رموز بے خودی

تا ز اسرار تو بنماید ترا

تا ز اسرار تو بنماید ترا

امتحانش از عمل باید ترا

ترجمہ

تاکہ یہ حقیقت تیرے اپنے راز تجھ پر کھول دے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تیرا امتحان عمل کے ذریعے ہو۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہیں کہ بڑی سچائیاں صرف سننے، پڑھنے یا دہرانے سے نہیں کھلتیں، بلکہ عمل کے میدان میں اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ توحید کا دعویٰ اس وقت انسان کے باطن کو منکشف کرتا ہے جب وہ اس کو زندگی میں برتنے لگے۔ شعر کے مطابق:

راز انسان پر کب کھلتے ہیں:

انسان اپنے بارے میں بہت سی باتیں سمجھتا ہے، مگر اس کی اصل قوت، کمزوری، اخلاص اور ثابت قدمی اکثر آزمائش کے وقت ظاہر ہوتی ہے۔ اقبال کا نکتہ یہ ہے کہ توحید کا اثر بھی محض لفظی اقرار سے مکمل نہیں ہوتا۔ جب آدمی اس کے مطابق جیتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دل میں کتنا یقین، کتنی صداقت اور کتنی وفاداری موجود ہے۔

گویا بعض حقائق فکر سے معلوم ہوتے ہیں، لیکن بعض حقائق صرف عمل سے کھلتے ہیں۔

امتحان کا میدان عمل ہے:

“امتحانش از عمل” میں اقبال نے بہت واضح کر دیا کہ دعویٰ کا معیار تقریر نہیں بلکہ کردار ہے۔ اگر کوئی شخص توحید کی بات تو کرے مگر خوف، لالچ، مفاد یا معاشرتی دباؤ کے سامنے فوراً جھک جائے، تو اس کی حقیقت ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی۔ عمل وہ کسوٹی ہے جس پر یقین کی سچائی پرکھی جاتی ہے۔

عمل سے مراد صرف عبادات ہی نہیں بلکہ امانت، دیانت، عدل، صبر، قربانی اور حق پر قائم رہنا بھی ہے۔

عمل خود آگاہی پیدا کرتا ہے:

اقبال کے نزدیک عمل انسان کو باہر سے زیادہ اندر بدلتا ہے۔ جب انسان کسی سچائی کے مطابق قدم اٹھاتا ہے تو اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ اسی طرح بعض کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں جنہیں وہ پہلے پہچان نہیں پاتا تھا۔ اس لیے عمل محض نتیجہ پیدا نہیں کرتا بلکہ انسان کو اس کا اصل چہرہ بھی دکھاتا ہے۔

یہی مفہوم “اسرار تو بنماید ترا” میں پوشیدہ ہے، یعنی عمل کے ذریعے تو اپنے ہی باطن کے بھید تجھ پر کھلنے لگتے ہیں۔

ایمان کی عملی تصدیق:

ایمان اگر صرف ذہنی تصور رہ جائے تو وہ آسانی سے کمزور ہو سکتا ہے، لیکن جب وہ عمل میں ڈھلتا ہے تو جڑ پکڑتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں سچ بولنا، حق دار کو حق دینا، مشکل میں صبر کرنا، اور نیکی کے لیے کھڑا ہونا، یہ سب وہ مواقع ہیں جہاں توحید دل سے نکل کر زندگی کی صورت اختیار کرتی ہے۔

یوں عمل ایمان کو ثابت بھی کرتا ہے اور اسے بڑھاتا بھی ہے۔

ملت کی تعمیر میں اس اصول کی اہمیت:

کسی امت کی قوت صرف نعرے یا جذبات سے قائم نہیں رہتی۔ اگر ملت توحید کا نام لے مگر اس کی معاشرت میں عدل نہ ہو، اس کی سیاست میں امانت نہ ہو، اور اس کی اجتماعی زندگی میں نظم نہ ہو، تو اس کے دعوے کمزور رہتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے نظریے کو کردار میں دکھائے، کیونکہ نظریہ جب عمل بن جاتا ہے تب ہی تاریخ بدلتی ہے۔

پس توحید کی سچائی فرد کے باطن اور ملت کے نظام دونوں میں عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔

مثال

ایک شخص خود کو صابر سمجھتا ہے، مگر جب اس پر مشکل آتی ہے تب ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی صبر والا ہے یا نہیں۔ اسی طرح کوئی خود کو مخلص کہتا ہے، مگر خدمت، قربانی اور ثابت قدمی کے مواقع اس کے دعوے کی حقیقت کھول دیتے ہیں۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال نے بتایا ہے کہ توحید کا راز انسان پر عمل کے ذریعے کھلتا ہے۔ محض دعویٰ کافی نہیں، بلکہ کردار ہی وہ امتحان ہے جو یقین کی سچائی، باطن کی کیفیت اور انسان کی اصل قدر کو ظاہر کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button