رموز بے خودی

آدمیت کشته شد چون گوسفند

آدمیت کشته شد چون گوسفند

پیش پای این بت ناارجمند

ترجمہ

آدمیت اس بے قدر بت کے قدموں میں یوں ذبح ہو گئی جیسے کوئی گوسفند ذبح کیا جاتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال پچھلے دو اشعار کے فکری تنبیہ کو ایک نہایت دردناک انسانی نتیجے تک پہنچاتے ہیں۔ وہاں وہ بتا چکے تھے کہ انسانی فکر ہر زمانے میں نئے بت تراشتی ہے اور کبھی رنگ، کبھی ملک، کبھی نسب کو معبود بنا لیتی ہے۔ اب وہ اس بت گری کا اجتماعی اور اخلاقی انجام دکھاتے ہیں: “آدمیت کشته شد”۔ یعنی مسئلہ صرف غلط عقیدہ یا غلط نظریہ نہیں رہتا؛ جھوٹے معبودوں کے سامنے آخرکار خود انسانیت ذبح ہو جاتی ہے۔ اور یہ ذبح اتفاقاً نہیں ہوتا، باقاعدہ قربانی کی طرح ہوتا ہے۔

“چون گوسفند” کا استعارہ نہایت شدید ہے۔ گوسفند خاموشی سے قربان کیا جانے والا جانور ہے، جس کا اپنا دفاع کمزور ہوتا ہے۔ اقبال یہ دکھاتے ہیں کہ جب باطل مرکز غالب ہو جائیں تو آدمیت بھی ایسی ہی بے بس ہو جاتی ہے۔ انسان کی عزت، اس کا ضمیر، اس کی آزادی، اس کی رحمت، اس کا عدل، سب کسی جھوٹے بت کے قدموں میں قربان ہونے لگتے ہیں۔ “بت ناارجمند” کہہ کر اقبال اس باطل معبود کی حقیقت بھی کھول دیتے ہیں: جس کے لیے اتنا خون بہایا جا رہا ہے، وہ اپنی اصل میں حقیر، بے قیمت اور نااہل ہے۔

آدمیت کا قتل:

آدمیت سے مراد وہ انسانی جوہر ہے جس میں رحم، عدل، حیا، امانت، برابری، اور خدا کے حضور جواب دہی کا شعور شامل ہے۔ جب یہ جوہر محفوظ ہو تو انسان صرف طاقت ور حیوان نہیں رہتا، اشرف المخلوقات کی شان میں کھڑا ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جھوٹے معبودوں کے زیرِ اثر سب سے پہلے یہی جوہر زخمی ہوتا ہے۔ آدمی زندہ رہ سکتا ہے، معاشرہ چل سکتا ہے، سیاست قائم رہ سکتی ہے، مگر آدمیت مر سکتی ہے۔

یہ بہت گہری بات ہے، کیونکہ تہذیبیں اکثر اپنے ظلم کو بھی ترقی، غیرت، تحفظ یا عظمت کے نام سے سجا لیتی ہیں۔ اقبال ان پردوں کو ہٹا کر اصل لاش دکھا دیتے ہیں: قتل آدمیت۔

گوسفند کی تمثیل:

گوسفند کی قربانی میں ایک طرح کی خاموشی اور بے اختیاری ہوتی ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ باطل نظاموں میں اکثر انسانیت کو بھی ایسے ہی قربان کیا جاتا ہے کہ لوگ اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ ظلم معمول بن جاتا ہے، خون معمول بن جاتا ہے، اور ضمیر اس پر حساس رہنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی اصل سانحہ ہے۔

یہ تمثیل یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ باطل بتوں کے سامنے انسان کا وقار کتنا نیچے گر جاتا ہے۔ جو مخلوق سجدۂ ملائکہ کی امانت رکھتی تھی، وہ ایک نااہل معبود کے قدموں میں ذبح ہونے لگتی ہے۔ اقبال کو یہی گراوٹ لرزا دیتی ہے۔

بت کی ناارجمی:

“ناارجمند” کا لفظ بہت فیصلہ کن ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ جن چیزوں کے لیے انسان انسان کو مارتا ہے، وہ اکثر اپنی اصل میں اس قربانی کے لائق ہی نہیں ہوتیں۔ رنگ، نسب، جغرافیہ، طاقت، منڈی، نظریاتی خود پرستی، یا اقتدار کی ہوس، ان میں سے کوئی بھی اتنا قیمتی نہیں کہ اس کے لیے آدمیت کو قتل کیا جائے۔

توحید کا بڑا احسان یہی ہے کہ وہ انسان کو قدر کی صحیح ترتیب سکھاتی ہے۔ جب یہ ترتیب ٹوٹتی ہے تو ناارجمند چیزیں ارجمند بن بیٹھتی ہیں، اور ارجمند انسانیت پامال ہو جاتی ہے۔ اقبال اسی الٹ پھیر کو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا میں بہت جگہ آدمیت مختلف بتوں کے قدموں میں ذبح ہو رہی ہے۔ کہیں نسل کے نام پر، کہیں قوم کے نام پر، کہیں مفاد کے نام پر، کہیں طاقت کے نام پر، اور کہیں تہذیبی غرور کے نام پر۔ اگر ہم صرف سیاسی تجزیہ کریں اور اس کے اندر کے روحانی جرم کو نہ دیکھیں تو مسئلہ ادھورا سمجھیں گے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل سانحہ انسانیت کا قتل ہے۔

یہ شعر امت کے لیے بڑا تنبیہی پیغام رکھتا ہے۔ اگر وہ توحید کی امانت کی امین ہے تو اسے ہر اس بت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو آدمیت کو ذبح کرتا ہے۔ اس کی غیرت کا معیار یہی ہونا چاہیے کہ انسان کی حرمت سچی رہے اور کوئی ناارجمند مرکز اس پر غالب نہ آئے۔ اقبال کا یہ احتجاج محض شعری نہیں، اخلاقی اور دینی فریضہ بھی ہے۔

مثال

جیسے ایک جھوٹے سردار کی انا کی خاطر پورا خاندان برباد ہو جائے تو اصل نقصان سردار کی جیت نہیں بلکہ انسانیت کی ہار ہوتی ہے، ویسے ہی باطل بتوں کے نیچے سب سے پہلے آدمیت قربان ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ جھوٹے معبودوں کی سب سے ہولناک قیمت انسانیت کی قربانی ہے۔ جب ناارجمند بت مرکز بن جاتے ہیں تو آدمیت گوسفند کی طرح ذبح ہونے لگتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button