تا شعار مصطفی از دست رفت
تا شعار مصطفی از دست رفت
قوم را رمز بقا از دست رفت
ترجمہ
جب سے مصطفی کے شعار ہاتھ سے نکل گئے، قوم سے بقا کا راز بھی جاتا رہا۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال پوری گزشتہ بحث کا ایک نہایت تیز، دردناک اور فیصلہ کن نتیجہ بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب امت نے مصطفی کے “شعار” کھو دیے تو اس نے اپنی بقا کا رمز بھی گنوا دیا۔ یہاں “شعار” سے مراد چند ظاہری علامتیں یا رسمی عنوانات نہیں، بلکہ وہ زندہ طرزِ حیات ہے جو رسول اکرم کی سیرت، سنت، اخلاق، شجاعت، محبت، نظم، عدل، فقر، توکل، خدمت اور خدا سے نسبت سے بنتا ہے۔ اقبال کے نزدیک قومیں محض خون، زبان، نسل یا ماضی سے قائم نہیں رہتیں؛ ان کی اصل بقا اس اصولی و روحانی مرکز سے وابستہ ہوتی ہے جو ان کے کردار کو بناتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے وہ مرکز شعارِ مصطفوی ہے۔
یہاں “رمز بقا” ایک نہایت گہرا لفظ ہے۔ بقا صرف جسمانی زندہ رہنے، سیاسی نام باقی رہنے، یا تاریخی موجودگی کا نام نہیں۔ اقبال کی زبان میں بقا اس کیفیت کا نام ہے جس میں قوم کے اندر اندر سے زندگی جاری رہے، اس کا اخلاقی ڈھانچا سلامت رہے، اس کی خودی بیدار ہو، اس کی جدوجہد میں معنی ہو، اور اس کا نظام اپنے اصل مقصد سے جڑا رہے۔ جب شعارِ مصطفوی کمزور پڑ جاتے ہیں تو یہ تمام چیزیں بتدریج ڈھلنے لگتی ہیں۔ قوم شاید کچھ دیر تک ظاہری طور پر موجود رہے، مگر اس کی روح سوکھنے لگتی ہے۔
شعار کا صحیح مفہوم:
شعار محض مذہبی نعرے یا ظاہری نسبت نہیں۔ اقبال اس لفظ سے اس پورے عملی سانچے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو رسول اکرم نے انسان اور ملت کی تعمیر کے لیے دیا۔ سچائی، امانت، شجاعت، صبر، نظم، خدمت، مساوات، عدل، اخوت، پاکیزگی اور خدا پر بھروسا، یہ سب مل کر وہ شعار بنتے ہیں جس کے بغیر امت اپنی پہچان تو شاید ظاہر میں بچا لے، مگر اپنے جوہر کو نہیں بچا سکتی۔
اسی لیے اقبال کی نظر میں زوال اس وقت شروع نہیں ہوتا جب سلطنت جاتی ہے، بلکہ اس وقت جب شعار جاتا ہے۔ جب قوم عظمت کے اخلاقی اصول کھو دیتی ہے، جب دین رسم رہ جاتا ہے، جب عمل کمزور پڑ جاتا ہے، جب مقصد مصلحت میں بدل جاتا ہے، اور جب نسبتِ مصطفی دل کی تعمیر کے بجائے صرف زبان کی نسبت بن کر رہ جاتی ہے، تب بقا کا راز ہاتھ سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔
قوم اور بقا کا تعلق:
اقبال کے نزدیک قوم کی پائیداری کسی بیرونی نظام سے زیادہ اس کے اندرونی معیار پر قائم ہوتی ہے۔ کوئی قوم وسائل رکھ سکتی ہے، فوج رکھ سکتی ہے، ادارے رکھ سکتی ہے، علم کا دعویٰ کر سکتی ہے، مگر اگر اس کے اندر وہ اخلاقی و روحانی ستون نہ رہیں جو اسے معنی دیتے ہیں، تو اس کی بنیاد کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی تاریخ میں اصل قوت وہی تھی جو سیرتِ نبوی سے پھوٹی تھی۔ جب وہی مرکز ڈھیلا پڑا تو کثرت کے باوجود وحدت کمزور ہوئی، شور کے باوجود روح خاموش ہوئی، اور ظاہری موجودگی کے باوجود باطنی قوت کم ہونے لگی۔
یہ شعر اسی تاریخی حقیقت کو دو مصرعوں میں سمیٹ دیتا ہے۔ بقا کا راز کسی مخفی جادو کا نام نہیں، بلکہ زندہ نبوی سانچے کے ساتھ وابستگی کا نام ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی ہم اکثر زوال کے اسباب صرف باہر تلاش کرتے ہیں: سیاست میں، طاقت کے توازن میں، معیشت میں، یا دوسروں کی سازشوں میں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے: کیا ہم نے اپنے شعار بچائے ہیں؟ کیا سچائی، امانت، عدل، خدمت، حیا، نظم، غیرت اور رحمت ہماری اجتماعی ساخت میں باقی ہیں؟ اگر یہ کمزور ہوں گے تو بقا کا رمز بھی کمزور ہوگا، چاہے ظاہری عمارت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
یہ شعر ہمیں اپنے مرکز کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔ نجات کسی نئی چال، سطحی جوش یا وقتی تدبیر میں نہیں، بلکہ اس زندہ شعار کی بازیافت میں ہے جو امت کو ابتدا میں امت بنا گیا تھا۔
مثال
جیسے درخت کی سبز شاخیں اسی وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک اس کی جڑ سلامت ہو، ویسے ہی قوم کی زندگی بھی اپنے اصل شعار سے جڑی رہنے پر قائم رہتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ امت کی اصل بقا اس کے نبوی شعار میں ہے۔ جب وہ شعار چھوٹ جاتا ہے تو قوم کی روحانی، اخلاقی اور تاریخی زندگی کا راز بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