در دلش ذوقِ نمو از ملت است
در دلش ذوقِ نمو از ملت است
احتساب کار او از ملت است
ترجمہ
اس (فرد) کے دل میں آگے بڑھنے کا ذوق ملت کے سبب سے ہے۔ اور اس کے عمل کا احتساب بھی ملت ہی سے ممکن ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد کے جذبۂ عمل اور اس کی جواب دہی دونوں کو ملت سے جوڑتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد کی ترقی اور اس کا احتساب، دونوں کا مرکز ملت ہے۔ شعر کے مطابق:
نمو کا ذوق ملت سے:
فرد کے دل میں ترقی اور آگے بڑھنے کی جو لگن ہوتی ہے، وہ ملت ہی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ ملت کا مقصد، اس کا خواب اور اس کی عظمت فرد کو حرکت اور جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔
جب فرد جانتا ہے کہ اس کی محنت کسی بڑے اجتماعی مقصد کے لیے ہے تو اس کے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ اور جوش دوچند ہو جاتا ہے۔
عمل کا احتساب ملت سے:
فرد کے کاموں کا صحیح یا غلط ہونا ملت کے پیمانے پر ہی پرکھا جاتا ہے۔ ملت وہ کسوٹی ہے جس پر فرد کے کردار اور کارکردگی کا حساب ہوتا ہے۔
اکیلا فرد اپنے اعمال کا صحیح جائزہ نہیں لے سکتا، مگر ملت کے سامنے اس کی جواب دہی اسے راہِ راست پر رکھتی ہے۔
ذمہ داری کا احساس:
جب فرد کو یہ احساس ہو کہ اس کے اعمال کا جواب ملت کے سامنے دینا ہے تو اس کے اندر ذمہ داری، دیانت اور احتیاط کا جذبہ بیدار رہتا ہے۔
فرد اور ملت کا دو طرفہ رشتہ:
یوں ملت فرد کو نہ صرف آگے بڑھنے کی توانائی دیتی ہے بلکہ اسے سیدھی راہ پر بھی قائم رکھتی ہے۔ یہی توازن فرد کو ایک مفید اور باکردار انسان بناتا ہے۔
مثال
جیسے ایک کھلاڑی اپنی ٹیم کی خاطر دن رات محنت کرتا ہے اور اسی ٹیم اور اصولوں کے سامنے اس کی کارکردگی جانچی جاتی ہے، ویسے ہی فرد ملت کی خاطر بڑھتا ہے اور ملت ہی اس کا احتساب کرتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد کی ترقی کا جذبہ اور اس کے عمل کی جواب دہی، دونوں کا مرکز و محور ملت ہے، اور اسی سے فرد کی زندگی بامقصد بنتی ہے۔

