صد جهان در یک فضا پوشیده اند
صد جهان در یک فضا پوشیده اند
مهر ها در ذره ها پوشیده اند
ترجمہ
ایک ہی فضا کے اندر سو جہان پوشیدہ ہیں، اور ذروں کے اندر بھی سورج چھپے ہوئے ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال انسان کی نظر کو یکایک حیرت انگیز وسعت عطا کرتے ہیں۔ اب گفتگو صرف پہاڑ اور دریا کے استعمال تک محدود نہیں رہتی، بلکہ کائنات کے اندر پوشیدہ امکانات کی لامتناہی کثرت تک پہنچ جاتی ہے۔ “صد جهان در یک فضا” کا مطلب یہ ہے کہ جو فضا بظاہر ایک ہی دکھائی دیتی ہے، اس کے اندر امکانات، قوتیں، راز، قوانین، اور سطحیں اتنی زیادہ ہیں کہ گویا ایک عالم کے اندر کئی عالم چھپے ہوئے ہیں۔ ظاہر سادہ ہے، باطن بے اندازہ وسیع۔ اقبال اس سے انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ حقیقت اتنی محدود نہیں جتنی تمہاری عادی نظر سمجھتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں یہ معنی اور زیادہ گہرا ہو جاتا ہے: “مهر ها در ذره ها پوشیده اند”۔ ذرّہ جسے عام آدمی حقیر، معمولی اور تقریباً بے معنی سمجھتا ہے، اس کے اندر اقبال سورج دیکھتے ہیں۔ یعنی چھوٹی سے چھوٹی شے میں عظیم ترین قوتیں، روشنیاں، اور امکانات پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہ تعبیر صرف شعری حیرت نہیں بلکہ ایک علمی بیداری بھی ہے۔ وہ ذہن جو ذرّے میں سورج دیکھنا سیکھ لے، وہ کسی چیز کو حقیر نہیں سمجھے گا۔ اسے معلوم ہوگا کہ دنیا کے بظاہر معمولی اجزا کے اندر بھی عظیم تخلیقی قوتیں سو رہی ہیں۔
ایک فضا میں کئی جہان:
اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ حقیقت کی تہیں بہت زیادہ ہیں۔ جو دنیا ہمیں ایک رخ سے نظر آتی ہے، وہ دراصل کثیر الجہات ہے۔ ایک ہی منظر میں سائنسی راز بھی ہو سکتے ہیں، جمالیاتی معنی بھی، معاشی امکانات بھی، اور روحانی اشارے بھی۔ اس لیے زندہ نظر کبھی سطح پر مطمئن نہیں ہوتی۔
یہی نگاہ علم کی اصل بنیاد ہے۔ جو شخص ایک ہی فضا میں کئی جہان دیکھ سکے وہ سوال اٹھاتا ہے، تلاش کرتا ہے، اور پوشیدہ امکانات کو ظاہر کرنے نکل پڑتا ہے۔ اقبال ایسی ہی نظر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ذرے میں سورج:
ذرے میں سورج کا مطلب ہے کہ حقیر دکھائی دینے والی چیز میں بھی زبردست توانائی اور بڑی معنویت پوشیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ فکر انسان کو تحقیر سے بچاتی ہے اور تحقیق کی طرف لے جاتی ہے۔ جب قومیں ذرّات کو سنجیدگی سے لیتی ہیں تو وہ انہی چھوٹے اجزا سے بڑے انقلابات پیدا کرتی ہیں۔
یہاں “مهر” روشنی، حرارت، مرکزیت، اور زندگی بخش قوت کی علامت ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ چھوٹا ہونا کمزور ہونا نہیں۔ بہت کچھ اپنی اصل قوت چھپائے ہوئے ہوتا ہے، بس نگاہ اور محنت چاہیے جو اسے کھول سکے۔
ممکنات کی کثرت:
یہ شعر اقبال کے ممکنات اندیش مزاج کا نہایت واضح اظہار ہے۔ وہ دنیا کو بند دائرہ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک موجود حقیقت کے اندر نئے جہان چھپے ہوئے ہیں، اور محدود دکھائی دینے والی شے کے اندر عظیم توانائیاں۔ یہی سوچ قوموں کو تخلیقی بناتی ہے۔
اگر یہ مزاج پیدا ہو جائے تو انسان قلت میں بھی وسعت دیکھتا ہے، ذرّے میں بھی عالم دیکھتا ہے، اور معمولی وسیلے میں بھی بڑی راہ پہچان لیتا ہے۔ اقبال امت میں یہی باطنی بینائی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں علم اور صنعت بار بار ثابت کر چکے ہیں کہ بظاہر چھوٹی شے کے اندر کتنی بڑی قوتیں چھپی ہو سکتی ہیں۔ مگر اقبال اس حقیقت کو محض تکنیکی اشارہ نہیں بناتے، وہ اسے ایک تہذیبی اخلاق میں بدلتے ہیں: کسی چیز کو چھوٹا سمجھ کر مت چھوڑو، اس کے اندر کے جہان تلاش کرو۔
یہ شعر امت کو وسعتِ نظر، تحقیق کے شوق، اور امکانات کی باریک بینی کی دعوت دیتا ہے۔ جو قوم ذرّے میں سورج دیکھنا سیکھ لے، وہ نہ اپنے وسائل کو کم سمجھے گی، نہ اپنے مستقبل کو۔ اقبال کے نزدیک یہی بیدار نگاہ تاریخ کو بدلتی ہے۔
مثال
جیسے ایک چھوٹا بیج اپنے اندر پورا درخت پوشیدہ رکھتا ہے، ویسے ہی کائنات کی معمولی دکھائی دینے والی چیزوں کے اندر بڑے جہان اور بڑی قوتیں چھپی ہو سکتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ حقیقت سطحی نہیں؛ ایک ہی فضا میں کئی جہان اور ذرّے کے اندر سورج جیسی قوتیں پوشیدہ ہیں۔ زندہ ملت وہی ہے جو ان امکانات کو دیکھنا اور کھولنا سیکھے۔