گرچه مثل بو سراپایش رم است
گرچه مثل بو سراپایش رم است
چون وطن در سینه ئی گیرد دم است
ترجمہ
اگرچہ زندگی خوشبو کی طرح سراپا حرکت ہے، مگر جب وہ کسی سینے میں وطن پا لیتی ہے تو پائیدار سانس بن جاتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال حیات کے دو بڑے پہلو ایک ساتھ جمع کرتے ہیں: ایک اس کی بے قراری اور دوسرا اس کا مرکز پا لینا۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی اپنی اصل میں بو کی طرح سراپا رم اور حرکت ہے، مگر جب وہ کسی سینے میں وطن حاصل کر لیتی ہے تو دم بن جاتی ہے۔ گویا حیات کی حقیقت فقط دوڑنا نہیں، بلکہ کسی مقام پر اپنے آپ کو اس طرح بسانا بھی ہے کہ وہ محض بھٹکتی ہوئی تاثیر نہ رہے بلکہ منظم، بامعنی اور پائیدار موجودگی بن جائے۔ خوشبو کا استعارہ یہاں نہایت دقیق ہے۔ بو کو پکڑا نہیں جا سکتا، وہ مسلسل گردش میں رہتی ہے، کسی ایک شکل میں بند نہیں ہوتی، اور اس کی موجودگی حرکت سے پہچانی جاتی ہے۔ اقبال نے پہلے بھی زندگی کی سرشت کو رم، پرواز اور نئی آفرینش سے جوڑا تھا۔ اب وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہی سراپا حرکت ایک مرحلے پر وطن پا کر دم بن جاتی ہے، یعنی سانس، بقا اور استمرار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
یہ شعر اس پوری بحث میں ایک اہم موڑ ہے۔ پہلے حیات کو محض متحرک، بے قرار، خود آفرین اور ہمیشہ آگے بڑھنے والی قوت کے طور پر دکھایا گیا۔ اب اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ اگر یہ حرکت کسی سینے میں وطن نہ پائے تو وہ منتشر رہ سکتی ہے۔ وطن یہاں محض جغرافیہ نہیں بلکہ مرکز، آغوش، قرار گاہ اور ایسا ربط ہے جو بکھری ہوئی تاثیر کو زندہ نظام میں بدل دیتا ہے۔ دم است کا مطلب یہ ہے کہ زندگی جب وطن پا لیتی ہے تو محض حرکت نہیں رہتی، بلکہ حیات بخش سانس بن جاتی ہے۔ یہی نکتہ آگے چل کر ملی حیات کے مرکزی اصول کو واضح کرے گا کہ ایک زندہ جماعت کو بھی اپنے انتشار کو سمیٹنے کے لیے مرکز چاہیے۔
بو کی طرح سراپا رم:
بو کی سب سے نمایاں صفت یہی ہے کہ وہ ٹھہرتی نہیں۔ وہ پھیلتی ہے، گردش کرتی ہے، اثر ڈالتی ہے، مگر خود کسی ایک جامد صورت میں نہیں رہتی۔ اقبال جب زندگی کو بو سے تشبیہ دیتے ہیں تو وہ اس کی لطافت، اس کی غیر مرئی تاثیر، اور اس کی مسلسل حرکت کو بیان کرتے ہیں۔ زندگی بظاہر کہیں ساکن دکھائی دے، مگر اس کے باطن میں بو جیسی رم باقی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ حقیقت کو صرف ظاہری سکون سے نہیں ناپا جا سکتا۔
یہ تشبیہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ زندگی ہمیشہ بھاری، سخت اور شور والی قوت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کی اصل طاقت اسی لطیف گردش میں ہوتی ہے جو آنکھ سے پوری طرح نظر نہیں آتی مگر فضا کو بدل دیتی ہے۔ اسی طرح ایک زندہ دل انسان یا زندہ ملت بھی کبھی صرف ظاہری طاقت سے نہیں، اپنے باطنی اثر، تہذیبی خوشبو، اخلاقی جذب اور روحانی تاثیر سے پہچانی جاتی ہے۔
وطن پانے کا مفہوم:
