھے۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی اصل دولت، اس کی روحانی مے اور اس کا امکانِ فردا اب بھی موجود ہے۔ اسی یقین سے عمل، تعمیر، تربیت اور تجدید کی قوت پیدا ہوتی ہے۔
مثال
جیسے ایک خاندان سخت حادثات، بیماریوں یا مالی تباہی سے گزرنے کے باوجود اگر اپنی باہمی محبت، ایمان اور حوصلہ باقی رکھے تو اس کے لیے فردا پھر بھی موجود رہتا ہے، ویسے ہی امت کی اصل بقا بھی اس کے باطنی سرچشمے پر قائم ہے، نہ کہ صرف گزرے ہوئے حادثات پر۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ بہت کچھ صرف ہو جانے اور بہت کچھ خون میں ڈھل جانے کے باوجود اصل صہبا باقی رہتی ہے اور فردا بھی باقی رہتا ہے۔ اس سے وہ ملتِ محمدیہ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس کا سرچشمۂ حیات اور اس کا مستقبل دونوں ختم نہیں ہوئے۔