فطرت او سوی ظلمت برده رخت
فطرت او سوی ظلمت برده رخت
حق ز تیغ خامه ی او لخت لخت
ترجمہ
اس کی فطرت اندھیرے کی طرف جا بسی، اور اس کے قلم کی تلوار نے حق کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں اس سیاسی مفکر کی باطنی سمت اور اس کے قلم کے نتائج دونوں کو نہایت شدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ پچھلے شعر میں حکمرانوں کے لیے لکھے گئے نسخے کا ذکر تھا، اب وہ کہتے ہیں کہ ایسا نسخہ اتفاقاً پیدا نہیں ہوا؛ اس کے پیچھے ایک ایسی فطرت تھی جو ظلمت کی طرف مائل ہو چکی تھی۔ اسی لیے اس کے قلم کی تلوار نے حق کو جوڑنے کے بجائے کاٹ ڈالا۔ شعر کے مطابق:
فطرت او:
اقبال کے نزدیک فکر محض ذہنی مشق نہیں، فطرت کا اظہار بھی ہے۔ انسان جیسا باطن رکھتا ہے، ویسی ہی تعبیرات تخلیق کرتا ہے۔ اگر دل میں نور، دیانت اور جواب دہی ہو تو قلم سے وہی نکلتا ہے؛ اور اگر باطن ظلمت، مکر اور بے اصولی کی طرف مائل ہو تو تحریر بھی اسی رخ پر جاتی ہے۔ اس لیے اقبال جڑ کو فطرت میں تلاش کرتے ہیں، صرف الفاظ میں نہیں۔
قلم کے پیچھے ہمیشہ ایک باطنی آدمی کھڑا ہوتا ہے، اور وہی اس کی سمت متعین کرتا ہے۔
سوی ظلمت برده رخت:
رخت لے جا بسنا مستقل میلان کی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے کبھی کبھی اندھیرے کی بات کی، بلکہ یہ کہ اس کی فکری سکونت ہی ظلمت میں تھی۔ ظلمت یہاں جہالت نہیں بلکہ وہ شعوری تاریکی ہے جس میں حق و باطل کے درمیان پردہ ڈال دیا جاتا ہے، طاقت کو معیار بنایا جاتا ہے، اور اخلاقی جواب دہی کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔
سب سے خطرناک اندھیرا وہ ہے جسے عقل کی روشنی سمجھ لیا جائے۔
تیغ خامه:
قلم کو تلوار کہنا بتاتا ہے کہ اقبال زبان اور فکر کی قوت کو خوب پہچانتے ہیں۔ تحریر قتل بھی کر سکتی ہے اور حیات بھی دے سکتی ہے۔ یہاں قلم تلوار بنا ہے، یعنی اس نے فقط رائے نہیں دی بلکہ اجتماعی شعور پر وار کیا۔ یہ وار اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ تلوار جسم کاٹتی ہے، مگر قلم پیمانے، تعبیرات اور ضمیر کو بدل دیتا ہے۔
فکر کی تلوار اگر باطل کے ہاتھ آ جائے تو اس کی ضرب نسلوں تک محسوس ہوتی ہے۔
حق لخت لخت:
حق کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سیاست کو حق سے الگ کر دیا، اخلاق کو طاقت سے کاٹ دیا، اور کامیابی کو سچائی سے جدا کر دیا۔ جب یہ جدائیاں قبول کر لی جائیں تو انسان پوری حقیقت نہیں دیکھ پاتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ کچھ جگہوں پر حق ضروری ہے، مگر اقتدار کے مقام پر نہیں؛ کچھ حالات میں دیانت اچھی ہے، مگر ریاستی مصلحت کے وقت نہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی حق کا پارہ پارہ ہو جانا ہے۔
حق اس وقت سلامت رہتا ہے جب اسے زندگی کے ہر میدان میں ایک ہی حق سمجھا جائے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی قلم، میڈیا، بیانیہ اور فکری ادارے اسی طرح حق کو ٹکڑے ٹکڑے کر سکتے ہیں اگر وہ طاقت کے خادم بن جائیں۔ جب لوگ یہ سکھانے لگیں کہ سیاست میں الگ اخلاق ہے، کاروبار میں الگ سچ ہے، اور قومی مفاد میں الگ عدل ہے، تو سمجھنا چاہیے کہ تیغِ خامہ پھر چل رہی ہے۔ اقبال کی دعوت یہ ہے کہ حق کو ہر میدان میں یکساں رکھا جائے، ورنہ تحریر تہذیب کے ضمیر کو زخمی کر دیتی ہے۔
اسلامی خودی ایسا قلم چاہتی ہے جو حق کو جمع کرے، نہ کہ اسے مصلحت کی خاطر ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
مثال
اگر کوئی دانشور یہ باور کرائے کہ قومی مصلحت کے لیے جھوٹ، ظلم یا بدعہدی قابلِ قبول ہے، تو وہ دراصل ایک ایسے قلم سے کام لے رہا ہے جو حق کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق اس مفکر کی فطرت اندھیرے کی طرف مائل تھی، اسی لیے اس کے قلم نے حق کو یکجا رکھنے کے بجائے کاٹ ڈالا۔ اس کی تحریر نے سیاست اور اخلاق کے درمیان خطرناک جدائی پیدا کی۔