“چون وطن در سینه ئی گیرد” کے الفاظ نہایت گہرے ہیں۔ وطن پانے سے مراد صرف کسی مکان یا زمین میں جا بسنا نہیں، بلکہ ایسا قلبی مقام پا لینا ہے جہاں زندگی خود کو مربوط، محفوظ اور بامقصد محسوس کرے۔ سینه اس لیے اہم ہے کہ یہی دل، شعور، محبت، ایمان اور وفاداری کا مقام ہے۔ جب زندگی کسی سینے میں وطن پاتی ہے تو وہ باہر سے مسلط مرکز نہیں رہتا، اندر سے اپنایا ہوا ربط بن جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی اصل مرکز ہے: وہ جو اندر بسے، باہر سے صرف نافذ نہ ہو۔
یہ نکتہ فرد اور ملت دونوں کے لیے بنیادی ہے۔ فرد اگر اپنے اندر کسی بلند مقصد، کسی زندہ نسبت اور کسی سچے مرکز کو جگہ نہ دے تو اس کی حرکت منتشر رہ سکتی ہے۔ ملت بھی اگر اپنے اجتماعی سینے میں کوئی مشترک وطن، مشترک مرکز اور مشترک ربط نہ بسائے تو اس کی قوتیں خوشبو کی طرح پھیل کر بے مرکز ہو سکتی ہیں۔ اقبال اسی بکھراؤ سے بچانے کے لیے وطن کو سینے میں لینے کی بات کرتے ہیں۔
دم است کیوں کہا:
دم یعنی سانس، اور سانس کا تعلق بقا، تسلسل اور زندہ رہنے سے ہے۔ خوشبو کی گردش ایک لطیف حقیقت ہے، مگر سانس حیاتیاتی اور وجودی ضرورت ہے۔ اقبال کی نظر میں جب حیات وطن پا لیتی ہے تو وہ محض خوشبو نہیں رہتی بلکہ وجود کا قائم رکھنے والا دم بن جاتی ہے۔ اس کا اثر عارضی نہیں رہتا بلکہ پائیدار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز اور وطن زندگی کے لیے اختیاری زینت نہیں، بسا اوقات ضرورتِ بقا ہوتے ہیں۔
یہاں ایک بڑا ملی سبق بھی ہے۔ امت کی بے مرکز حرکت وقتی جوش پیدا کر سکتی ہے، مگر پائیدار دم نہیں بن سکتی۔ جب اس کی جمعی حیات کسی مشترک مرکز، کسی محسوس نشانی اور کسی قلبی وطن سے جڑتی ہے، تب اس میں تسلسل آتا ہے۔ اقبال اسی سلسلے کو آہستہ آہستہ بیت الحرام کے تصور تک لے جا رہے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے افراد اور جماعتیں حرکت تو بہت رکھتی ہیں، مگر ان کے اندر مرکز کم ہوتا ہے۔ وہ ایک خیال سے دوسرے خیال تک، ایک ردعمل سے دوسرے ردعمل تک، ایک خواہش سے دوسری خواہش تک دوڑتے رہتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ محض رم کافی نہیں، وطن بھی چاہیے۔ اگر زندگی کو اپنے اندر کسی بلند نسبت، کسی سچے مقصد اور کسی مانوس مرکز کی جگہ نہ ملے تو وہ بکھر سکتی ہے۔
یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصل وطن پہلے دل میں بنتا ہے، پھر ظاہر میں معنی پیدا کرتا ہے۔ جب انسان کے سینے میں صحیح مرکز بس جائے تو اس کی حرکت میں وقار، اس کی پرواز میں سمت، اور اس کے اثر میں دوام آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں وطن محض جگہ نہیں بلکہ زندہ مرکز ہے جو رم کو دم میں بدل دیتا ہے۔
مثال
جیسے ہوا میں بکھری خوشبو وقتی لطف دیتی ہے مگر جب وہ سانس کے ساتھ اندر اترتی ہے تو زندگی کے نظام کا حصہ بن جاتی ہے، ویسے ہی مرکز یافتہ حیات بکھری حرکت سے پائیدار قوت میں بدل جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ زندگی اپنی اصل میں سراپا حرکت ہے، مگر جب وہ کسی سینے میں وطن اور مرکز پا لیتی ہے تو حیات بخش دم بن جاتی ہے۔ یہی بکھری تاثیر کو پائیدار نظام میں بدلنے کا راز ہے۔