رموز بے خودی

اینهمه ای خواجه آغوش تو اند

اینهمه ای خواجه آغوش تو اند

پیش خیز وحلقه در گوش تو اند

ترجمہ

اے صاحبِ عزم، یہ سب تیرے آغوش میں آنے والے ہیں؛ آگے بڑھ، یہ سب تیرے لیے فرمان بردار بننے کو تیار کھڑے ہیں۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی تکمیل ہے۔ آسمان کے وہ اجرام جنہیں قدیم قومیں خداوند سمجھتی تھیں، اقبال اب مسلمان کے سامنے ایک نئے زاویے سے رکھتے ہیں۔ “اینهمه” یعنی یہ سب: ستارے، سیارے، کائناتی قوتیں، اور وہ سارے عظیم مظاہر جن کے سامنے انسان صدیوں تک حیران و خوف زدہ کھڑا رہا۔ اقبال کہتے ہیں: اے خواجہ، یہ سب تیرے آغوش میں ہیں۔ یعنی یہ دنیا تیرے لیے بند نہیں، کھلی ہوئی ہے؛ یہ قوتیں تیرے لیے اجنبی نہیں، ممکنات سے بھری ہوئی امانت ہیں۔

“پیش خیز و حلقه در گوش تو اند” کا استعارہ نہایت فیصلہ کن ہے۔ “حلقہ در گوش” فرمان برداری، تابع داری اور خدمت کے لیے آمادہ ہونے کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک کائنات کی قوتیں اس انسان کے لیے تابع ہو سکتی ہیں جو بیدار، خدا شناس، علم دوست اور جرات مند ہو۔ مگر ایک شرط ہے: “پیش خیز”۔ یعنی اٹھو، آگے بڑھو، پہل کرو۔ کائنات کا تابع ہونا انفعال سے نہیں، اقدام سے ملتا ہے۔ اگر انسان پیچھے ہٹا رہے تو یہی قوتیں اس کے لیے اجنبی اور غالب رہیں گی؛ اگر وہ آگے بڑھے تو یہی اس کی خدمت میں آ سکتی ہیں۔

آغوش کا استعارہ:

آغوش میں آنے کا مطلب قربت، شمولیت، اور اپنے دائرۂ اختیار میں داخل ہونا ہے۔ اقبال اس طرح کائنات کو دور کی چیز نہیں رہنے دیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب تمہارے سامنے کھلا ہوا ہے۔ شرط یہ ہے کہ تمہارے اندر اس کو لینے، سمجھنے اور سنبھالنے کی اہلیت ہو۔

اس آغوش میں لانا جبر نہیں بلکہ ربط ہے۔ جب انسان کائنات کے ساتھ صحیح نسبت قائم کرتا ہے تو وہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور اسے معنی بھی دیتا ہے۔ یہی نائبِ حق کا تعلق ہے۔

پیش خیز:

اقبال کے لہجے میں یہاں ایک خاص حرکی کیفیت ہے۔ وہ صرف نظری بات نہیں کر رہے، دھکیل رہے ہیں۔ اٹھنے اور آگے بڑھنے کا حکم بتاتا ہے کہ وسعتِ کائنات کا دروازہ سست اور خوف زدہ قوموں پر نہیں کھلتا۔ اس کے لیے جستجو، ہمت اور تدبیر چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال اکثر امت کے زوال کو صرف بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں مانتے، بلکہ داخلی سستی اور بے اقدامی سے بھی جوڑتے ہیں۔ “پیش خیز” اس سستی کے خلاف اعلان ہے۔

کائنات کی فرمان برداری:

کائنات کا “حلقہ در گوش” ہونا کوئی سادہ جملہ نہیں۔ اس کے اندر علم، صنعت، ریاضی، مشاہدہ، تحقیق، اور تمدنی قوت کی پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔ قدرتی قوتیں واقعی اس وقت تک تابع نہیں ہوتیں جب تک ان کی زبان نہ سیکھی جائے۔ اقبال اس تابع داری کو ممکن سمجھتے ہیں، مشروط نہیں بلکہ مطلوب سمجھتے ہیں۔

لیکن اس تابع داری کا اخلاقی رخ بھی ہے۔ اگر کائنات تمہاری خدمت میں آئے تو تم بھی اسے خیر، عدل اور تعمیر میں لگاؤ۔ ورنہ تسخیر فساد میں بدل سکتی ہے۔ اقبال کی نظر ہمیشہ اس توازن پر قائم رہتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان اگر اپنے آپ کو صرف دفاعی اور محروم ذہنیت میں قید رکھے گا تو اس کے سامنے کائنات کے دروازے بند ہی دکھائی دیں گے۔ مگر اگر وہ علم، مہارت، اور جرات کے ساتھ آگے بڑھے تو وہی میدان کھل سکتے ہیں جنہیں وہ دور سے ناقابلِ رسائی سمجھتا رہا ہے۔

یہ شعر امت کو ایک اعتماد دیتا ہے: دنیا تمہارے خلاف لکھی ہوئی تقدیر نہیں، تمہارے لیے کھلا ہوا میدان بھی ہو سکتی ہے۔ اٹھو، آگے بڑھو، اور اس تعلق کو پیدا کرو جس میں قدرت کی قوتیں تمہاری خودی کو وسیع کریں۔

مثال

جیسے ایک ماہر استاد کے سامنے اوزار بے کار دھات نہیں رہتے بلکہ اس کے ہاتھ میں کام کرنے لگتے ہیں، ویسے ہی بیدار انسان کے لیے کائنات کے میدان امکانات کے تابع وسیلے بن سکتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اعلان کرتے ہیں کہ کائنات کی بڑی قوتیں انسانِ بیدار کے لیے دور اور مقدس دیواریں نہیں، اس کے اختیار اور خدمت کے میدان بن سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خود اٹھ کر آگے بڑھے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button