امتی از گرمی حق سینه تاب
امتی از گرمی حق سینه تاب
ذره اش شمع حریم آفتاب
ترجمہ
وہ ایسی امت ہے جس کا سینہ حق کی حرارت سے روشن ہے، اور اس کا ایک ایک ذرہ آفتاب کے حریم میں جلتی ہوئی شمع کی مانند ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امتِ محمدیہ کی باطنی حرارت اور نورانی کیفیت کا بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ امت سرد اور بے حس جماعت نہیں، بلکہ حق کی گرمی سے زندہ ہے۔ اس کی عظمت یہ ہے کہ اس کا ہر فرد بھی اپنی جگہ روشنی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شعر کے مطابق:
گرمیِ حق کا مفہوم:
یہ حرارت صرف جذباتی جوش نہیں، بلکہ ایمان کی وہ گرمی ہے جو دل کو مردہ نہیں رہنے دیتی۔ اس میں محبت بھی ہے، غیرت بھی، یقین بھی، اور عمل کی آمادگی بھی۔ اقبال کے نزدیک جس امت کے سینے میں یہ گرمی ہو، وہ ذلت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتی، جمود میں نہیں مرتی، اور حق کے لیے حرکت رکھتی ہے۔
یہی گرمی آزادی اور اخوت دونوں کی جان ہے، کیونکہ سرد دل نہ آزاد رہتا ہے نہ وفادار۔
سینہ تاب ہونا:
سینہ تاب ہونے میں روشنی، کشادگی اور باطنی قوت تینوں شامل ہیں۔ جب حق کی گرمی سینے میں اترتی ہے تو دل تنگ نہیں رہتا، خوف کی گرفت کم ہوتی ہے، اور انسان کا وجود روشنی کا حامل بنتا ہے۔ اقبال امت کے باطن کو اسی کیفیت میں دیکھنا چاہتے ہیں: نہ مصلحت سے جمے ہوئے، نہ خوف سے بجھے ہوئے، بلکہ اندر سے دہکتے ہوئے۔
یہ روشنی صرف فردی نجات نہیں، اجتماعی توانائی بھی پیدا کرتی ہے۔
ذرہ بھی شمع:
یہ شعر کا سب سے دل کش نکتہ ہے کہ امت کا “ذرہ” بھی شمع ہے۔ یعنی صرف بڑے رہنما یا نمایاں افراد ہی نہیں، بلکہ اس کا معمولی فرد بھی نور کا حامل ہو سکتا ہے۔ نبوی مساوات یہی ہے کہ ہر انسان کو عزت اور روشنی کی استعداد دی جائے۔
گویا امت کی طاقت صرف مرکز میں نہیں، اس کے ذرات میں بھی ہے۔
حریمِ آفتاب:
آفتاب سے قربت کا معنی یہ ہے کہ یہ نور کسی کمزور چراغ سے نہیں، ایک بڑے سورج سے نسبت رکھتا ہے۔ امت کے ذرات اپنی جگہ شمع ہیں، مگر وہ نبوی آفتاب کے حریم میں ہیں۔ اس سے فرد کی روشنی کا رشتہ مرکز کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ فرد آزاد بھی ہے اور منسلک بھی۔
یہی ساخت امت کو بکھرنے نہیں دیتی اور فرد کو بے معنی نہیں ہونے دیتی۔
آج کے لیے پیغام:
آج امت کا ایک بڑا مسئلہ سرد مہری، بے حسی اور باطنی تھکن ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محمدی امت کی پہچان گرمیِ حق ہے۔ اگر دل اس حرارت سے خالی ہو جائیں تو نہ آزادی کا ذوق باقی رہتا ہے، نہ اخوت کی جان۔ اور اگر یہ حرارت واپس آ جائے تو معمولی انسان بھی بڑی روشنی کا حامل بن سکتا ہے۔
امت کی تجدید بڑے نعروں سے پہلے دل کے اسی درجۂ حرارت سے شروع ہوتی ہے۔
مثال
کسی زندہ تحریک کی پہچان یہ نہیں کہ اس کے صرف چند بڑے چہرے فعال ہوں، بلکہ یہ کہ اس کا عام کارکن بھی مقصد کی روشنی اور حرارت اپنے اندر محسوس کرے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امتِ محمدیہ حق کی حرارت سے روشن اور متحرک امت ہے، اور اس کا ہر فرد بھی نور کی استعداد رکھتا ہے۔ یہی باطنی گرمی اس کی حریت، اخوت اور اجتماعی زندگی کو زندہ رکھتی ہے۔