رموز بے خودی

از غضب چوبی شکستم بر سرش

از غضب چوبی شکستم بر سرش

حاصل دریوزه افتاد از برش

ترجمہ

میں نے غصے میں اس کے سر پر ایک لاٹھی دے ماری، اور اس کی بھیک کا حاصل اس کی گود سے گر پڑا۔

تشریح

یہ شعر نہایت چونکا دینے والا ہے، کیونکہ اقبال اس میں اپنی ایک سخت اور ناپسندیدہ حرکت کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غصے میں آ کر میں نے سائل کے سر پر چوب ماری اور اس کی محنت یا دریوزگی کا حاصل اس کے دامن سے گر پڑا۔ اس اعتراف میں صرف ایک واقعے کی یاد نہیں، بلکہ اخلاقی خود احتسابی کی بڑی قوت ہے۔ بڑے لوگ اپنی عظمت کو صرف کمالات سے نہیں، بلکہ اپنی لغزشوں کے صادق بیان سے بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اقبال یہاں اپنے نفس کے ایک تاریک لمحے کو چھپاتے نہیں، تاکہ اس سے ایک بڑی ملی و تربیتی حقیقت واضح ہو سکے۔

“از غضب” اس شعر کا مرکزی لفظ ہے۔ مسئلہ صرف لاٹھی نہیں، اصل مسئلہ غضب ہے۔ غصہ جب ادب سے خالی ہو جائے تو وہ طاقت کو ظلم میں بدل دیتا ہے۔ ایک کمزور سائل کے مقابلے میں غصے کا یہ اظہار دراصل طاقت کے غلط استعمال کی علامت ہے۔ اقبال اسی سے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اگر انسان کے اندر آدابِ محمدیہ نہ ہوں تو اس کا مزاج چھوٹے سے موقع پر بھی وحشت، سختی اور بے رحمی اختیار کر سکتا ہے۔

اعتراف کی معنویت:

اس شعر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ شاعر خود کو بری الذمہ نہیں بناتا۔ وہ اپنی حرکت کو نرم لفظوں میں نہیں چھپاتا بلکہ پورے کھلے پن سے بیان کرتا ہے۔ یہ انداز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تربیت کی پہلی شرط صداقت ہے۔ جب تک آدمی اپنی غلطی کو غلطی ماننے پر آمادہ نہ ہو، اس کے سدھار کا دروازہ پوری طرح نہیں کھلتا۔ اقبال ایک عظیم مفکر ہونے کے باوجود اپنی نوجوانی کی سختی کو یاد کر کے بتا رہے ہیں کہ انسان کی اصلاح میں سچائی کتنی بنیادی چیز ہے۔

اسی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حسنِ سیرت پیدائشی یا خودکار چیز نہیں۔ اسے سیکھنا پڑتا ہے، اپنے نفس کو دیکھنا پڑتا ہے، اور اپنی بداخلاقی کے اثرات کو محسوس کرنا پڑتا ہے۔

دریوزہ کے حاصل کا گرنا:

دوسرے مصرعے میں جو تصویر بنتی ہے وہ بہت دردناک ہے۔ ایک محتاج آدمی نے شاید دن بھر کی محنت، ذلت، التجا اور بھوک سے کچھ تھوڑا سا جمع کیا تھا، اور ایک غصیلی ضرب سے وہ سب زمین پر بکھر گیا۔ یہ محض مادی نقصان نہیں، بلکہ کمزور انسان کی عزت کے زخمی ہونے کی تصویر ہے۔ اقبال کے نزدیک بے ادبی کا ایک لمحہ کسی دوسرے کے لیے کہیں زیادہ گہرا زخم بن سکتا ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی نکلتا ہے کہ ظلم ہمیشہ بڑے پیمانے پر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک سخت لفظ، ایک غصیلا اشارہ، یا ایک بے محل جبر بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا بڑا ظلم۔ آدابِ محمدیہ انسان کو انہی باریک مواقع پر سنوارتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج شاید ہم کسی سائل کے سر پر چوب نہ توڑیں، مگر ہم اپنی زبان، عہدے، دولت، اختیار، علم یا سماجی حیثیت سے دوسروں کے وقار کو زخمی کر سکتے ہیں۔ کسی ماتحت کو ذلیل کرنا، کسی محتاج کو جھڑک دینا، کسی کمزور کو اپنی جھنجھلاہٹ کا نشانہ بنا دینا، یہ سب اسی مزاج کی جدید صورتیں ہیں۔ اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ غصہ اگر نبوی ادب سے نہ بندھا ہو تو وہ حق کے بجائے نفس کی خدمت کرنے لگتا ہے۔

یہ شعر ہمیں خود احتسابی کی طرف بلاتا ہے: کیا ہمارے غصے سے کسی دوسرے کا “حاصل” بکھرتا تو نہیں؟ کیا ہماری سختی کسی کمزور کی تھوڑی سی جمع پونجی، عزت، امید یا سکون کو تو نہیں توڑ رہی؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے اخلاق کے مرکز کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔

مثال

جیسے ایک تیز جھٹکا کمزور ہاتھ سے پکڑی ہوئی چیز زمین پر گرا دیتا ہے، ویسے ہی بے قابو غصہ کمزور انسان کی تھوڑی سی سنبھالی ہوئی عزت اور امید کو بکھیر دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں غصے کے ایک ظالمانہ لمحے کا اعتراف کر کے بتاتے ہیں کہ آدابِ محمدیہ کے بغیر طاقت ظلم میں بدل سکتی ہے۔ کمزور کے ساتھ سختی دراصل اپنے باطن کی خامی کو ظاہر کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button