رموز بے خودی

می برد پابند و آزاد آورد

می برد پابند و آزاد آورد

صید بندان را بفریاد آورد

ترجمہ

یہ زنجیروں کو توڑ دیتا ہے اور حقیقی آزادی عطا کرتا ہے، اور بندھنوں میں جکڑے ہوئے شکاروں کو فریاد اور بیداری تک لے آتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں قرآنِ حکیم کی آزادی بخش اور بیدار کرنے والی قوت کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن کا تعلق صرف نظری ایمان یا رسمی تلاوت سے نہیں، بلکہ وہ انسان کے گرد لپٹی ہوئی جھوٹی بندشوں کو کاٹ کر اسے اس کی اصل آزادی سے آشنا کرتا ہے۔ “می برد پابند و آزاد آورد” میں پابند سے مراد وہ تمام قیدیں ہیں جو انسان کو حق سے دور رکھتی ہیں: نفس کی غلامی، ظلم کے نظام، جاہلی رسمیں، فکری مرعوبیت، طبقاتی بندشیں، اور وہ خوف جو انسان کو سچ بولنے سے روکتے ہیں۔ پھر دوسری سطر میں اقبال کہتے ہیں کہ یہ ان شکار بنے ہوئے انسانوں کو، جو خود بندھنوں کے اسیر ہیں، فریاد تک پہنچاتا ہے، یعنی انہیں اپنے حال کا شعور، مزاحمت کی آواز اور نجات کی طلب عطا کرتا ہے۔ شعر کے مطابق:

پابند کیا ہے؟

پابند صرف ظاہری زنجیر نہیں۔ بہت سی قیدیں دل کے اندر ہوتی ہیں: خواہش کی غلامی، مفاد کی پرستش، لوگوں کے خوف سے سچ نہ کہنا، رواج کے نام پر باطل کو قبول کرنا، یا طاقت کے سامنے حقیر ہو جانا۔ اقبال کے نزدیک قرآن ان اندرونی اور بیرونی دونوں پابندیوں کو چیلنج کرتا ہے۔

اسی لیے قرآن انسان سے پہلے “لا” کہلواتا ہے: باطل خداؤں، جھوٹے مرکزوں اور نفس کے جبر کے خلاف انکار۔ یہ انکار آزادی کا پہلا دروازہ ہے۔ جب تک بندہ ہر جھوٹے آقا سے آزاد نہ ہو، اس کی بندگی بھی مکمل نہیں ہوتی۔

آزادی کا اسلامی مفہوم:

اقبال کے نزدیک آزادی کا مطلب بے قیدی نہیں۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ انسان مخلوق کی ذلت سے نکل کر خالق کی بندگی میں داخل ہو۔ یہ آزادی انسان کو منتشر خواہشات کا غلام نہیں بناتی بلکہ اسے ایک بڑے مقصد، ایک سچے اخلاقی مرکز اور ایک باوقار خودی سے جوڑتی ہے۔

قرآن اسی معنی میں آزاد کرتا ہے۔ وہ انسان کو خواہشات کے بازار، ظلم کے ایوان اور ذہنی غلامی کے سانچوں سے نکال کر حق کی روشنی میں کھڑا کرتا ہے۔ پھر اس کی اطاعت ذلت نہیں رہتی، عزت بن جاتی ہے۔

صیدِ بنداں:

“صید بندان” ایک نہایت دردناک اور معنی خیز ترکیب ہے۔ صید وہ ہوتا ہے جو شکار ہو چکا ہو، جس کی اپنی حرکت سلب ہو گئی ہو۔ اقبال بتاتے ہیں کہ انسان بسا اوقات صرف پابند نہیں رہتا بلکہ ایک ایسا شکار بن جاتا ہے جو اپنی حالت کو بھی معمول سمجھنے لگتا ہے۔ قرآن اسی مردہ عادت کو توڑتا ہے۔

وہ ایسے اسیر دلوں کو پھر سے احساس دلاتا ہے کہ تم اس حال کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ تمہاری گردن جھکنے کے لیے نہیں، حق کے سامنے سربلند ہونے کے لیے ہے۔ یہی شعور بندے کو صید سے مجاہد میں بدل دیتا ہے۔

فریاد تک لانا:

“بفریاد آورد” کا مطلب صرف رونا دھونا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بندہ اپنی حالت کو پہچانے، خاموش غلامی سے نکلے، حق کی طلب میں آواز اٹھائے، اور نجات کے لیے شعوری حرکت پیدا کرے۔ فریاد یہاں بے بسی کا نوحہ نہیں بلکہ بیدار ضمیر کی پہلی صدا ہے۔

اقبال کے نزدیک قرآن کا پہلا اثر یہی ہوتا ہے کہ وہ مردہ دلوں میں درد پیدا کرتا ہے۔ جہاں درد ہے، وہاں طلب پیدا ہوتی ہے؛ جہاں طلب ہے، وہاں حرکت جنم لیتی ہے؛ اور جہاں حرکت ہے، وہاں آزادی کے دروازے کھلتے ہیں۔

ملت کے لیے پیغام:

یہ شعر فرد کے ساتھ ملت پر بھی صادق آتا ہے۔ ایک امت بھی فکری غلامی، سیاسی مرعوبیت، تہذیبی احساسِ کمتری اور اندرونی بے حسی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن ایسی ملت کو پھر سے آواز، وقار اور مزاحمت کی روح دے سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ امت اسے محض رسم نہ سمجھے بلکہ آزادی کے ربانی منشور کے طور پر پڑھے۔

قرآن اس امت کو یہ بتاتا ہے کہ تمہارا مقدر بندھن نہیں، قیادت ہے؛ تمہاری اصل نسبت ذلت نہیں، شہادت ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمانوں کے بندھن صرف سیاسی نہیں، فکری اور تہذیبی بھی ہیں۔ بہت سے لوگ آزاد دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے مرعوب، خوف زدہ اور بے سمت ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اگر قرآن سے زندہ تعلق پیدا ہو تو وہ ہماری سوچ، اخلاق، جرأت اور اجتماعی شعور کو آزاد کر سکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم قرآن کو زنجیر کے خلاف صدا سمجھتے ہیں یا صرف ثواب کی تلاوت؟ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم اسے آزادی اور بیداری کی زندہ قوت کے طور پر واپس پہچانیں۔

مثال

جیسے کوئی قیدی پہلے اپنی زنجیر کو زنجیر سمجھے، پھر دروازے کی طرف دیکھے، پھر آزادی کی طلب میں آواز اٹھائے، ویسے ہی قرآن انسان کو پہلے اس کے بندھن دکھاتا ہے اور پھر اسے آزادی کی راہ پر ڈالتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک قرآن انسان کی جھوٹی پابندیاں کاٹ کر اسے حقیقی آزادی عطا کرتا ہے، اور اسیری کے عادی ہو چکے دلوں میں بھی فریاد، بیداری اور نجات کی طلب پیدا کرتا ہے۔ یہی اس کی انقلابی قوت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button