رموز بے خودی

از ته آتش بر اندازیم گل

از ته آتش بر اندازیم گل

نار هر نمرود را سازیم گل

ترجمہ

ہم آگ کی گہرائی سے بھی پھول نکال لیتے ہیں، اور ہر نمرود کی آگ کو بھی گلزار میں بدل دیتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر ابراہیمی فطرت کے نتیجے کو سامنے لاتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جس امت کے اندر ابراہیمی روح زندہ ہو، وہ آگ سے بھی زندگی پیدا کر سکتی ہے۔ “از ته آتش بر اندازیم گل” میں آگ محض ظاہری مصیبت نہیں بلکہ ظلم، آزمائش، مخالفت، تہذیبی دباؤ اور سیاسی جبر کی علامت ہے۔ ملتِ مومنہ کی شان یہ ہے کہ وہ ان سختیوں کے اندر سے بھی خیر، جمال، تعمیر اور نئی حیات کے امکانات پیدا کر لیتی ہے۔ دوسری سطر میں “نار هر نمرود” سے مراد ہر وہ باطل طاقت ہے جو حق کو جلانا چاہتی ہے، مگر اقبال کے نزدیک مومن ایسی آگ کو بھی گل بنا دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

آگ سے پھول نکالنا:

یہ نہایت حسین اور طاقتور استعارہ ہے۔ عام طور پر آگ سے جلنا، خاک ہونا اور فنا ہونا وابستہ ہے، مگر اقبال کہتے ہیں کہ مومن آگ کے نیچے سے بھی پھول نکال سکتا ہے۔ یعنی وہ مصیبت کے اندر چھپے ہوئے تربیتی امکانات، شکست کے اندر پوشیدہ بیداری، اور جبر کے اندر جنم لینے والی قوتِ مزاحمت کو پہچان لیتا ہے۔

یہی ایمانی نگاہ ہے جو حالات کو ان کے ظاہر پر نہیں چھوڑتی۔ وہ آتش کو صرف آتش نہیں دیکھتی بلکہ اس کے اندر امتحان، تطہیر اور نئے ظہور کی راہ بھی تلاش کرتی ہے۔

نمرودی آگ کی حقیقت:

نمرود اقبال کے ہاں ہر اس نظام، قوت یا دعوے کی علامت ہے جو خدا کے بندوں کو خدا سے کاٹ کر اپنی خدائی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کی آگ صرف لکڑی اور شعلہ نہیں بلکہ خوف، جبر، تحقیر، دھمکی اور استبداد کی پوری فضا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں یہ آگ حق کو مٹانے کے لیے بھڑکائی گئی تھی، مگر خدا نے اسے گلزار بنا دیا۔

اقبال اسی واقعے کو ملت کے مزاج پر منطبق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب امت اپنے اندر کی توحید کو زندہ رکھتی ہے تو نمرودی قوتیں اسے تباہ نہیں کر سکتیں، بلکہ انہی کے جبر سے اس کے اندر نئی روشنی پیدا ہوتی ہے۔

تخریب کو تعمیر میں بدلنا:

اس شعر کا ایک بڑا مفہوم یہ بھی ہے کہ مومن کا کام صرف ظلم سہنا نہیں بلکہ ظلم کے ماحول کو بھی بالآخر اپنے حق میں بدل دینا ہے۔ وہ قید کو مدرسہ بنا سکتا ہے، محرومی کو حوصلہ بنا سکتا ہے، اور مخالفت کو دعوت کی طاقت میں ڈھال سکتا ہے۔ یہی آتش سے گل برآمد کرنا ہے۔

گویا مومن کی نگاہ خارجی حالات کی محتاج نہیں رہتی۔ وہ اپنی اندرونی نسبت کی وجہ سے ایسے معنی پیدا کرتا ہے جو دشمن کے منصوبے سے باہر ہوتے ہیں۔

جمال اور جلال کا ملاپ:

یہاں آگ جلال کی علامت ہے اور گل جمال کی۔ اقبال بتاتے ہیں کہ زندہ امت جلال کو جمال میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یعنی سختی، شدت اور تصادم کا آخری حاصل محض تباہی نہیں رہتا بلکہ اس سے ایک زیادہ پاکیزہ، زیادہ خوبصورت اور زیادہ بامعنی زندگی جنم لیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کی فکر محض دفاعی نہیں رہتی بلکہ خلاق اور فاتحانہ بن جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت خود کو مظلومیت کی نفسیات سے نکال کر تخلیقی مزاحمت کی نفسیات میں داخل کرے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی مسلمان اگر اپنی آزمائشوں کو صرف شکوہ بنا کر دیکھے گا تو اس کے ہاتھ میں راکھ ہی آئے گی۔ لیکن اگر وہ انھی آزمائشوں کے اندر تربیت، اصلاح، تنظیم، شعور اور قربِ الٰہی کے امکانات تلاش کرے گا تو آگ کے نیچے سے گل نکل سکتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر امید کو سطحی تسلی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایمانی حکمت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

ہر نمرودی نظام اپنے آپ کو آخری قوت سمجھتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ باطل کی آگ آخرکار خود اپنے دعوے کو جلا دیتی ہے، جبکہ اہلِ ایمان اگر سچے ہوں تو اسی آگ سے نئی بہار پیدا کر لیتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک ماہر باغبان جلی ہوئی زمین کو بھی دوبارہ قابلِ کاشت بنا دیتا ہے اور کچھ عرصے بعد وہی جگہ پھول دینے لگتی ہے، ویسے ہی ابراہیمی روح مصیبت کے میدان کو بھی گلزار میں بدل سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ملتِ مومنہ کی خلاق قوت بیان کرتے ہیں کہ وہ ظلم اور آزمائش کی آگ سے بھی خیر و جمال پیدا کر سکتی ہے۔ ہر نمرودی آگ کو گل بنا دینا دراصل توحیدی اعتماد، تخلیقی مزاحمت اور ربانی مدد پر یقین کی علامت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button