از شعاعش دیده کن نادیده را
از شعاعش دیده کن نادیده را
وا نما اسرار نافهمیده را
ترجمہ
اس کی شعاع سے نادیدہ کو دیدہ بنا، اور جو اسرار ابھی نہ سمجھے گئے ہیں انہیں کھول دے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کے عین بعد ایک عملی حکم کی صورت میں آتا ہے۔ اگر ذروں میں سورج پوشیدہ ہیں، تو پھر ان کی شعاع سے فائدہ اٹھاؤ۔ “از شعاعش” کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی روشنی، قوت، بصیرت اور کشف کے امکانات کو اپنے لیے ذریعہ بنا لو۔ “دیده کن نادیده را” اقبال کے پورے فکری منصوبے کا ایک نچوڑ معلوم ہوتا ہے: جو چیزیں ابھی نگاہ سے اوجھل ہیں، انہیں علم، تدبر، مشاہدہ، اور تسخیر کے ذریعے دکھائی دینے والی بنا دو۔ یعنی غیب کے پردوں میں نہیں، بلکہ عالمِ مشاہدہ میں ایسے داخل ہو کہ جو ابھی تمہارے لیے نادیدہ ہے وہ تمہاری سمجھ اور تمہارے استعمال میں آ جائے۔
“وا نما اسرار نافهمیده را” اس حکم کو اور زیادہ گہرا کرتا ہے۔ راز صرف موجود نہیں ہوتے، انہیں کھولنے والا ذہن بھی چاہیے۔ بہت سی چیزیں اس لیے نافہمیدہ رہتی ہیں کہ نگاہ عادی ہوتی ہے، سوال کم ہوتا ہے، اور جستجو سوئی ہوتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کی آنکھ نور لینے والی ہو، اور اس کا ذہن راز کشا۔ یوں علم محض معلومات جمع کرنا نہیں رہتا، بلکہ نافہمیدہ حقیقتوں کو قابلِ فہم بنانا بن جاتا ہے۔ یہ شعر تحقیق، دریافت، اور تہذیبی بصیرت کی کھلی دعوت ہے۔
شعاع کا مفہوم:
شعاع روشنی کی لکیر ہے، مگر یہاں وہ ہر اس وسیلے کی علامت ہے جس سے حقیقت روشن ہو۔ علم بھی شعاع ہے، تجربہ بھی، وحی کی رہنمائی بھی، اور بیدار عقل بھی۔ اقبال کا مدعا یہ ہے کہ تم اندھیرے کو مقدر نہ سمجھو؛ اس کے لیے شعاع تلاش کرو۔
یہ شعاع فطرت کے اندر بھی ہے اور انسان کے اندر بھی۔ دنیا میں بکھری ہوئی نشانیوں کو اگر درست آنکھ مل جائے تو وہ شعاع بن جاتی ہیں، اور پھر نادیدہ چیزیں بھی دیدہ کے دائرے میں آنے لگتی ہیں۔
نادیدہ کو دیدہ کرنا:
اس کا مطلب محض آنکھ سے دیکھ لینا نہیں بلکہ سمجھ لینا، جان لینا، اور حقیقت کو دریافت کر لینا ہے۔ جو چیز کل تک نامعلوم تھی، آج معلوم ہو سکتی ہے۔ جو راز کل تک بند تھا، آج کھل سکتا ہے۔ اقبال اسی روحِ دریافت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے ملت کی نفسیات بدلتی ہے۔ وہ خوف زدہ جمود سے نکل کر تلاش کرنے والی قوم بنتی ہے۔ وہ دنیا کو بند دروازہ نہیں بلکہ کھلنے والے دروازوں کی صف سمجھتی ہے۔ یہی ذہن ترقی اور تہذیبی اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔
اسرارِ نافہمیدہ:
نافہمیدہ اسرار وہ ہیں جو ابھی عقل کی گرفت میں نہیں آئے، مگر ہمیشہ کے لیے ناقابلِ فہم بھی نہیں۔ اقبال یہ نہیں کہتے کہ ہر راز ایک ہی دن میں کھل جائے گا، بلکہ یہ کہ تمہارے اندر ان کو کھولنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ سوال، تحقیق، مشق، ناکامی، پھر نئی کوشش، یہی راز کشائی کا راستہ ہے۔
یہ نکتہ امت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر وہ اپنے زمانے کے نئے علوم، نئے مسائل، نئی قوتوں، اور نئے امکانات کو “نافہمیدہ” کہہ کر چھوڑ دے گی تو وہ دوسروں کی تعبیرات کی اسیر بن جائے گی۔ اقبال اس غلامی سے نکالتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور بہت کچھ ایسا ہے جو عام ذہن کے لیے نادیدہ یا نافہمیدہ محسوس ہوتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندہ قومیں انہی چیزوں کو سمجھنے نکلتی ہیں، انہی پوشیدہ قوتوں کو دریافت کرتی ہیں، اور انہی اسرار کو اپنے علم کا حصہ بناتی ہیں۔
یہ شعر امت کو ایک تحقیقی اخلاق دیتا ہے: روشنی لو، دیکھو، سوال کرو، کھولو۔ اندھیرے سے شکوہ کم، شعاع کی تلاش زیادہ۔ اقبال کے نزدیک یہی راستہ نادیدگی کو بینائی اور نافہمیدگی کو معرفت میں بدلتا ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر طبیب نئے مرض کی علامات کو غور سے دیکھ کر پہلے نامعلوم بیماری کو قابلِ شناخت بنا دیتا ہے، ویسے ہی بیدار عقل دنیا کے پوشیدہ رازوں کو قابلِ فہم بناتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ کائنات کی روشنیوں سے فائدہ اٹھا کر پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت کرنا اور ناقابلِ فہم رازوں کو سمجھ میں لانا زندہ انسان اور زندہ امت کا کام ہے۔