رموز بے خودی

ای که خوردستی ز مینای خلیل

ای که خوردستی ز مینای خلیل

گرمی خونت ز صهبای خلیل

ترجمہ

اے وہ جس نے خلیل کے جام سے پیا ہے، تیرے خون کی گرمی بھی خلیل کی صہبا سے ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ابراہیمی ورثے کی طرف رجوع دلاتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے بتایا تھا کہ آدمیت جھوٹے بتوں کے قدموں میں ذبح ہو رہی ہے۔ اب وہ اس منظر کے مقابل ایک زندہ نسبت سامنے رکھتے ہیں: “مینای خلیل” اور “صهبای خلیل”۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام توحید، شجاعت، بت شکنی، مہمان نوازی، قربانی، اور اللہ کے ساتھ خالص وفاداری کے بڑے استعارے ہیں۔ اقبال مسلمان سے کہتے ہیں: تو وہ ہے جس نے ابراہیم کے جام سے پیا ہے؛ تیرے خون کی گرمی اسی نسبت سے ہے۔ یعنی اگر تیری رگوں میں کوئی ایمان، غیرت، جرات اور حق آشنائی باقی ہے تو وہ ابراہیمی شرابِ توحید ہی کا اثر ہے۔

یہاں “صهبا” اور “مینا” دونوں الفاظ عشق، سرور، باطنی حرارت اور وارفتگی کے استعارے ہیں، مگر یہ وارفتگی نفسانی نہیں، توحیدی ہے۔ اقبال ابراہیم علیہ السلام کو صرف تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں، ایک زندہ روحانی مزاج کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ مسلمان کو یاد دلاتے ہیں کہ تیری اصل نسبت نرم خو کمزوری کی نہیں، خلیل کی گرم جوشی اور بت شکن غیرت کی ہے۔ اگر تو یہ نسبت پہچان لے تو جدید بت خانوں کے سامنے تیرا موقف بھی بدل سکتا ہے۔

مینای خلیل:

مینا ظرف ہے، اور یہاں اس سے مراد وہ ابراہیمی وراثت ہے جس سے ایمان اور حریت کے جام پلائے جاتے ہیں۔ اقبال یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسلمان کو جو کچھ ملا ہے وہ محض فقہی وراثت یا تاریخی شناخت نہیں، ایک باطنی ذوق اور اخلاقی قوت بھی ہے۔ اگر اس نے واقعی خلیل کے جام سے پیا ہے تو اس کی نظر میں بت کبھی محترم نہیں بن سکتے۔

یہ تمثیل یہ بھی بتاتی ہے کہ وراثت صرف علم سے نہیں، ذوق سے بھی منتقل ہوتی ہے۔ خلیل کا جام پینا یعنی ان کے سوز، ان کے یقین، اور ان کے توکل سے حصہ پانا۔ اقبال اسی ذوقی نسبت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔

خون کی گرمی:

خون کی گرمی حیات، غیرت، حرکت، اور جرات کی علامت ہے۔ اگر مسلمان کے اندر حق کے لیے اضطراب، باطل سے نفرت، اور عدل کے لیے کھڑے ہونے کی طاقت ہے تو اقبال کے مطابق یہ سب ابراہیمی صہبا کے اثرات ہیں۔ یعنی یہ گرمی محض مزاجی یا نسلی نہیں، ایمانی اور روحانی ہے۔

یہاں ایک بڑی تربیت یہ بھی ہے کہ اپنی قوت کو اپنی ذات کی پیداوار نہ سمجھو۔ اس کا منبع ایک مقدس ورثہ ہے۔ جب آدمی اپنے جوش کو اس اصل منبع سے جوڑتا ہے تو وہ غرور میں نہیں، شکر اور ذمہ داری میں بدلتا ہے۔

ابراہیمی مزاج:

ابراہیم علیہ السلام کا مزاج یہ تھا کہ باطل کے آگے نہ جھکے، سچے رب کے لیے سب کچھ چھوڑ دے، اور اپنی محبت، قربانی اور جرات سب کو توحید کے تابع رکھے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے اندر اسی مزاج کی بازیافت کرے۔ اگر یہ مزاج کمزور پڑ گیا تو بت گری نئی شکلوں میں غالب آ جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ وہ خلیل کی نسبت کو صرف شرف کے طور پر نہیں لاتے، تحریک کے طور پر لاتے ہیں۔ یعنی اگر تو ابراہیمی جام سے فیض یافتہ ہے تو پھر تیرے اندر بت شکنی کی اخلاقی جرأت بھی موجود ہونی چاہیے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان اکثر اپنی کمزوریوں، خوفوں، اور تاریخی شکستوں کو دیکھ کر اپنے اصل روحانی ورثے کو بھول جاتا ہے۔ اقبال اسے جھنجھوڑتے ہیں کہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔ تمہارے خون کی اصل گرمی مادہ پرستی، قوم پرستی، یا نفسانی طرب سے نہیں، خلیل کی صہبا سے ہے۔ اس لیے تمہاری غیرت کا معیار بھی اسی کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ شعر امت کو حوصلہ بھی دیتا ہے اور امتحان میں بھی ڈالتا ہے۔ اگر ہم واقعی خلیل کے جام سے پینے والے ہیں تو پھر ہمیں اپنے زمانے کے بتوں پر بھی وہی نظر رکھنی ہوگی جو ابراہیم علیہ السلام نے رکھی تھی۔ اقبال کی یہی نسبتِ ابراہیمی مسلمان کو دفاعی کمزوری سے نکال کر فعال توحید کی طرف بلاتی ہے۔

مثال

جیسے کسی بہادر خاندان کا سچا وارث اپنے ورثے کو صرف نام میں نہیں بلکہ کردار میں ثابت کرتا ہے، ویسے ہی ابراہیمی ورثہ بھی صرف دعوے سے نہیں، توحیدی جرات سے سچ ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مسلمان کو اس کے ابراہیمی ورثے کی یاد دلاتے ہیں۔ اگر اس کے خون میں کوئی سچی غیرت اور حرارت ہے تو وہ خلیل کی صہبا سے ہے، اور اسی نسبت کا تقاضا بت شکنی اور توحیدی استقامت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button