فتنه ئی پامال راهش محشری
فتنه ئی پامال راهش محشری
کشته ی تیغ نگاهش محشری
ترجمہ
یہ ایسا فتنہ تھا کہ اس کی روندی ہوئی راہ ایک محشر کا منظر تھی، اور اس کی نگاہ کی تلوار سے گرے ہوئے لوگ بھی گویا محشر کی تصویر تھے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں تاتاری فتنہ کی ہولناکی کو انتہائی شدت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک جنگ، ایک حملہ یا ایک سیاسی شکست نہ تھی، بلکہ ایسا مہیب فتنہ تھا کہ جہاں سے گزرا وہاں محشر کا سا منظر چھوڑ گیا۔ اس کی راہ پامال تھی، یعنی شہر، بستیاں، تہذیبیں اور انسان سب اس کے قدموں تلے روندے گئے۔ پھر وہ اس فتنہ کی “نگاہ” کو بھی تلوار کہتے ہیں، یعنی اس کا صرف گزر جانا ہی تباہی نہ تھا بلکہ اس کی توجہ، اس کی سمت اور اس کا ارادہ بھی قتل و ہلاکت کا باعث تھا۔ شعر کے مطابق:
پامال راہ کا معنی:
“پامال” صرف رگڑے جانے یا روندے جانے کو نہیں بلکہ حرمت کے پامال ہونے، ترتیب کے بکھرنے اور حسن کے تباہ ہونے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس فتنے کی راہ پامال تھی تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے راستے میں کچھ بھی سلامت نہ رہ سکا۔ نہ عمارتیں، نہ ادارے، نہ انسانی جان، نہ علمی مراکز، اور نہ وہ نفسیاتی وقار جو ایک تہذیب کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
یہ تعبیر ہمیں بتاتی ہے کہ بعض فتنے صرف ایک میدان تک محدود نہیں رہتے۔ وہ راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنی بے رحم رفتار میں شامل کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ان کی راہ محض گرد آلود نہیں بلکہ محشر آلود ہو جاتی ہے۔
محشری منظر:
“محشری” کا لفظ اقبال کے ہاں انتہائی درجے کی ہیبت، انتشار، گھبراہٹ اور کثرتِ تباہی کی علامت ہے۔ محشر میں ہر چیز ایک بڑے انکشاف، شدید اضطراب اور آخری حساب کے ماحول سے دوچار ہوتی ہے۔ یہاں اقبال اس لفظ کو تاریخی فتنہ کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ واضح ہو کہ اس کی تباہی معمولی پیمانوں سے نہیں سمجھی جا سکتی۔
گویا یہ فتنہ انسان کو اس کے روزمرہ نظم سے اٹھا کر ایک ایسے منظر میں پھینک دیتا ہے جہاں ہر شے ٹوٹی ہوئی، ہر سمت خوف زدہ، اور ہر دل لرزہ بر اندام ہوتا ہے۔ اس لفظ سے تباہی کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی صدمہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔
تیغِ نگاہ:
دوسری سطر میں اقبال نے صرف جسمانی تلوار کا ذکر نہیں کیا بلکہ “نگاہ” کی تلوار کا ذکر کیا۔ اس میں اشارہ ہے کہ فتنہ صرف ہتھیاروں سے قتل نہیں کرتا، بلکہ اپنی نفسیاتی ہیبت، اپنی بے رحمی کی شہرت اور اپنے ارادے کی سنگینی سے بھی لوگوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی دشمن کی نگاہ، اس کی سمت، اس کا خوف اور اس کی دھاک بھی ایسی ہوتی ہے کہ وہ پہلے ہی دل توڑ دیتی ہے۔
اس طرح شعر ایک گہری تہذیبی سچائی کو سامنے لاتا ہے: بڑی تباہی صرف جسموں کو نہیں مارتی، وہ نگاہ، امید، اعتماد اور آئندہ کے تصور کو بھی زخمی کرتی ہے۔
کشتہ بھی محشری:
اقبال فرماتے ہیں کہ اس کی نگاہ کی تلوار سے گرے ہوئے لوگ بھی “محشری” تھے۔ یعنی مقتولین صرف گنتی کے اعداد نہ تھے بلکہ ان کی حالت، ان کی بے بسی، ان کا بکھراؤ اور ان کا اجتماعی منظر ایسا تھا کہ وہ قیامت کی یاد دلاتا تھا۔ اس میں تہذیبی قتل کا پہلو بھی شامل ہے: یہاں صرف جانیں نہیں گئیں، بلکہ ان جانوں کے ساتھ ایک پورا علمی، اخلاقی اور تاریخی تسلسل بھی زخمی ہوا۔
اس لیے اقبال مقتول کو بھی صرف ایک ہمدردی کے مقام پر نہیں رکھتے بلکہ اسے تاریخ کے زلزلے کی علامت بنا دیتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فتنے محض جسمانی حملوں کی صورت میں نہیں آتے۔ بعض اوقات فکری، تہذیبی، اخلاقی یا میڈیا کے میدان میں بھی ایسی ہی “تیغِ نگاہ” کام کرتی ہے جو دل توڑ دیتی ہے، اعتماد پامال کر دیتی ہے اور معاشروں کو محشر زدہ کر دیتی ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں حساس بناتا ہے کہ ہم فتنہ کو صرف ظاہر سے نہ دیکھیں بلکہ اس کے نفسیاتی اور تہذیبی اثرات کو بھی سمجھیں۔
اگر ہم اپنی روحانی مرکزیت، علمی بصیرت اور اخلاقی قوت کو محفوظ نہ رکھیں تو ہر بڑا فتنہ ہماری راہوں کو بھی پامال اور ہمارے حال کو بھی محشری بنا سکتا ہے۔
مثال
جیسے ایک شدید جنگ کے بعد صرف عمارتیں نہیں گرتیں بلکہ پورے شہر کے چہروں، لہجوں اور خوابوں میں بھی تباہی اتر آتی ہے، ویسے ہی اقبال کے نزدیک بڑا فتنہ اپنی راہ بھی محشری بنا دیتا ہے اور اپنے مقتولین کی حالت بھی محشری چھوڑتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں تاتاری فتنہ کی شدت کو محشر کے استعارے سے بیان کرتے ہیں۔ اس کی راہ پامال اور اس کے مقتول محشری ہیں، یعنی یہ فتنہ صرف جسمانی تباہی نہیں بلکہ تہذیبی، نفسیاتی اور اخلاقی ہلاکت کا بھی نشان ہے۔