مرزا بيدل

ہے حقيقت يا مري چشم غلط بيں کا فساد
يہ زميں، يہ دشت ، يہ کہسار ، يہ چرخ کبود
کوئي کہتا ہے نہيں ہے ، کوئي کہتاہے کہ ہے
کيا خبر ، ہے يا نہيں ہے تيري دنيا کا وجود!
ميرزا بيدل نے کس خوبي سے کھولي يہ گرہ
اہل حکمت پر بہت مشکل رہي جس کي کشود!
”دل اگر ميداشت وسعت بے نشاں بود ايں چمن
”رنگ مے بيروں نشست از بسکہ مينا تنگ بود

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے