عشق آئین حیات عالم است
عشق آئین حیات عالم است
امتزاج سالمات عالم است
ترجمہ
عشق دنیا کی زندگی کا اصل آئین ہے، اور کائنات کی صحت مند قوتوں کے باہمی امتزاج کا راز بھی یہی ہے۔
تشریح
یہ شعر اقبال کی پوری فکری دنیا کے دل میں اترتا ہے۔ ان کے نزدیک عشق محض جذباتی کیفیت یا رومانوی وابستگی نہیں، بلکہ حیاتِ کائنات کی اصل متحرک قوت ہے۔ “عشق آئین حیات عالم است” کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں حرکت، تخلیق، ایثار، ربط، وفاداری، مقصودیت اور نشوونما ہے، اس کے پیچھے عشق کارفرما ہے۔ دوسری سطر میں “امتزاج سالمات عالم” کے ذریعے اقبال یہ بتاتے ہیں کہ کائنات کی متوازن اور صحت مند قوتیں باہم اسی عشق کے ذریعے مربوط ہوتی ہیں۔ شعر کے مطابق:
عشق کا وسیع مفہوم:
اقبال کے ہاں عشق کمزور کر دینے والا جذبہ نہیں بلکہ شخصیت کو مجتمع، بیدار اور بلند کرنے والی قوت ہے۔ یہ انسان کو اپنے سے بڑے مقصد سے جوڑتا ہے، اسے قربانی پر آمادہ کرتا ہے، اور اس کی خودی کو انتشار سے نکال کر مرکز عطا کرتا ہے۔ اسی لیے عشق صرف فرد کی کیفیت نہیں بلکہ عالم کے نظام کی ایک بنیادی روح ہے۔
جہاں زندگی اپنے آپ سے آگے بڑھتی ہے، جہاں کوئی شے محض بقا پر قناعت نہیں کرتی بلکہ تکمیل چاہتی ہے، وہاں عشق کام کر رہا ہوتا ہے۔
آئینِ حیات:
آئین کا لفظ قانون، طریق اور قائم رکھنے والے اصول کے معنی رکھتا ہے۔ اقبال جب عشق کو آئینِ حیات کہتے ہیں تو وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ زندگی کا اصل قانون محض مادی کشمکش، بے رحم مقابلہ یا سرد عقل نہیں۔ حیات کی گہرائی میں ایک ایسی وابستگی اور کشش ہے جو چیزوں کو ربط دیتی، انسان کو مقصد دیتی، اور بکھری ہوئی قوتوں کو ترتیب دیتی ہے۔
اسی لیے عشق کے بغیر علم خشک ہو جاتا ہے، عمل بے روح ہو جاتا ہے، اور تہذیب محض مشین بن جاتی ہے۔
امتزاجِ سالمات:
“سالمات عالم” سے مراد کائنات کی وہ تندرست، متوازن اور بامقصد قوتیں ہیں جو فساد کے بجائے تعمیر کی حامل ہیں۔ ان کا “امتزاج” یعنی باہم ملنا، ایک دوسرے سے ربط پیدا کرنا، اور ایک ہم آہنگ کل بن جانا عشق کے بغیر ممکن نہیں۔ چاہے انسانی معاشرہ ہو، خاندانی تعلق ہو، ملت کی وحدت ہو یا کائناتی نظم، ہر جگہ صحت مند ربط کے لیے محض طاقت کافی نہیں ہوتی؛ وہاں محبت، وفاداری اور باطنی وابستگی درکار ہوتی ہے۔
اقبال اس ایک مصرعے میں عالم کی وحدت اور انسانی اجتماع کی بقا دونوں کی بنیاد بیان کر دیتے ہیں۔
عقل اور عشق کا تعلق:
یہ شعر عقل کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کی حد بتاتا ہے۔ عقل ترتیب دے سکتی ہے، ناپ سکتی ہے، راستہ دکھا سکتی ہے، مگر وہ حیات کے اندر وہ حرارت نہیں پیدا کرتی جو قربانی، وفاداری اور جہدِ مسلسل کی بنیاد بنتی ہے۔ عشق ہی وہ قوت ہے جو علم کو مقصد، طاقت کو اخلاق، اور فرد کو جماعت سے جوڑتی ہے۔
اسی لیے اقبال کی نگاہ میں عشق کے بغیر تہذیب بکھر جاتی ہے اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے ڈھانچوں میں گم ہو جاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں ربط تو بہت ہے مگر تعلق کم ہے، معلومات بہت ہیں مگر وفاداری کم، تنظیم بہت ہے مگر روح کم۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ حقیقی حیات کے لیے عشق لازم ہے: اللہ سے عشق، رسول سے عشق، حق سے عشق، امت سے وفاداری، اور انسانیت کے لیے خیر خواہی۔ یہی عشق بکھری ہوئی صلاحیتوں کو ایک بڑی تعمیر میں بدل سکتا ہے۔
اگر امت اپنے نظم، علم، سیاست اور تربیت کے اندر عشق کی یہ حرارت پیدا کر لے تو اس کے منتشر اجزا پھر سے ایک زندہ کل میں ڈھل سکتے ہیں۔
مثال
جیسے جسم کے مختلف اعضا صرف تب صحیح کام کرتے ہیں جب ان کے درمیان ایک زندہ ربط اور مقصدی ہم آہنگی ہو، ویسے ہی معاشرہ اور ملت بھی عشق کے بغیر صرف جدا جدا حصوں کا مجموعہ رہ جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں عشق کو کائنات کی حیات کا اصل قانون اور دنیا کی صحت مند قوتوں کے باہمی ربط کا راز قرار دیتے ہیں۔ عشق یہاں محض جذبہ نہیں بلکہ وہ روحانی و اخلاقی قوت ہے جو فرد، ملت اور عالم کو بامقصد وحدت عطا کرتی ہے۔
