رموز بے خودی

رشته ئی باید گره اندر گره

رشته ئی باید گره اندر گره

تا شود لطف گشودن را فره

ترجمہ

ایک ایسی ڈوری چاہیے جس میں گرہ پر گرہ ہو، تاکہ کھولنے کے لطف کو شان اور جلال حاصل ہو۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مشکل، رکاوٹ اور پیچیدگی کی قدر سکھاتے ہیں۔ عام طور پر انسان چاہتا ہے کہ راستہ بالکل صاف ہو، مسائل کم ہوں، اور ہر چیز بغیر محنت کے ہاتھ آ جائے۔ مگر اقبال کے نزدیک ایسی آسانی زندگی کو گہرا نہیں بناتی۔ اگر کہیں گرہ ہی نہ ہو تو گره کشائی کی لذت کہاں سے آئے؟ اگر کوئی مسئلہ ہی نہ ہو تو عقل، ہمت، تدبیر اور صبر کس میدان میں اپنا جوہر دکھائیں؟ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: “رشتہ ئی باید گره اندر گره”۔ یعنی زندگی کے میدان میں ایسی پیچیدگیاں بھی درکار ہیں جو انسان کو کھولنے، سمجھنے، سلجھانے اور آگے بڑھنے پر آمادہ کریں۔

“لطف گشودن” کا مطلب محض ایک مشکل حل کر لینا نہیں بلکہ اس عمل میں اپنی قوت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیت کو بیدار کرنا بھی ہے۔ “فره” سے شان، جلال، رونق اور دل کشی کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ اقبال گویا یہ کہتے ہیں کہ گره کشائی کا حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب واقعی گرہیں موجود ہوں۔ جس زندگی میں چیلنج نہ ہو، وہاں فتح کی روشنی بھی ماند رہتی ہے۔ اسی لیے کائنات کی پیچیدگیاں مومن کے لیے مایوسی کا سامان نہیں بلکہ رشد، کشف اور تسخیر کا موقع ہیں۔

گرہ کی معنویت:

گرہ ہر اس مقام کا استعارہ ہے جہاں کوئی شے بند، پیچیدہ یا مشکل ہو۔ علم میں یہ گرہ سوال ہے، تہذیب میں مسئلہ ہے، کردار میں کم زوری ہے، اور کائنات میں کوئی پوشیدہ قانون ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مومن گرہ دیکھ کر پیچھے نہ ہٹے بلکہ یہ سمجھے کہ یہ اس کے لیے ایک دعوت ہے۔

یہ نقطہ بہت اہم ہے، کیونکہ بعض لوگ مشکل کو بدنصیبی سمجھتے ہیں، جبکہ اقبال اسے تربیت سمجھتے ہیں۔ گرہ اگر نہ ہو تو ہاتھ کی مہارت، نظر کی باریکی اور دل کی ہمت سب سوئی رہتی ہے۔ گرہ بیداری کا موقع ہے۔

گشودن کا لطف:

اقبال کے ہاں “کھولنا” صرف کسی بند چیز کو کھولنا نہیں بلکہ راز پانا، رکاوٹ ہٹانا، راستہ بنانا اور معنی روشن کرنا بھی ہے۔ عالمِ محسوسات کے اندر بھی کتنی ہی گرہیں پوشیدہ ہیں۔ جب انسان تحقیق، مشاہدہ اور تدبر کے ذریعے ان گرہوں کو کھولتا ہے تو علم پیدا ہوتا ہے، صنعت بنتی ہے، تمدن ترقی کرتا ہے، اور زندگی وسعت پاتی ہے۔

یہی لطف دراصل تخلیق کا لطف ہے۔ انسان اپنے رب کی بنائی ہوئی دنیا میں چھپے ہوئے امکانات کو کھولتا ہے، اور اس عمل میں خود بھی اندر سے وسیع ہوتا جاتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اسی ذوقِ گره کشائی سے آشنا ہو۔

فرہ اور جلال:

“فره” کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گره کشائی صرف مفید ہی نہیں، باوقار بھی ہے۔ جب کوئی قوم مشکل مسائل کو سمجھنے، حل کرنے اور قابو میں لانے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے تو اس کی اجتماعی شخصیت میں ایک شان پیدا ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کی محتاج نہیں رہتی بلکہ خود زمانے کے سامنے اپنا مقام منواتی ہے۔

اس کے برعکس جو قوم ہر مشکل سے بھاگے وہ اپنی ظاہری سلامتی تو بچا سکتی ہے مگر اپنی باطنی عظمت کھو دیتی ہے۔ اقبال اسی عظمت کی بازیافت چاہتے ہیں: مشکل سے فرار نہیں، مشکل پر دسترس۔

آج کے لیے سبق:

آج ہماری بہت سی کم زوریاں اسی لیے ہیں کہ ہم گرهوں سے گھبرا جاتے ہیں۔ تعلیمی مسئلہ ہو، فکری چیلنج ہو، سائنسی پسماندگی ہو، تہذیبی الجھن ہو یا معاشرتی بگاڑ، ہم اکثر یا تو شکایت پر اتر آتے ہیں یا دوسروں کے نسخے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اقبال کا مزاج اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں: گرہ ہے تو اسے کھولو؛ یہی تمہاری تربیت کا راستہ ہے۔

یہ شعر ملت کے مزاج میں ایک بڑی تبدیلی چاہتا ہے۔ آسانی طلب ذہن سے نکل کر مسئلہ شناس، حل آفریں اور جرات مند ذہن پیدا ہو۔ جب یہ مزاج آئے گا تو گرهیں بوجھ نہیں رہیں گی، موقع بن جائیں گی۔ اقبال کے نزدیک زندگی کی روشنی انہی مواقع میں چھپی ہے۔

مثال

جیسے ایک ماہر کاریگر کے ہاتھ کی خوبی تب ظاہر ہوتی ہے جب لکڑی میں پیچ ہو اور اسے تراش کر خوب صورت شکل دینی ہو، ویسے ہی انسان کی مہارت مشکل کے مقابلے میں نکھرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ پیچیدگی اور رکاوٹ زندگی کی دشمن نہیں بلکہ گره کشائی کے حسن کی شرط ہیں۔ مشکل ہی عقل، ہمت اور تخلیق کی شان کو ظاہر کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button