رموز بے خودی

چشم جانرا سرمہ اش اعمی کند

چشم جانرا سرمہ اش اعمی کند

روز روشن را شب یلدا کند

ترجمہ

اس کی سرمہ آنکھِ جان کو اندھا کر دیتی ہے، اور روشن دن کو بھی شبِ یلدا بنا دیتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں ناامیدی کے ایک نہایت لطیف مگر ہولناک اثر کو بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یأس انسان کے باطن پر ایسی سیاہی مل دیتی ہے جو اس کی روحانی آنکھ کو اندھا کر دیتی ہے۔ پھر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ باہر روشنی موجود ہوتی ہے، امکانات بھی موجود ہوتے ہیں، رحمت کے در بھی کھلے ہوتے ہیں، مگر ناامیدی کے مریض کو سب کچھ اندھیرا نظر آنے لگتا ہے۔ شعر کے مطابق:

آنکھِ جان کیا ہے:

“چشمِ جان” سے مراد وہ باطنی بصیرت ہے جس سے انسان معنی، امید، حق اور انجام کو دیکھتا ہے۔ ظاہری آنکھ دنیا کے مناظر دیکھتی ہے، مگر آنکھِ جان زندگی کی حقیقت پہچانتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی بصیرت انسان کو حالات کے پیچھے خدا کی حکمت، آزمائش کے پیچھے تربیت، اور گناہ کے بعد توبہ کے امکان کو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔

اگر یہی آنکھ کمزور پڑ جائے تو آدمی معلومات رکھتے ہوئے بھی حقیقت سے دور ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے دیکھنے کا اندرونی معیار خراب ہو چکا ہوتا ہے۔

سرمہ بطور استعارہ:

عام طور پر سرمہ آنکھ کو جِلا دینے اور تیز کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر اقبال نے یہاں الٹ استعارہ بنایا ہے۔ یأس کا سرمہ آنکھ کو روشن نہیں کرتا بلکہ اندھا کر دیتا ہے۔ یعنی ناامیدی ایسی چیز ہے جو بظاہر کسی منطقی نتیجے یا تجربے کی صورت میں آتی ہے، مگر حقیقت میں بصیرت کو خراب کر دیتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت پسند ہو گیا ہے، جبکہ دراصل وہ امید کے نور سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔

یہ ایک بڑی تنبیہ ہے کہ ہر مایوسی کو حقیقت پسندی سمجھ لینا درست نہیں۔ بہت مرتبہ وہ ایمان کی روشنی سے دوری کا نتیجہ ہوتی ہے۔

روشن دن کا شبِ یلدا بن جانا:

شبِ یلدا فارسی روایت میں سب سے لمبی اور تاریک رات کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ناامیدی کی کیفیت ایسی ہے کہ روشن دن بھی انسان کو اندھی رات دکھائی دیتا ہے۔ یعنی مواقع موجود ہوں، نعمتیں سامنے ہوں، لوگ ساتھ ہوں، دروازے کھلے ہوں، مگر دل کی ظلمت سب کچھ چھپا دیتی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ ہمیشہ حالات کا نہیں ہوتا، بلکہ نگاہ کی کیفیت کا بھی ہوتا ہے۔ باطن اندھیرا ہو تو اجالا بھی بےاثر محسوس ہوتا ہے۔

روحانی اور نفسیاتی معنی:

یہ شعر نفسیات اور روحانیت دونوں کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے۔ ناامیدی انسان کی امید پر نہیں، اس کے ادراک پر بھی حملہ کرتی ہے۔ وہ سچائی کے روشن پہلو نہیں دیکھ پاتا، رحمت کے آثار محسوس نہیں کرتا، اور اپنے امکانات کو بھی کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے یأس کا علاج صرف حالات بدلنے سے نہیں، بلکہ دل کے چراغ کو دوبارہ روشن کرنے سے ہوتا ہے۔

اقبال اسی لیے توحید اور قرآنی امید کو اس بیماری کا اصل علاج بناتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کے دیکھنے کے زاویے کو درست کرتی ہے۔

ملت کے لیے پیغام:

ایک قوم بھی جب ناامید ہو جاتی ہے تو اپنی تاریخ کے امکانات، اپنی تہذیب کی قوت اور اپنے مستقبل کے دروازے دیکھنا چھوڑ دیتی ہے۔ وہ اپنی ہی روشنی کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتی ہے۔ اقبال ملت کو اس اندھے پن سے بچانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت اپنی آنکھِ جان کو یأس کے سرمے سے نہیں بلکہ ایمان کے نور سے روشن رکھے۔

یوں یہ شعر فرد کی نفسیاتی اصلاح کے ساتھ قوم کی تاریخی بیداری کی بھی دعوت ہے۔

مثال

بعض لوگ بارش کے بعد کھلے آسمان میں بھی یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ طوفان ختم نہیں ہوا، کیونکہ ان کے دل پر خوف سوار رہتا ہے۔ اسی طرح ناامیدی انسان کو روشنی میں بھی اندھیرا محسوس کراتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ناامیدی انسان کی آنکھِ جان کو اندھا کر دیتی ہے اور روشن حقیقت کو بھی تاریک بنا دیتی ہے۔ اس کا علاج امید، توحید اور باطنی بصیرت کی تجدید میں ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button