خدمت ساقی گری با ما گذاشت
خدمت ساقی گری با ما گذاشت
داد ما را آخرین جامی که داشت
ترجمہ
اس نے ساقی گری کی خدمت ہمارے سپرد کی، اور اپنے پاس جو آخری جام تھا وہ ہمیں دے دیا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت لطیف اور عظیم استعارہ لاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ گویا ایسے ساقی کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے اپنے پاس موجود آخری اور کامل جام امت کے حوالے کیا، اور پھر اسی جام کو دوسروں تک پہنچانے کی خدمت بھی امت کے سپرد کر دی۔ یہاں ختمِ رسالت کے بعد دعوت، تربیت اور خیر رسانی کی ذمہ داری امت پر منتقل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
ساقی گری کا مفہوم:
ساقی صرف خود پینے والا نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں کو بھی سیراب کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ استعارہ نبوی رسالت کے فیضان کی طرف اشارہ کرتا ہے: پیغمبر نے خود حق کا جام وصول کیا، اپنی امت کو پلایا، اور پھر اسی امت کو حکم دیا کہ اس خیر کو دوسروں تک بھی پہنچاؤ۔
یوں امت محض وارث نہیں رہتی، خدمت گزار اور خیر بانٹنے والی جماعت بھی بن جاتی ہے۔
آخرین جام کی اہمیت:
یہ جام آخری ہے، یعنی وحی و رسالت کی کامل اور آخری عطا۔ اس کے بعد کوئی نیا جام آنے والا نہیں۔ اسی لیے اس کی قدر اور ذمہ داری دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت سمجھے: تمہارے ہاتھ میں وہ آخری امانت ہے جو انسانی ہدایت کے لیے کافی اور کامل بنا کر دی گئی ہے۔
اگر اس جام کی قدر نہ کی گئی تو خسارہ صرف اپنا نہیں، پوری انسانیت کا ہوگا جو اس فیض سے محروم ہو سکتی ہے۔
وراثت سے آگے خدمت:
امت کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ کہہ دے ہمیں آخری دین مل گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ساقی گری کر رہے ہیں؟ کیا ہم علم، اخلاق، عدل، رحمت، دعوت اور تہذیبی خیر کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو ہم جام رکھتے ہوئے بھی اپنے فرض سے غافل ہیں۔
اقبال وراثت کو خدمت میں بدلنا چاہتے ہیں، کیونکہ نبوی نسبت کا سچا حق یہی ہے۔
دعوت کی باوقار شکل:
ساقی گری میں جبر نہیں، پیش کش ہے؛ تحقیر نہیں، کرم ہے؛ شور نہیں، لطف ہے۔ امت جب اپنی دعوت کو اس مزاج میں لے آئے تو اس کا خطاب بھی زیادہ نبوی ہو جاتا ہے۔ حق کا جام دوسروں تک پہنچانا طاقت کا اظہار نہیں بلکہ رحمت کی خدمت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال اس ذمہ داری کو خدمت کہتے ہیں، حکومت نہیں۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج امت کے ہاتھ میں بہت سا علم، روایت، اور دینی سرمایہ موجود ہے، مگر دنیا تک اس کی خوبصورت، حکیمانہ اور رحمت بھری ترسیل کمزور پڑ گئی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے پاس آخری جام ہے، اور اس کے ساتھ ساقی گری بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اپنے اندر سیراب ہونا کافی نہیں؛ دوسروں کو بھی سیراب کرنا ہوگا۔
یہی امت کی عالمی امانت اور اس کے وجود کا ایک بڑا مقصد ہے۔
مثال
اگر کسی استاد کو بہترین علم مل جائے مگر وہ اسے اگلی نسل تک منتقل نہ کرے تو اس کی وراثت محدود رہ جاتی ہے۔ جب وہ شاگرد بناتا ہے، تب ہی علم زندہ رہتا ہے۔ امت کی ساقی گری بھی اسی اصول پر ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امتِ مسلمہ کو نبوی رسالت کا آخری اور کامل جام ملا ہے، اور اسی کے ساتھ اسے یہ خدمت بھی سونپی گئی ہے کہ وہ اس خیر کو دنیا تک پہنچائے۔ وراثت کا حق صرف حفاظت نہیں، ابلاغ بھی ہے۔