پا بہ گل مانند شمشادش کند
پا بہ گل مانند شمشادش کند
دست و پا بندد کہ آزادش کند
ترجمہ
قوم فرد کو شمشاد کے درخت کی طرح مٹی میں جما دیتی ہے، اور اس کے ہاتھ پاؤں (تہذیب و ضابطے سے) باندھ کر اسے آزاد کر دیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں بظاہر پابندی مگر حقیقتاً آزادی کے فلسفے کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوم کی نظم و ضبط دراصل فرد کے لیے استواری اور حقیقی آزادی کا ذریعہ ہے۔ شعر کے مطابق:
شمشاد کی طرح استواری:
قوم فرد کو شمشاد کے خوبصورت اور سیدھے درخت کی طرح اپنی بنیاد پر مضبوطی سے کھڑا رکھتی ہے۔ وہ اسے جڑیں اور استحکام عطا کرتی ہے۔
یہی جماؤ اور استواری فرد کو ہوا کے ہر جھونکے سے گرنے سے بچاتی ہے اور اسے وقار عطا کرتی ہے۔
ہاتھ پاؤں باندھنا:
بظاہر قوم فرد کو قوانین اور ضابطوں کا پابند کرتی ہے، جیسے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہوں۔ یہ پابندی ابتدا میں بوجھ محسوس ہوتی ہے۔
پابندی میں آزادی:
مگر یہی پابندی اور تہذیب دراصل اسے حقیقی آزادی عطا کرتی ہے۔ ضابطے کا پابند فرد ہی معاشرے میں باوقار، محفوظ اور آزاد زندگی گزارتا ہے۔
بے لگام آزادی فرد کو انتشار اور تباہی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ ضابطے کی پابندی اسے حقیقی اور بامعنی آزادی دیتی ہے۔
ضبط کا ثمر:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ اصل آزادی بے قید ہونے میں نہیں بلکہ اصولوں کی پابندی میں ہے، جو فرد کو مضبوط اور باوقار بناتی ہے۔
مثال
جیسے پتنگ ڈور کی پابندی میں ہی بلند اُڑتی ہے اور ڈور ٹوٹتے ہی بے قابو ہو کر گر جاتی ہے، ویسے ہی فرد ضابطے کی پابندی میں ہی حقیقی آزادی اور بلندی پاتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ قوم کی نظم و ضبط بظاہر پابندی ہے مگر حقیقت میں یہی فرد کی استواری، وقار اور حقیقی آزادی کا ذریعہ ہے۔


