بانگ درا (حصہ سوم)علامہ اقبال شاعری

شا عر

جوئے سرود آفريں آتی ہے کوہسار سے
پی کے شراب لالہ گوں مے کدئہ بہار سے
مست مے خرام کا سن تو ذرا پيام تو
زندہ وہی ہے کام کچھ جس کو نہيں قرار سے
پھرتی ہے واديوں ميں کيا دخترخوش خرام ابر
کرتی ہے عشق بازياں سبزئہ مرغزار سے

جام شراب کوہ کے خم کدے سے اڑاتی ہے
پست و بلند کرکے طے کھيتوں کو جا پلاتی ہے

شاعر دل نواز بھی بات اگر کہے کھری
ہوتی ہے اس کے فيض سے مزرع زندگی ہری
شان خليل ہوتی ہے اس کے کلام سے عياں
کرتی ہے اس کی قوم جب اپنا شعار آزری
اہل زميں کو نسخۂ زندگی دوام ہے
خون جگر سے تربيت پاتی ہے جو سخنوری

گلشن دہر ميں اگر جوئے مے سخن نہ ہو
پھول نہ ہو، کلی نہ ہو، سبزہ نہ ہو، چمن نہ ہو

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button