حرف بی صوت اندرین عالم بدیم
حرف بی صوت اندرین عالم بدیم
از رسالت مصرع موزون شدیم
ترجمہ
ہم اس دنیا میں ایک بے آواز حرف تھے، مگر رسالت کی بدولت ایک موزوں مصرع بن گئے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں رسالت کے اثر کو ایک نہایت خوب صورت ادبی استعارے میں ظاہر کرتے ہیں۔ اگر انسان یا قوم رسالت سے خالی ہو تو وہ گویا ایک ایسا حرف ہے جس کے پاس آواز، وزن اور مکمل معنی نہیں۔ مگر جب وہ رسالت سے جڑتا ہے تو ایک پورے مصرع کی طرح آہنگ، تناسب اور مقصد حاصل کر لیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
حرفِ بے صوت کی تصویر:
حرف اپنی جگہ معنی کا بنیادی جزو ہے، مگر اگر اس میں آواز نہ ہو تو وہ نہ صحیح طرح پڑھا جا سکتا ہے، نہ اپنی پوری تاثیر ظاہر کر سکتا ہے۔ اقبال اس تصویر سے بتاتے ہیں کہ رسالت سے پہلے انسان کے پاس وجود تو ہے، قوتیں بھی ہیں، مگر ان کے درمیان کوئی مکمل آہنگ نہیں۔ شخصیت بکھری ہوئی، مقصد کمزور، اور اظہار بے سمت رہ سکتا ہے۔
یعنی انسان کی خام مادہ موجود ہے، مگر اس کی تکمیل ابھی نہیں ہوئی۔
مصرعِ موزون کیوں:
مصرع موزون ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں ترتیب، حسن، وزن، توازن اور بامعنی آہنگ موجود ہو۔ رسالت انسان کی زندگی میں یہی وزن پیدا کرتی ہے۔ وہ خواہش، عقل، عمل، اخلاق، عبادت اور معاشرت سب کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک متناسب زندگی بناتی ہے۔
اقبال کے نزدیک رسالت انسان کو صرف بولنا نہیں سکھاتی، بلکہ اس کے وجود کو قابلِ سماعت اور قابلِ قدر آہنگ بھی عطا کرتی ہے۔
فرد اور امت کی نثر سے نظم:
یہ شعر فرد اور امت دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔ ایک فرد رسالت کے بغیر اپنے اندر بکھرا ہوا رہ سکتا ہے۔ ایک ملت بھی تعداد میں بڑی ہو سکتی ہے مگر اگر اس کے پاس مشترک رسالتی مرکز نہ ہو تو وہ بے وزن اجتماع بن جاتی ہے۔ رسالت اس بکھرے ہوئے مواد کو نظم، وحدت اور حسن دیتی ہے۔
گویا رسالت انسانوں کے ہجوم کو ایک آہنگ دار جماعت میں بدل دیتی ہے۔
ادب کا استعارہ اور دین کی حقیقت:
اقبال خود شاعر ہیں، اس لیے وہ دین کی گہری حقیقتیں شاعرانہ استعاروں سے کھولتے ہیں۔ یہاں لفظ، آواز اور وزن کا نظام دراصل انسان، ہدایت اور زندگی کے نظام کی تمثیل بن گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسالت خشک ضابطہ نہیں، بلکہ حسنِ تناسب کی عطا بھی ہے۔
دین جب صحیح طور پر زندگی میں اترے تو زندگی بدصورت یا بے ربط نہیں رہتی، بلکہ ایک موزون مصرع کی طرح بامعنی ہو جاتی ہے۔
آج کے لیے معنی:
آج بہت لوگ اظہار رکھتے ہیں مگر وزن نہیں، معلومات رکھتے ہیں مگر سمت نہیں، الفاظ رکھتے ہیں مگر سچائی کا آہنگ نہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ رسالت کے بغیر انسان کا اظہار بھی ادھورا رہتا ہے۔ وہ شاید بہت بولے، مگر اس کی آواز میں وہ حیات آفریں وزن نہیں ہوگا جو حق سے آتا ہے۔
رسالت ہی حرف کو نغمہ، اور مواد کو معنی دار ترتیب میں بدلتی ہے۔
مثال
کسی باصلاحیت نوجوان کے پاس بہت امکانات ہو سکتے ہیں، مگر اگر اس کی زندگی کے پاس مقصد اور نظم نہ ہو تو وہ بکھر جاتا ہے۔ جب اسے صحیح رہنمائی ملتی ہے تو وہی صلاحیت ایک متوازن راہ اختیار کر لیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسالت انسان اور ملت دونوں کو آہنگ، وزن اور مکمل معنی عطا کرتی ہے۔ اس کے بغیر وجود حرفِ بے صوت ہے، اور اس کے ساتھ زندگی ایک موزوں مصرع بن جاتی ہے۔