شاهد مقصود را دیوانه شو
شاهد مقصود را دیوانه شو
طائف این شمع چون پروانه شو
ترجمہ
مقصد کے اس شاہد پر دیوانہ ہو جا، اور اس شمع کے گرد پروانے کی طرح طواف کرنے والا بن جا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد کے ساتھ تعلق کو محض عقلی وابستگی سے اٹھا کر عشق اور جنون کی سطح تک لے جاتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں انہوں نے بتایا تھا کہ مدعا زندگی کی جان ہے، اس کی رگوں کی تیزی ہے، اس کے سوز کی آگ ہے، اور قوم کی حرکت و نظر دونوں کا مرکز ہے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ اس مقصد کے “شاہد” پر دیوانہ ہو جا۔ “شاہد” کے لفظ میں حسن، کشش، جلوہ اور حضوری کا مفہوم شامل ہے۔ یعنی مقصد صرف ایک خشک نظریہ نہیں، ایک ایسا حسن بھی ہے جو دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے نصب العین سے صرف بحث نہ کرے، اس پر عاشق بھی ہو۔
دوسرے مصرعے میں “شمع” اور “پروانہ” کی کلاسیکی تمثیل کے ذریعے مقصد کے گرد عاشقانہ گردش کی تعلیم دی جاتی ہے۔ شمع مرکز ہے، روشنی ہے، سوز ہے، اور پروانہ وہ جان ہے جو اسی کے گرد وفاداری سے گردش کرتی ہے۔ “طائف” کا لفظ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ یہ صرف چکر لگانے کا مفہوم نہیں دیتا، بلکہ ادب، مرکزیت، عبادت اور شعوری وابستگی کا رنگ بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ گویا اقبال مسلمان کو یہ سکھا رہے ہیں کہ سچا مقصد دل کے مرکز میں ایسے حاضر ہونا چاہیے کہ انسان اس کے گرد صرف عقل سے نہیں، عشق سے بھی قائم رہے۔
شاہدِ مقصود کا حسن:
بڑا مقصد صرف ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہوتا، وہ حسن بھی رکھتا ہے۔ اگر مقصد میں جمال نہ ہو تو دل اس کے ساتھ دیر تک نہیں رہتا۔ اقبال مقصد کے “شاہد” کی بات کر کے یہ سمجھاتے ہیں کہ توحید، جمعیت، حق، خدمت، اور امت کی بلندی محض فرائض کا مجموعہ نہیں، ایک خوب صورت جلوہ بھی ہیں۔ جب انسان اس حسن کو دیکھ لیتا ہے تو اس کی اطاعت خشک نہیں رہتی، محبت آشنا ہو جاتی ہے۔
یہی حسن بڑی قربانیوں کو ممکن بناتا ہے۔ لوگ محض قانون کے زور پر تھوڑی دیر چلتے ہیں، مگر حسن کے جذبے سے دیر تک چل سکتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک مقصد کا یہ جمالیاتی پہلو اس کی پائیداری کے لیے ضروری ہے۔
دیوانگی کا مفہوم:
یہاں “دیوانہ شو” سے مراد بے عقل ہو جانا نہیں، بلکہ خود غرض حسابوں سے اوپر اٹھ جانا ہے۔ دیوانگی اس عشق کا نام ہے جو انسان کو چھوٹے فائدوں، وقتی آراموں اور سطحی اندیشوں سے نکال کر کسی بڑے مطلوب کے سپرد کر دے۔ اقبال کے ہاں یہی دیوانگی زندگی کی سب سے اعلیٰ عقل بن سکتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو اصل مرکز کے ساتھ جوڑتی ہے۔
یہ دیوانگی ملت کے لیے بھی اہم ہے۔ جب قوم اپنے مقصد سے جذباتی اور روحانی سطح پر جڑتی ہے تب ہی وہ بڑی تاریخ بناتی ہے۔ صرف مصلحت سے بننے والی جمعیتیں جلد بکھر سکتی ہیں، مگر عشق سے جڑی ہوئی وفاداری زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔
پروانے کا طواف:
پروانے کی گردش شمع کے گرد محض حرکت نہیں، نسبت کی علامت ہے۔ وہ اپنے مرکز کو چھوڑ کر اپنی الگ دنیا نہیں بناتا۔ اس کی ساری حرکت اسی مرکز کے اردگرد معنی پاتی ہے۔ اقبال اسی تمثیل سے سکھاتے ہیں کہ مقصد کو زندگی کے مرکز میں رکھو، پھر علم، عبادت، سیاست، محبت، اور قربانی سب اسی کے گرد آہنگ پا جائیں گے۔
“طائف” کے لفظ سے ایک ملی اشارہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ طواف نظم بھی ہے اور عشق بھی۔ اس میں مرکز سے فاصلے کا شعور بھی ہے اور قربت کی آرزو بھی۔ اقبال کی یہ زبان امتِ محمدیہ کے محسوس مرکز اور اس کے معنوی نصب العین دونوں کو ایک ساتھ روشن کرتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم مقصد کی بات تو کرتے ہیں، مگر بہت دفعہ اس سے ہمارا تعلق صرف علمی یا سیاسی رہ جاتا ہے۔ دل کے اندر وہ حرارت، وہ شمع، وہ حسن، اور وہ وفادار طواف کم محسوس ہوتا ہے۔ اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ بڑا مقصد بحث سے نہیں، عشق سے بھی جیتا جاتا ہے۔ اگر دل اس کے حسن کا اسیر نہ ہو تو عمل جلد بوجھ بن سکتا ہے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے نصب العین کو پھر سے دل کی شمع بنائیں۔ توحید، جمعیت، امت کی خیر خواہی، اور حق کی شہادت ہمارے لیے صرف نعرے نہ رہیں بلکہ ایسے محبوب بنیں جن کے گرد ہماری زندگی پروانے کی طرح وفادارانہ گردش کرے۔ اقبال اسی عاشقانہ مرکزیت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک سچا طالب علم صرف کتاب نہیں پڑھتا بلکہ علم سے محبت بھی رکھتا ہے، ویسے ہی بڑا مقصد صرف سمجھا نہیں جاتا، اس پر دل بھی وار دیا جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں مقصد کے ساتھ عاشقانہ وابستگی کی دعوت دیتے ہیں۔ سچا مدعا شمع بھی ہے اور حسن بھی، اور اس کے گرد پروانے کی طرح وفادار گردش ہی زندگی کو مرکزیت، سوز اور پائیداری عطا کرتی ہے۔