رموز بے خودی

دور حاضر تر فروش و پر فن است

دور حاضر تر فروش و پر فن است

کاروانش نقد دین را رهزن است

ترجمہ

موجودہ زمانہ نئی چمک اور دل فریبی بیچنے والا اور بہت ہنر مند ہے، مگر اس کا کارواں دین کے اصل سرمائے کا رہزن بن جاتا ہے۔

تشریح

یہاں اقبال اپنے خطاب کا رخ اس زمانے کی طرف موڑتے ہیں جو بظاہر ترقی، مہارت، جدت، اور دلکشی سے بھرا ہوا نظر آتا ہے، مگر باطن میں ایمان کے سرمایے کو کمزور کرتا ہے۔ “تر فروش” کی تعبیر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ دور اپنے آپ کو نئی تازگی، رنگینی، اور کشش کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ “پر فن” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس اپنے نظریات، عادتوں، اور اندازِ زندگی کو دلکش بنا کر بیچنے کے بے شمار طریقے ہیں۔ اقبال کو خطرہ خود فن یا مہارت سے نہیں، بلکہ اس دل فریب انداز سے ہے جس کے ذریعے روحانی نقصان کو ترقی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ اس دور کا کارواں “نقدِ دین” کا رہزن ہے۔ نقد سے مراد وہ تیار، اصلی، اور فوری سرمایہ ہے جو انسان کے پاس موجود ہو۔ دین کا نقد سرمایہ ایمان، حیا، غیرت، توحید، اخلاق، اور تہذیبی خودی ہے۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ جدید دور کی بہت سی چمکیں انسان سے یہی اصل پونجی چھین لیتی ہیں، جبکہ بدلے میں اسے ظاہری سہولت، نمائش، یا خود فریبی دے دیتی ہیں۔ عورت چونکہ گھر اور نسل کی نگہبان ہے، اس لیے شاعر اسے خاص طور پر خبردار کرتے ہیں کہ اس کارواں کی دل فریبی سے دھوکا نہ کھائے۔

تر فروش کی تعبیر:

یہ زمانہ اکثر “نیا” ہونے کو خود بخود “بہتر” ہونے کے برابر ثابت کرتا ہے۔ اقبال اس نفسیات کو چیلنج کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہر نیا رنگ فائدہ مند نہیں ہوتا۔

جو چیز اپنی کشش سے مسحور کر دے مگر اندر سے روح کو کمزور کرے، وہ خواہ کتنی خوبصورت پیش کی جائے، خسارے کا سودا ہی ہے۔

نقدِ دین کیا ہے:

نقدِ دین انسان کے وہ باطنی اثاثے ہیں جو بازار سے نہیں خریدے جا سکتے: توکل، غیرت، عبادت کا ذوق، پاکیزگی، اور حق پر قائم رہنے کی ہمت۔

اگر یہ سرمایہ لٹ جائے تو باقی ترقی اپنے اندر وزن کھو دیتی ہے، کیونکہ انسان کے پاس ظاہری ساز و سامان تو رہ جاتا ہے مگر روحانی مرکز باقی نہیں رہتا۔

کاروانِ عصر کا فتنہ:

کارواں حرکت، سفر، اور اجتماعی رجحان کی علامت ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ یہ فتنہ انفرادی نہیں، بلکہ پورے زمانے کی رفتار میں شامل ہو سکتا ہے۔

اس لیے عورت کو محض اپنی ذات نہیں بلکہ اپنے گھر، بچوں، اور تہذیبی فضا کو بھی اس سیلاب سے بچانا ہے۔ وہی پہلی دیوار ہے جو اصل سرمائے کو لوٹنے نہیں دیتی۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سی چیزیں آزادی، ترقی، یا ذہانت کے نام پر قبول کر لی جاتی ہیں، حالانکہ ان کے اثرات ایمان، خاندان، اور اخلاقی توازن کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اقبال ہمیں ظاہری چمک کے پیچھے چھپی قیمت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

یہ شعر سکھاتا ہے کہ ہر دلکش رجحان کو اختیار کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں وہ دین کے نقد سرمائے کے بدلے صرف عارضی چمک تو نہیں دے رہا۔

مثال

جیسے کوئی چور قیمتی خزانہ لے کر بدلے میں رنگین شیشے چھوڑ جائے، ویسے ہی بعض تہذیبی فتنوں کی چمک انسان سے اصل دینی سرمایہ چھین لیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں موجودہ دور کی دل فریب مگر خطرناک چالاکی کو بے نقاب کرتے ہیں جو مہارت اور چمک کے پردے میں دین کے اصل سرمائے کو لوٹ لیتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button