زانکه در تکبیر راز بود تست
زانکه در تکبیر راز بود تست
حفظ و نشر لااله مقصود تست
ترجمہ
کیونکہ تکبیر ہی میں تیری ہستی کا راز ہے، اور “لا الٰہ” کی حفاظت اور نشر ہی تیرا مقصود ہے۔
تشریح
یہ شعر اس پوری بحث کے قلب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال یہاں پوری گفتگو کو ایک صاف اور بلند اعلان میں سمیٹ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تیری “بود” یعنی تیری اصل ہستی، تیری شناخت، تیری معنویت، اور تیرے وجود کا راز “تکبیر” میں ہے۔ تکبیر صرف نماز کا لفظی آغاز نہیں، یہ ایک کائناتی اور روحانی اعلان ہے کہ “اللہ اکبر”۔ یعنی سب سے بڑا اللہ ہے؛ کوئی طاقت، کوئی خواہش، کوئی قوم، کوئی ریاست، کوئی انا، کوئی تہذیب، کوئی بازار، کوئی شخصیت اس کے برابر یا اس سے اوپر نہیں۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی اصل ہستی اسی ترتیبِ اقدار سے بنتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں وہ اس راز کو عملی مشن میں بدل دیتے ہیں: “حفظ و نشر لااله مقصود تست”۔ یعنی تیری زندگی کا مقصد صرف اپنے لیے دینداری اختیار کرنا نہیں، بلکہ “لا الٰہ” کی حقیقت کی حفاظت اور اس کا ابلاغ بھی ہے۔ اس میں دو پہلو جمع ہو جاتے ہیں: ایک محافظت، دوسرا اشاعت۔ محافظت کا مطلب یہ کہ تو اپنے دل، فکر، معاشرت، اور تہذیب میں توحید کو کم زور نہ پڑنے دے۔ نشر کا مطلب یہ کہ تو اس حقیقت کو زندگی، اخلاق، دعوت، عدل، علم اور کردار کے ذریعے دنیا تک پہنچائے۔ اقبال اس طرح مسلمان کے وجود کو ایک امانت دار اور ایک مبلغ دونوں بناتے ہیں۔
تکبیر کا راز:
تکبیر کا مطلب صرف اللہ کی بڑائی زبان سے کہنا نہیں، بلکہ دل کے اندر ہر باطل بڑائی کو جگہ سے ہٹا دینا ہے۔ جب انسان سچ مچ “اللہ اکبر” کو قبول کرتا ہے تو اس کی ترجیحات، اس کا خوف، اس کی محبت، اس کی امید، اور اس کے فیصلے سب بدلنے لگتے ہیں۔ اقبال اسی تبدیلی کو “راز بود” کہتے ہیں۔ یعنی مسلمان کی ہستی کی اصل بنیاد یہی ہے کہ اس کے شعور میں بڑا کون ہے۔
اگر یہ راز کم زور پڑ جائے تو مسلمان نام باقی رکھ سکتا ہے، مگر اس کی باطنی ترتیب ٹوٹنے لگتی ہے۔ وہ چھوٹے معبودوں، چھوٹے خوفوں اور چھوٹے مفادات کے ہاتھوں بکھر جاتا ہے۔ اس لیے اقبال تکبیر کو محض لفظ نہیں، وجودی حقیقت مانتے ہیں۔
“لا الٰہ” کی حفاظت:
حفظِ لا الٰہ کا مطلب صرف عقیدے کے جملے کی حفاظت نہیں، اس روح کی حفاظت ہے جو ہر جھوٹے مرکز کی نفی کرتی ہے۔ مسلمان کو اپنے دل میں، اپنے گھروں میں، اپنے اداروں میں، اپنے علم میں، اور اپنی سیاست میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں کوئی باطل معبود خاموشی سے مسند پر تو نہیں آ بیٹھا۔ اگر آ بیٹھا ہے تو حفظِ توحید کا کام پھر سے شروع ہوگا۔
یہ حفاظت مثبت بھی ہے اور منفی بھی: باطل کو ہٹانا بھی، اور حق کو مضبوط کرنا بھی۔ اسی لیے توحید کو زندہ رکھنا ایک مسلسل عمل ہے، ایک بار کا دعویٰ نہیں۔
“لا الٰہ” کا نشر:
نشر سے مراد محض لسانی تبلیغ نہیں۔ توحید کا نشر اس وقت حقیقی ہوتا ہے جب انسان کے کردار، انصاف، شفقت، علم، وفاداری اور اجتماعی نظام میں بھی اس کا اثر جھلکے۔ دنیا اس وقت “لا الٰہ” کی صداقت کو بہتر سمجھتی ہے جب وہ اسے صرف بحث میں نہیں، انسانوں اور معاشروں کی صورت میں دیکھتی ہے۔ اقبال اسی لیے نشر کو مقصد قرار دیتے ہیں، کیونکہ توحید اگر صرف باطن میں قید رہ جائے تو اس کی شہادت ادھوری رہتی ہے۔
یہی امتِ محمدیہ کا تاریخی منصب بھی ہے۔ اسے صرف اپنے لیے محفوظ فرقہ نہیں بننا، بلکہ توحید کا امانت دار اور انسانیت کے سامنے اس حقیقت کا زندہ گواہ بننا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان کی بہت سی الجھنیں اسی لیے ہیں کہ اس کے مقصد کی وضاحت دھندلی ہو جاتی ہے۔ وہ کبھی اپنی شناخت کو صرف ماضی کے فخر میں ڈھونڈتا ہے، کبھی سیاسی ردِ عمل میں، کبھی ثقافتی دفاع میں، اور کبھی فردی نجات تک محدود کر دیتا ہے۔ اقبال اس شعر میں حیرت انگیز صفائی کے ساتھ مقصد متعین کرتے ہیں: تیری ہستی کا راز تکبیر میں ہے، اور تیرا مقصد “لا الٰہ” کی حفاظت و اشاعت ہے۔
اگر امت اس ایک اصول کو سنجیدگی سے لے لے تو اس کی تعلیم، معیشت، سیاست، دعوت، تہذیب اور تربیت سب کا رخ صاف ہو سکتا ہے۔ اقبال یہی مرکزیت دیتے ہیں۔ یہ شعر صرف روحانی موعظہ نہیں، پوری ملی حکمتِ عمل کا خلاصہ ہے۔
مثال
جیسے کسی امانت دار کے لیے اصل سوال یہی ہوتا ہے کہ وہ امانت کو سنبھالے بھی اور ٹھیک جگہ پہنچائے بھی، ویسے ہی امت کے لیے توحید کی حقیقت کو محفوظ رکھنا اور آگے پہنچانا دونوں لازم ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں مسلمان کی ہستی اور اس کے مشن دونوں کو ایک ساتھ متعین کرتے ہیں۔ تکبیر اس کے وجود کا راز ہے، اور “لا الٰہ” کی حفاظت و اشاعت اس کی زندگی کا مقصود ہے۔