این کهن پیکر که عالم نام اوست
این کهن پیکر که عالم نام اوست
ز امتزاج امهات اندام اوست
ترجمہ
یہ قدیم پیکر جس کا نام عالم ہے، اس کے اعضا بنیادی امہات کے امتزاج سے بنے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد کی بحث کو ایک وسیع تر کائناتی اور اجتماعی پس منظر میں لے جاتے ہیں۔ اب وہ صرف فرد، پروانہ، مسافر یا قوم کی حرکت کی بات نہیں کر رہے، بلکہ خود عالم کو ایک “کہن پیکر” یعنی قدیم جسم کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ “عالم” یہاں بکھری ہوئی چیزوں کا مجموعہ نہیں، ایک جڑا ہوا پیکر ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کی نظر میں حقیقت کی ساخت خود ترکیب، ربط اور امتزاج پر قائم ہے۔ دنیا کی اشیا الگ الگ خانوں میں خود مختار وجود نہیں رکھتیں؛ ان کے درمیان ایک عضوی تعلق موجود ہے۔
“ز امتزاج امهات اندام اوست” میں “امهات” سے مراد وہ بنیادی عناصر یا اصول ہیں جن کے ملاپ سے کائناتی پیکر کے اعضا بنتے ہیں۔ اس کا ایک سادہ مفہوم یہ ہے کہ عالم خود ایک مرکب حقیقت ہے؛ اس کے اجزا تنہا نہیں بلکہ اختلاط اور ربط سے معنی پاتے ہیں۔ اقبال اس تمثیل کے ذریعے ملت کے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں: اگر خود عالم ایک مربوط پیکر ہے، تو زندگی کی کامیابی بھی امتزاج، ربط، اور صحیح ترکیب میں ہوگی، نہ کہ بے نظم انفرادیت میں۔
عالم بطور پیکر:
پیکر کی تشبیہ یہ سکھاتی ہے کہ کائنات کے اجزا کا تعلق اعضائے جسم کی طرح ہے۔ ہاتھ الگ اہمیت رکھتا ہے، آنکھ الگ، دل الگ، مگر ان میں سے کوئی تنہا مکمل زندگی نہیں بناتا۔ مکمل حیات ان کے ربط سے پیدا ہوتی ہے۔ اقبال یہی اصول کائنات کی سطح پر دیکھتے ہیں اور پھر اسے انسانی و ملی حیات کی طرف منتقل کرتے ہیں۔
یہ نظر انسان کو دو بڑی غلطیوں سے بچاتی ہے: ایک یہ کہ وہ خود کو بالکل الگ سمجھے، اور دوسری یہ کہ وہ ربط کے بغیر وحدت چاہے۔ پیکر میں تنوع بھی ہے اور وحدت بھی۔ اقبال کے نزدیک سچی جمعیت بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
امتزاج کی حکمت:
امتزاج کا مطلب محض ملاپ نہیں بلکہ ایسا ربط ہے جس سے نئی صورت اور نئی قوت پیدا ہو۔ پانی، ہوا، مٹی اور آگ اپنی اپنی جگہ عناصر ہو سکتے ہیں، مگر زندگی ان کے خاص تناسب اور تعلق سے بنتی ہے۔ اسی طرح فرد، خاندان، علم، عبادت، قانون، اخلاق، تہذیب اور سیاست جب صحیح مرکز کے تابع امتزاج اختیار کریں تو ملت کی زندگی بنتی ہے۔
یہاں اقبال کا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ بکھراؤ فطرتِ عالم کے خلاف ہے۔ اصل فطری قانون ترکیب ہے۔ جو قوم اس ترکیب کو سمجھ لے وہ اپنی قوتوں کو بھی بہتر طور پر جمع کر سکتی ہے۔
قدامت اور تسلسل:
“کهن پیکر” کا لفظ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ عالم کوئی آج کا بنا ہوا کھیل نہیں، ایک دیرینہ نظام ہے۔ اس کے اندر آزمودہ قوانین کارفرما ہیں۔ اقبال کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی ملی زندگی کو بھی کسی عارضی جوش پر نہ بنائے، بلکہ اس بڑے کائناتی قانون کے مطابق سمجھے جس میں ربط، ترکیب، مرکزیت اور امتزاج بنیادی اصول ہیں۔
اس سے ملت کے لیے ایک وقار بھی نکلتا ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کو اس کائناتی ربط کے اندر سمجھ لے تو اس کی نگاہ محض وقتی سیاست یا محدود معاشرت تک قید نہیں رہتی۔ وہ اپنے کام کو وجود کے بڑے نظام کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے لگتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کا انسان اور آج کی قوم دونوں ایک حد سے زیادہ تجزیاتی اور منقسم شعور کا شکار ہیں۔ ہر چیز کو الگ خانوں میں دیکھنے کی عادت بڑھ گئی ہے: دین الگ، دنیا الگ، فرد الگ، جماعت الگ، علم الگ، اخلاق الگ۔ اقبال اس شعر میں بنیادی یاد دہانی کراتے ہیں کہ خود عالم ایک مربوط پیکر ہے۔ اگر ہم زندگی کو ٹکڑوں میں سمجھیں گے تو ہم اس کے حقیقی قانون کے خلاف چلیں گے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی، اپنی تہذیب اور اپنی امت کے مسئلے کو ربط کے بڑے اصول میں سمجھیں۔ جب صحیح مرکز کے تحت مختلف قوتیں امتزاج پاتی ہیں تبھی پیکرِ حیات مضبوط بنتا ہے۔ اقبال کی نگاہ اسی جامع وحدت پر ہے۔
مثال
جیسے ایک جسم مختلف اعضا کے امتزاج سے مکمل بنتا ہے اور کوئی عضو تنہا پوری زندگی نہیں بن سکتا، ویسے ہی عالم اور ملت دونوں صحیح ربط اور ترکیب سے ہی قوت پاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں عالم کو ایک قدیم مربوط پیکر کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے اعضا بنیادی امتزاج سے بنے ہیں۔ یہ تمثیل ملت کی زندگی کے لیے بھی درس دیتی ہے کہ حقیقی قوت ربط، ترکیب اور صحیح مرکزیت سے پیدا ہوتی ہے۔