رموز بے خودی

کائنات از کیف او رنگین شده

کائنات از کیف او رنگین شده

کعبه ها بتخانه های چین شده

ترجمہ

کائنات اس کے کیف سے رنگین ہو گئی، اور چین کے بت خانے بھی کعبوں میں بدلنے لگے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں محمدی امت اور نبوی فیضان کے عالمی اور تہذیبی اثر کو بیان کرتے ہیں۔ “کیف” یہاں روحانی سرور، زندگی بخش حرارت، اور توحیدی نور کے پھیلاؤ کی علامت ہے۔ اس کیفیت نے دنیا کو بدلنا شروع کیا، یہاں تک کہ دور دراز تہذیبیں بھی اس روشنی کے سامنے نئی صورت اختیار کرنے لگیں۔ شعر کے مطابق:

کیف کا معنی:

کیف صرف جذباتی سرور نہیں، بلکہ وہ زندہ روحانی لذت ہے جو حق سے نسبت پیدا ہونے پر باطن میں پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک محمدی امت کے اندر یہ کیفیت پائی گئی، اس لیے اس کی تہذیبی تاثیر خشک، سخت یا جابرانہ نہ رہی بلکہ رنگ آفرین اور حیات بخش بن گئی۔

جب حق کی روشنی کیف کے ساتھ آئے تو وہ صرف قائل نہیں کرتی، دلوں کو بدل بھی دیتی ہے۔

کائنات کا رنگین ہونا:

یہ مبالغہ نہیں بلکہ اس اثر کی شاعرانہ تصویر ہے کہ نبوی نور نے انسان کے علم، فن، عبادت، معاشرت اور تاریخ، سب میں نئی رنگینی پیدا کی۔ کائنات کو رنگین کہنا دراصل انسانی دنیا میں معنی کے دوبارہ پیدا ہونے کا استعارہ ہے۔ جمود، تاریکی اور یک رنگی کے بجائے وسعت، حسن اور زندگی کا احساس پیدا ہوا۔

اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ رسالتِ محمدیہ نے انسان کے اندر دیکھنے کی نئی آنکھ بھی پیدا کی۔

بت خانوں کا کعبہ ہونا:

یہ مصرع عالم گیر تبدیلی کا استعارہ ہے۔ مراد یہ نہیں کہ ہر جگہ عمارتیں لفظی طور پر کعبہ بن گئیں، بلکہ یہ کہ دور دراز تہذیبوں کے باطل مراکز بھی توحید کے سامنے بدلنے لگے۔ جہاں پہلے جھوٹے معبود تھے، وہاں خدا کے سامنے جھکنے کا امکان پیدا ہوا۔

محمدی دعوت کی آفاقیت یہی ہے کہ اس نے صرف اپنی سرزمین نہیں، دوسرے تمدنوں کے باطن کو بھی متاثر کیا۔

آفاقی اخوت کا پہلو:

چین کا ذکر بتاتا ہے کہ محمدی اخوت عرب کی محدود سرحدوں میں بند نہ تھی۔ یہ ایک ایسا پیغام تھا جو دوسرے علاقوں اور قوموں کو بھی امت کے دائرے میں لا سکتا تھا۔ یہی مساوات اور اخوت کی معراج ہے کہ دور دراز انسان بھی اس چراغ کے پروانے بن سکتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک یہی امت کی عالم گیر انسان دوستی ہے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج اگر امت خود بے کیف، بے نور اور محض دفاعی مزاج میں زندہ رہے تو اس کی آفاقی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ نبوی پیغام کا اصل ذوق ایسا تھا کہ کائنات کو رنگ دے سکے۔ اگر وہ گرمی اور کیف واپس آئے تو امت پھر سے دلوں کو چھو سکتی ہے، محض مناظرے نہیں کرے گی۔

اصل دعوت وہی ہے جو باطل مراکز کو ٹکرا کر نہیں، نور سے بدل دے۔

مثال

کسی عظیم اور بااخلاق تہذیبی مثال کی تاثیر یہ ہوتی ہے کہ دوسرے معاشرے اس سے مرعوب نہیں، متاثر ہو کر اپنی بہت سی عادتیں بدلنے لگتے ہیں۔ یہی نرم مگر گہری فتح ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق محمدی کیف نے انسانی دنیا کو نئی رنگینی دی اور دور دراز تہذیبوں کے باطل مراکز تک کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کی۔ یہ نبوی پیغام کی آفاقی حیات اور اخوت کی قوت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button