رموز بے خودی

این «من» نو زاده آغاز حیات

این «من» نو زاده آغاز حیات

نغمهٔ بیداری ساز حیات

ترجمہ

یہ نیا جنم لینے والا “میں” حیات کی ابتدا ہے، اور زندگی کے ساز کی بیداری کا نغمہ ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال پچھلے اشعار کی پوری تمہید کو ایک فیصلہ کن نکتے تک پہنچاتے ہیں۔ ابھی تک وہ دکھا رہے تھے کہ بچہ سوال کرتا ہے، نقش لیتا ہے، باہر کی دنیا کے پیچھے دوڑتا ہے، پھر اپنے اندر ایک ربط اور تسلسل محسوس کرتا ہے۔ اب شاعر اعلان کرتے ہیں کہ یہی نیا پیدا ہونے والا “من” دراصل حیات کا آغاز ہے۔ یعنی زندگی صرف سانس لینے، حرکت کرنے یا خواہش رکھنے کا نام نہیں؛ اصل زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب شعور اپنے اندر ایک مرکز محسوس کرتا ہے اور “میں” کے طور پر بیدار ہوتا ہے۔ اقبال کے فلسفے میں خودی کے بغیر حیات بے مرکز اور نامکمل رہتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں “نغمۂ بیداری ساز حیات” نہایت خوب صورت ترکیب ہے۔ یہاں حیات کو ایک ساز کی طرح دیکھا گیا ہے جو اس وقت تک خاموش یا نیم بیدار ہے جب تک اس میں “میں” کی آواز پیدا نہیں ہوتی۔ گویا “من” محض ایک نفسی اصطلاح نہیں بلکہ زندگی کی موسیقی کا پہلا روشن سر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کے نزدیک خودی کی پیدائش انسان کو حیاتی وجود سے شعوری وجود میں منتقل کرتی ہے۔ فردی سطح پر بھی اور ملی سطح پر بھی، حیات کی اصل بیداری اسی لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وجود اپنے مرکز کو پا لیتا ہے۔

حیات کی حقیقی ابتدا:

عام نگاہ میں زندگی پیدائش سے شروع ہوتی ہے، مگر اقبال کی نگاہ میں شعوری زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے باطن میں ایک مستقل “میں” کو محسوس کرتا ہے۔ اس سے پہلے حیات میں حرکت تو ہوتی ہے، مگر مرکز نہیں۔ اقبال اس فرق کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

یہی فرق جان دار ہونے اور باخبر ہونے کے درمیان ہے۔ حیوانی تقاضے پہلے بھی ہوتے ہیں، مگر خودی کا بیدار ہونا انسان کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے جہاں وہ اپنے وجود کو پہچاننے لگتا ہے۔

نغمہ اور ساز کا استعارہ:

ساز اگر موجود ہو مگر اس میں بیداری کا سر نہ اٹھے تو وہ محض ایک آلہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح وجود اگر موجود ہو مگر اس میں “میں” کی آواز نہ ہو تو وہ پوری طرح زندہ شعور نہیں بنتا۔ اقبال نے اس استعارے کے ذریعے یہ بتایا کہ خودی محض اضافہ نہیں بلکہ حیات کی نغمگی کا آغاز ہے۔

یہ نغمہ شور نہیں بلکہ بیداری ہے۔ اس میں نظم بھی ہے، معنی بھی، اور ایک ایسا داخلی آہنگ بھی جو انسان کو محض خارجی عمل سے اٹھا کر باطنی ادراک تک لے جاتا ہے۔

فرد سے ملت تک:

اس شعر کے فوراً بعد اقبال ملت کی طرف رخ کرتے ہیں، اس لیے یہاں “من” صرف فردی نفسیات کا مسئلہ نہیں۔ شاعر بتانا چاہتے ہیں کہ جیسے فرد میں “میں” کی بیداری سے حقیقی حیات شروع ہوتی ہے، ویسے ہی ملت میں اجتماعی خودی کی بیداری سے اس کی اصل زندگی شروع ہوتی ہے۔

جس قوم کے پاس صرف افراد ہوں مگر کوئی زندہ اجتماعی خود آگہی نہ ہو، وہ ابھی پوری معنوں میں بیدار ملت نہیں۔ اقبال کی ملی فکر میں یہ “من” بعد میں “ما” کی بنیاد بنتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ اور قومیں حرکت تو رکھتی ہیں مگر مرکز نہیں۔ ان کے پاس سرگرمی ہے، مگر اندر کوئی واضح شعورِ ذات نہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ زندگی میں کتنی دوڑ دھوپ ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس دوڑ کے پیچھے بیدار “میں” موجود ہے یا نہیں۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنی حیات کو صرف عادت، مصروفیت یا رد عمل تک محدود نہ رکھیں۔ اپنے اندر اس بیدار “من” کو پیدا کریں جو زندگی کے ساز میں حقیقی نغمہ بن کر ابھرے۔ اقبال کے نزدیک یہی خودی حیات کی سچی ابتدا ہے۔

مثال

جیسے ایک ساز میں تار تو پہلے سے موجود ہوتے ہیں مگر اصل موسیقی تب شروع ہوتی ہے جب پہلا بامعنی سر نکلے، ویسے ہی وجود میں اصل زندگی تب جاگتی ہے جب “میں” کی بیداری پیدا ہو۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ خودی کا بیدار “من” ہی حیات کی حقیقی ابتدا ہے۔ یہی “میں” زندگی کے ساز میں وہ پہلا نغمہ ہے جس سے شعوری، بامعنی اور پختہ زندگی شروع ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button